خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
حکومت نے 27 نومبر 2024 کو قومی مہم "بال ویواہ مکت بھارت" کا آغاز کیا، جس کا مقصد پورے حکومتی اور سماجی نقطۂ نظر کے ذریعے ہندوستان کو بچوں کی شادی سے پاک بنانا ہے
بال ویواہ مکت بھارت پہل کے تحت 100 دن کی خصوصی مہم 4 دسمبر 2025 کو شروع کی گئی تھی
چائلڈ ہیلپ لائن (1098) مصیبت میں مبتلا بچوں کے لیے چوبیس گھنٹے(24x7) ٹول فری ہنگامی آؤٹ ریچ سروس فراہم کرتی ہے، جس میں کم عمری کی شادی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 MAR 2026 4:09PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند نے کم عمری کی شادی پر روک لگانے اور چائلڈ لیبر کی ممانعت کے لیے کم عمری کی شادی کی ممانعت ایکٹ، 2006 (پی سی ایم اے) اور چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ لیبر (ممانعت و ضابطہ) ایکٹ، 1986 نافذ کیے ہیں، تاکہ ان جرائم کی روک تھام کی جا سکے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیری کارروائی کی جا سکے۔
چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ لیبر (ممانعت و ضابطہ) ایکٹ، 1986 کی دفعہ 17 اے کے مطابق ایکٹ کی دفعات کے مؤثر نفاذ کے لیے ضلعی مجسٹریٹ کو اختیارات اور فرائض تفویض کیے گئے ہیں۔ ضلعی مجسٹریٹ اپنے ماتحت افسران کو اپنی مقامی حدود میں ان اختیارات کے استعمال کے لیے ڈسٹرکٹ نوڈل آفیسرز (ڈی این اوز) کے طور پر نامزد کرتے ہیں۔ مزید برآں، دفعہ 17 بی ایکٹ کے نفاذ کے لیے وقتاً فوقتاً معائنہ اور نگرانی کی فراہمی کرتی ہے۔ اس سلسلے میں وزارتِ محنت و روزگار نے نفاذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے لیے رہنمائی فراہم کرنے کی غرض سے ایک معیاری آپریٹنگ طریقۂ کار (ایس او پی) بھی جاری کیا ہے۔
مزید برآں، پی سی ایم اے کی دفعہ 16 ریاستی حکومت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ پوری ریاست یا اس کے کسی متعین حصے کے لیے ایک یا ایک سے زیادہ افسران کو چائلڈ میرج پروہیبیشن آفیسرز (سی ایم پی اوز) کے طور پر مقرر کرے، جو نوٹیفکیشن میں بیان کردہ علاقے یا علاقوں میں دائرۂ اختیار رکھتے ہوں۔ اس دفعہ میں سی ایم پی اوز کے فرائض کی بھی وضاحت کی گئی ہے، جن میں مناسب کارروائی کے ذریعے کم عمری کی شادیوں کو روکنا، ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کے لیے شواہد جمع کرنا، افراد اور مقامی باشندوں کو مشورہ دینا کہ وہ کم عمری کی شادیوں کو فروغ دینے، اس میں مدد کرنے یا اس کی اجازت دینے سے باز رہیں، کم عمری کی شادی کے مضر اثرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور اس مسئلے پر کمیونٹی کو حساس بنانا شامل ہے۔
یہ تمام حکام متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے براہِ راست انتظامی کنٹرول اور نگرانی میں کام کرتے ہیں۔
نفاذ کو مضبوط بنانے اور کم عمری کی شادی کے خاتمے کی سمت میں پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے حکومت نے 27 نومبر 2024 کو قومی مہم "بال ویواہ مکت بھارت" کا آغاز کیا، جس کا مقصد پورے حکومتی اور سماجی نقطۂ نظر کے ذریعے ہندوستان کو بچوں کی شادی سے پاک بنانا ہے۔ یہ مہم بیداری پیدا کرنے، کمیونٹی کو متحرک کرنے، چائلڈ میرج پروہیبیشن آفیسرز (سی ایم پی اوز) کے کردار اور صلاحیت کو مضبوط بنانے، معاملات کی بروقت رپورٹنگ کی حوصلہ افزائی کرنے اور کم عمری کی شادی کے خطرے سے دوچار لڑکیوں کی نشاندہی کرنے پر مرکوز ہے، تاکہ ان کی تعلیم، ہنر مندی اور بااختیار بنانے کو یقینی بنایا جا سکے۔
