جل شکتی وزارت
قبائلی اور پسماندہ علاقوں میں پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 MAR 2026 3:25PM by PIB Delhi
جل شکتی کے وزیر مملکت جناب وی سومنا نےآج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ:
ملک کے ہر دیہی گھر بشمول قبائلی اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے کنبوں کو باقاعدہ اور طویل مدتی بنیادوں پر مقررہ معیار کے مطابق مناسب مقدار میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے، حکومتِ ہند ریاستوں کے اشتراک سے اگست 2019 سے جل جیون مشن(جے جے ایم) - ہر گھر جل نافذ کر رہی ہے۔
جل جیون مشن میں دیہی گھروں کی کوریج کے لیے ایک ہمہ گیر نقطۂ نظر اپنایا گیا ہے۔ مزید برآں، اس مشن کے تحت فنڈز کی تقسیم کے دوران دیہی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی آبادی کو 10 فیصد ترجیحی اہمیت دی گئی ہے تاکہ ان کی شمولیت کو اولیت دی جا سکے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ ان دیہاتوں کی کوریج کو ترجیح دیں جہاں ایس / ایس ٹی آبادی کی کثرت ہے۔ مزید یہ کہ، جل جیون مشن کے تحت سالانہ فنڈز کا بالترتیب 22 فیصد اور 10 فیصد حصہ لازمی طور پر درج فہرست ذاتوں کے لیے ڈیولپمنٹ ایکشن پلان (ڈی اے پی ایس سی) اور درج فہرست قبائل کے لیے ڈیولپمنٹ ایکشن پلان (ڈی اے پی ایس ٹی) کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ گزشتہ تین سال اور رواں سال کے دوران ڈی اے پی ایس سی اور ڈی اے پی ایس ٹی کے تحت مرکزی فنڈز کے اجرا اور ان کے استعمال کی ریاست وار اور سال وار تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔
ریاستوں کی رپورٹ کے مطابق، درج فہرست ذاتوں کی اکثریتی بستیوں میں موجود 215.65 لاکھ دیہی گھروں میں سے آج کی تاریخ تک 176.42 لاکھ (81.81فیصد) سے زیادہ گھروں کو نل کے پانی کے کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح، درج فہرست قبائل کی اکثریتی بستیوں کے 216.43 لاکھ دیہی گھروں میں سے اب تک 162.71 لاکھ (75.18فیصد) سے زیادہ گھروں کو نل کے پانی کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔
مزید برآں، صفائی ستھرائی ریاست کا موضوع ہے۔ سوچھ بھارت مشن (دیہی ) [ایس بی ایم (جی)] ایک مرکزی اسپانسر شدہ اسکیم ہے اور اس کے دوسرے مرحلےپر عملدرآمد ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حکومتیں کر رہی ہیں۔ ہر مالی سال کے آغاز میں ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ان کے سالانہ نفاذ کے منصوبے (اے آئی پی) میں پیش کردہ مطالبات اور مرکز کے پاس دستیاب بجٹ کی بنیاد پر مجموعی طور پر فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔ مختص کردہ فنڈز میں سے 22 فیصد درج فہرست ذاتوں کے ترقیاتی ایکشن پلان (ڈی اے پی ایس سی) کے لیے اور 10 فیصد درج فہرست قبائل کے ترقیاتی ایکشن پلان (ڈی اے پی ایس ٹی) کے لیے مخصوص ہے۔ سوچھ بھارت مشن (دیہی) کے تحت گزشتہ 3 سال کے دوران ریاست وار مرکزی حصے کی تخصیص، اجرا اور اخراجات کی تفصیلات ضمیمہ- I I میں دی گئی ہیں۔
سوچھ بھارت مشن (دیہی) کے دوسرے مرحلے کے رہنما خطوط کے مطابق، ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو پروگرام کے نفاذ کا وقتاً فوقتاً تشخیصی مطالعہ کرنا چاہیے۔ اگرچہ پینے کے پانی اور صفائی کے محکمے (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) نے گزشتہ 3 سال کے دوران ایس بی ایم (جی) کا کوئی باضابطہ تخمینہ نہیں لگایا ہے، تاہم محکمہ مختلف سطحوں پر باقاعدگی سے جائزہ لیتا ہے تاکہ ریاستوں کی جانب سے پروگرام کے نفاذ اور فنڈز کے استعمال کی پیش رفت کو دیکھا جا سکے۔
تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جل جیون مشن (جے جے ایم) کے تحت مالی بے ضابطگیوں اور کام کے ناقص معیار کے حوالے سے مختلف ذرائع جیسے کہ میڈیا رپورٹس، ازخود نوٹس، عوامی نمائندوں کے حوالے، شہریوں اور شکایات کے پورٹل وغیرہ سے مجموعی طور پر 18,790 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ریاستوں کی رپورٹ کے مطابق، اب تک 635 محکمہ جاتی اہلکاروں، 1,020 ٹھیکیداروں اور 155 تھرڈ پارٹی انسپکشن ایجنسیوں (ٹی پی آئی اے) کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ موصول ہونے والی شکایات اور اہلکاروں، ٹھیکیداروں اور تھرڈ پارٹی ایجنسیوں کے خلاف کی گئی کارروائی کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-III میں درج ہیں۔ بے ضابطگیوں میں ملوث محکمہ جاتی اہلکاروں کے خلاف طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق معطلی، محکمہ جاتی انکوائری اور چارج شیٹ کے اجرا سمیت انتظامی کارروائیاں جاری ہیں۔ ٹھیکیداروں کے معاملے میں، خلاف ورزی کی نوعیت کے لحاظ سے بلیک لسٹ کرنے یا بلیک لسٹ کرنے کی سفارش، معاہدوں کی منسوخی، کام سے روکنے، بیعانہ رقم (ای ایم ڈی) کی ضبطی اور جرمانے عائد کرنے جیسی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ جہاں تک تھرڈ پارٹی ایجنسیوں کا تعلق ہے، متعلقہ اہلکاروں کو فہرست سے نکال دیا گیا ہےاور دیگر صورتوں میں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ رقم کی واپسی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں، جل جیون مشن (جے جے ایم) کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو بارہا مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی مالی، طریقۂ کار یا معیار سے متعلق خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائیں۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر شکایت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے، فوری طور پر فیلڈ ویریفکیشن کی جائے اور مشن کی شفافیت اور جوابدہی کو برقرار رکھنے کے لیے بغیر کسی استثنیٰ کے تمام ضروری تادیبی، معاہداتی اور قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔
اس کے علاوہ، محکمے نے پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی نگرانی اور زمینی تصدیق کو مضبوط بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں ریاستی حکام کے ذریعے اسکیموں کا مشترکہ معائنہ، جل ادھیان سیوا اور جل سیوا آکلن شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد فیلڈ ویریفکیشن کرنا اور جل جیون مشن کے تحت دیہی پینے کے پانی کی فراہمی کی اسکیموں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔
جل جیون مشن (جے جے ایم): گزشتہ تین سال اور رواں سال کے دوران ڈی اے پی ایس سی اور ڈی اے پی ایس ٹی کے تحت مرکزی فنڈز کے اجرا اور استعمال کی ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ وار تفصیلات
|
|
مرکزی فنڈز کا اجرا اور ریاستوں کی جانب سے رپورٹ کردہ استعمال شدہ رقم (بشمول غیر استعمال شدہ بیلنس)
(رقم کروڑ روپے میں)
|
|
نمبر شمار
|
ریاست/یو ٹی
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26* (10-03-2026 تک)
|
|
مرکزی اجراء
|
مرکزی اخراجات
|
مرکزی اجراء
|
مرکزی اخراجات
|
مرکزی اجراء
|
مرکزی اخراجات
|
مرکزی اجراء
|
مرکزی اخراجات
|
|
|
1
|
انڈمان و نکوبار جزائر
