کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
پی ایم-پرنام اسکیم: ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو کیمیاوی کھاد کے استعمال میں کمی اور پائیدار زراعت کے فروغ کے لیے ترغیب دینے کا اقدام
پی کے وی وائی اور ایم او وی سی ڈی این ای آر کے تحت نمایاں پیش رفت حاصل ہوئی ہے، جن کے ذریعے 21 لاکھ ہیکٹیئر سے زیادہ رقبہ احاطہ میں آ چکا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 MAR 2026 4:23PM by PIB Delhi
لوک سبھا میں پوچھے گئے *نشان زد سوال نمبر 211 کے جواب میں، جسے دنیش بھائی مکوانا اور بِبھو پرساد ترائی نے اٹھایا تھا، مرکزی وزیر برائے کیمیکلز و فرٹیلائزرز جناب جگت پرکاش نڈا نے پی ایم-پرنام (زراعت کے انتظام کے لیے متبادل غذائی اجزاء کا فروغ) اسکیم کے بارے میں تفصیلات پیش کیں۔
جناب جگت پرکاش نڈا نے بتایا کہ پی ایم-پرنام اسکیم کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو کیمیائی کھادوں جیسے یوریا، ڈی اے پی، این پی کے اور ایم او پی کے استعمال میں کمی لانے پر مالی ترغیب دینے کا انتظام ہے۔ اگر کوئی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقہ کسی مالی سال میں گزشتہ تین برسوں کی اوسط کھپت کے مقابلے میں کیمیاوی کھادوں کے استعمال میں کمی کرتا ہے تو اسے اس کے بدلے مالی مراعات دی جائیں گی۔ یہ ترغیبی رقم اس کھاد سبسڈی کی 50 فیصد کے برابر ہوگی جو کیمیائی کھادوں کے کم استعمال کی وجہ سے بچت کی صورت میں حاصل ہوگی۔
وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ کل ترغیبی گرانٹ میں سے 95 فیصد متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کو دیا جائے گا، جبکہ باقی 5 فیصد رقم نگرانی، معلومات، تعلیم اور ترسیل، تحقیق، صلاحیت سازی اور انعامات کے مقاصد کے لیے استعمال کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ پی ایم-پرنام اسکیم کی مالی اعانت کھاد سبسڈی میں ہونے والی اس بچت سے کی جاتی ہے جو کیمیاوی کھادوں کے کم استعمال کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ اسکیم کے رہنما اصولوں کے مطابق ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہر مالی سال کے آغاز میں ایکشن پلان پیش کرنا ہوتا ہے جس میں گرانٹس کے مجوزہ استعمال کی تفصیل شامل ہوتی ہے۔ مالی سال کے اختتام پر استعمال کے سرٹیفکیٹ جمع کرانا ضروری ہوتا ہے اور اگلے برسوں کے لیے گرانٹس کا اجراء پچھلی گرانٹس کے درست استعمال پر منحصر ہوتا ہے۔
وزیر موصوف نے یہ بھی بتایا کہ اب تک پی ایم-پرنام اسکیم کے تحت کسی بھی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کو کوئی مالی ترغیب جاری نہیں کی گئی ہے۔
اسکیم کے مقاصد بیان کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ پی ایم-پرنام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو کیمیاوی کھادوں کے استعمال میں کمی اور متبادل و پائیدار زرعی طور طریقوں کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کے ذریعے ترغیب دیتی ہے، جن میں شامل ہیں:
- ماحول دوست زراعت کے لیے نامیاتی، بایو اور نینو کھادوں جیسے متبادل کھادوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی۔
- قدرتی اور نامیاتی کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ دینے کے لیے معاونت۔
- وسائل کے تحفظ سے متعلق ٹیکنالوجیز جیسے مائیکرو آبپاشی اور زیرو ٹلج کو فروغ دینا۔