مزید برآں، کامیابیوں کو اجاگر کرنے اور کوششوں کو تیز کرنے کے لیے بال ویواہ مکت بھارت پہل کے تحت 100 دن کی خصوصی مہم 4 دسمبر 2025 کو شروع کی گئی۔ اس مہم میں اداروں، کمیونٹی لیڈروں اور خدمات فراہم کرنے والوں تک رسائی کے ساتھ ساتھ بال ویواہ مکت بھارت پورٹل پر سی ایم پی اوز کی تفصیلات اپ لوڈ کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے۔ یہ مہم مختلف موضوعاتی مراحل میں نافذ کی جا رہی ہے، جس میں تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں اور شادی سے متعلق خدمات فراہم کرنے والوں کے ساتھ اشتراک، اور گرام پنچایتوں اور میونسپل وارڈوں کو اپنے دائرۂ اختیار کو بچوں کی شادی سے پاک قرار دینے کے لیے متحرک کرنا شامل ہے۔
ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم بال ویواہ مکت بھارت پورٹل (https://stopchildmarryage.wcd.gov.in) کم عمری کی شادی کے واقعات کی رپورٹنگ، معلومات کے فروغ اور عہد ناموں کے اندراج کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ 9 مارچ 2026 تک بیداری کے پروگرام 11.81 کروڑ سے زیادہ شہریوں تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ اس پورٹل پر کم عمری کی شادی کے خلاف 40 لاکھ سے زائد عہد درج کیے جا چکے ہیں۔ یہ پورٹل ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گرام پنچایت کی سطح تک 66,000 سے زیادہ سی ایم پی اوز کے ڈیٹا بیس کے طور پر بھی کام کرتا ہے، جس سے بروقت رپورٹنگ اور فوری مداخلت ممکن ہوتی ہے۔
حکومت 22 جنوری 2015 کو شروع کیے گئے مشن شکتی کے تحت بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی) پروگرام کو بھی نافذ کر رہی ہے، جس کا مقصد صنفی بنیاد پر امتیاز کو ختم کرنا اور بچیوں کو بااختیار بنانا ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر) اور نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی (این اے ایل ایس اے) جیسے اداروں کے ذریعے بھی آگاہی مہمات اور آؤٹ ریچ سرگرمیاں چلائی جاتی ہیں، جو ہیلپ لائن 15100 کے ذریعے مفت قانونی امداد فراہم کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ چائلڈ ہیلپ لائن (1098) پولیس، چائلڈ میرج پروہیبیشن آفیسرز (سی ایم پی اوز) اور ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے ساتھ مل کر پریشانی میں مبتلا بچوں کے لیے 24 گھنٹے ٹول فری ہنگامی آؤٹ ریچ سروس فراہم کرتی ہے، جس میں کم عمری کی شادی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔ چائلڈ ہیلپ لائن ہنگامی ردِعمل کے لیے ایمرجنسی رسپانس سپورٹ سسٹم (ای آر ایس ایس–112) کے ساتھ بھی مربوط ہے۔ اس کے علاوہ ہنگامی اور غیر ہنگامی مدد فراہم کرنے کے لیے خواتین کی ہیلپ لائن (181) بھی دستیاب ہے۔
ان قانونی دفعات، نفاذ کے طریقۂ کار، کمیونٹی کو متحرک کرنے کے اقدامات اور آگاہی مہمات کے ذریعے حکومت، ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ملک میں کم عمری کی شادی اور چائلڈ لیبر کے تدریجی خاتمے کے لیے ایک جامع روڈ میپ پر عمل پیرا ہے۔
جبکہ خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت پالیسی اور پروگراماتی معاونت فراہم کرتی ہے، کم عمری کی شادیوں کی ممانعت اور روک تھام کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ ’پولیس‘ اور ’پبلک آرڈر‘ آئینِ ہند کے تحت ریاستی مضامین ہیں، جو انہیں موجودہ قوانین کے تحت ایسے جرائم کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔
یہ معلومات خواتین و اطفال کی ترقی کی مرکزی وزیر محترمہ انپورنا دیوی نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
****
(ش ح۔اس ک )
UR-4002
(ریلیز آئی ڈی: 2239810)
وزیٹر کاؤنٹر : 18