- انٹیگریٹڈ نیوٹرینٹ مینجمنٹ (غذائی اجزاء کے مربوط انتظام) کے طریقوں کو اپنانے کی ترغیب تاکہ مٹی کی زرخیزی برقرار رہے اور پودوں کو مناسب غذائی اجزا کی فراہمی یقینی ہو۔
- حکومتِ ہندوستان کی موجودہ اسکیموں جیسے پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی) اور شمال مشرقی خطے کے لئے مشن آرگینک ویلیو چین ڈیولپمنٹ (ایم او وی سی ڈی این ای آر) کے ذریعے نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینا اور قدرتی کاشتکاری کے قومی مشن (این ایم این ایف) کے ذریعے قدرتی کاشتکاری کو بڑھاوا دینا۔
محکمہ زراعت و کسان بہبود کے مطابق ان اسکیموں کے تحت نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی) کے تحت (31 دسمبر 2025 تک) 18.84 لاکھ ہیکٹیئر رقبہ احاطہ میں آ چکا ہے اور 16-2015 میں آغاز کے بعد سے 33.93 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔
اسی طرح شمال مشرقی خطے کے لئے مشن آرگینک ویلیو چین ڈیولپمنٹ (ایم او وی سی ڈی این ای آر) کے تحت (31 دسمبر 2025 تک) 2.36 لاکھ ہیکٹیئر رقبہ احاطہ میں آیا ہے اور 2.70 لاکھ کسانوں کو فائدہ حاصل ہوا ہے۔
مزید برآں، قدرتی کاشتکاری کے قومی مشن (این ایم این ایف) کے تحت (9 فروری 2026 تک) 8.57 لاکھ ہیکٹیئر رقبہ احاطہ میں آ چکا ہے اور 17.45 لاکھ کسانوں کا اندراج کیا جا چکا ہے۔
اس اسکیم کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے احاطہ کیے گئے رقبے اور شامل کسانوں کی تعداد کی تفصیلات (9 فروری 2026 تک) ضمیمہ میں فراہم کی گئی ہیں۔
ضمیمہ
لوک سبھا کے نشان زد سوال نمبر 211 کے حصہ (د) کے جواب کے سلسلے میں حوالہ دیا گیا ضمیمہ، جس کا جواب 13 فروری-2026 کو دیا گیا۔
|
Sl. No.
|
States/UTs
|
Farmer Enrolment
|
Area covered (in Ha)
|
|
1
|
Andaman & Nicobar Islands
|
250
|
100
|
|
2
|
Andhra Pradesh
|
407373
|
272847.47
|
|
3
|
Arunachal Pradesh
|
453
|
130.68
|
|
4
|
Assam
|
3721
|
2581.68
|
|
5
|
Bihar
|
50008
|
21253.51
|
|
6
|
Chhattisgarh
|
55061
|
23574.91
|
|
7
|
Dadra & Nagar Haveli and Daman & Diu
|
0
|
0
|
|
8
|
Delhi
|
375
|
150
|
|
9
|
Goa
|
1545
|
607.33
|
|
10
|
Gujarat
|
86862
|
42155.09
|
|
11
|
Haryana
|
10325
|
9098.19
|
|
12
|
Himachal Pradesh
|
61752
|
21981.62
|
|
13
|
Jammu & Kashmir
|
19387
|
6619.25
|
|
14
|
Jharkhand
|
11201
|
4498.67
|
|
15
|
Karnataka
|
122731
|
65072.1
|
|
16
|
Kerala
|
16530
|
6162.97
|
|
17
|
Ladakh
|
563
|
208.86
|
|
18
|
Madhya Pradesh
|
142676
|
82933.59
|
|
19
|
Maharashtra
|
136085
|
37901.21
|
|
20
|
Manipur
|
6316
|
2680.87
|
|
21
|
Meghalaya
|
5902
|
2066.62
|
|
22
|
Mizoram
|
13016
|
8361.46
|
|
23
|
Nagaland
|
7212
|
3158.72
|
|
24
|
Odisha
|
60415
|
24044.91
|
|
25
|
Puducherry
|
747
|
249.25
|
|
26
|
Punjab
|
5104
|
1768.24
|
|
27
|
Rajasthan
|
206492
|
90242.67
|
|
28
|
Tamil Nadu
|
5819
|
2613.23
|
|
29
|
Telangana
|
61173
|
35774.89
|
|
30
|
Tripura
|
13604
|
5218.94
|
|
31
|
Uttar Pradesh
|
210774
|
73732.32
|
|
32
|
Uttarakhand
|
22481
|
9522.03
|
|
33
|
West Bengal
|
0
|
0
|
|
Total
|
|
1745953
|
857311.28
|
******
ش ح ۔ م ع ۔ م ص
(U : 4009 )
(ریلیز آئی ڈی: 2239852)
وزیٹر کاؤنٹر : 11