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
-
|
35.54
|
203.09
|
321.53
|
30.00
|
207.87
|
-
|
-
|
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
-
|
0.02
|
-
|
0.01
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
|
4
|
آسام
|
350.00
|
0.01
|
394.66
|
739.99
|
156.90
|
161.81
|
-
|
-
|
|
|
5
|
بہار
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
|
6
|
ڈی این ایچ اور ڈی ڈی
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
|
7
|
گوا
|
-
|
5.34
|
0.29
|
0.50
|
0.02
|
0.02
|
-
|
-
|
|
|
8
|
گجرات
|
522.30
|
490.28
|
418.95
|
483.07
|
-
|
102.71
|
-
|
-
|
|
|
9
|
ہریانہ
|
143.71
|
185.10
|
151.99
|
180.68
|
-
|
2.24
|
-
|
-
|
|
|
10
|
ہماچل پردیش
|
504.76
|
525.51
|
140.23
|
349.35
|
48.94
|
46.94
|
-
|
-
|
|
|
11
|
جموں و کشمیر
|
265.44
|
115.18
|
287.48
|
370.76
|
69.05
|
182.28
|
-
|
-
|
|
|
12
|
کرناٹک
|
750.59
|
527.22
|
1,415.91
|
1,403.86
|
145.44
|
353.58
|
-
|
-
|
|
|
13
|
کیرالہ
|
396.27
|
397.13
|
155.63
|
315.45
|
132.17
|
149.40
|
-
|
-
|
|
|
14
|
مدھیہ پردیش
|
687.10
|
1,272.10
|
1,242.67
|
1,493.86
|
564.93
|
567.56
|
-
|
-
|
|
|
15
|
مہاراشٹر
|
731.82
|
486.49
|
943.28
|
1,311.63
|
198.09
|
269.61
|
-
|
-
|
|
|
16
|
لکشدیپ
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
|
17
|
منی پور
|
-
|
-
|
-
|
0.64
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
|
18
|
میگھالیہ
|
-
|
-
|
6.55
|
6.32
|
4.15
|
4.35
|
-
|
1.73
|
|
|
19
|
میزورم
|
-
|
-
|
0.06
|
0.06
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
|
20
|
ناگالینڈ
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
|
21
|
اڈیشہ
|
411.69
|
546.44
|
615.71
|
743.44
|
88.48
|
165.12
|
-
|
-
|
|
|
22
|
پڈوچیری
|
-
|
0.39
|
0.26
|
1.36
|
1.27
|
1.25
|
-
|
-
|
|
|
23
|
پنجاب
|
-
|
121.18
|
53.56
|
44.87
|
21.67
|
28.82
|
-
|
-
|
|
|
24
|
راجستھان
|
1,642.56
|
935.10
|
-
|
772.90
|
402.89
|
348.93
|
-
|
30.50
|
|
|
25
|
سکم
|
-
|
0.76
|
8.65
|
10.08
|
16.88
|
16.58
|
-
|
0.30
|
|
|
26
|
تمل ناڈو
|
284.45
|
154.22
|
1,057.89
|
858.36
|
227.15
|
623.42
|
-
|
-
|
|
|
27
|
تریپورہ
|
-
|
0.95
|
116.78
|
105.37
|
51.25
|
65.49
|
-
|
-
|
|
|
28
|
اتر پردیش
|
3,170.25
|
3,366.09
|
5,000.51
|
5,890.50
|
1,781.49
|
1,921.15
|
-
|
-
|
|
|
29
|
مغربی بنگال
|
1,080.64
|
974.56
|
1,594.56
|
1,724.55
|
853.63
|
1,016.43
|
-
|
-
|
|
|
30
|
چھتیس گڑھ
|
323.89
|
400.40
|
479.38
|
500.68
|
35.13
|
56.98
|
-
|
-
|
|
|
31
|
جھارکھنڈ
|
494.74
|
472.51
|
589.27
|
658.94
|
3.19
|
3.00
|
-
|
0.11
|
|
|
32
|
اتراکھنڈ
|
339.78
|
451.68
|
522.63
|
612.08
|
159.95
|
219.97
|
-
|
-
|
|
|
33
|
تلنگانہ
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
|
34
|
لداخ
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
|
|
کل
|
12,100.00
|
11,464.19
|
15,400.00
|
18,900.85
|
4,992.68
|
6,515.51
|
-
|
32.64
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
* اب تک 2025-26 میں کسی بھی ریاست / یو ٹی کو کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا ہے ماخذ: جے جے ایم- آئی ایم آئی ایس
|
|
ڈی اے پی ایس ٹی کے تحت مرکزی فنڈز کا اجرا ءاور ریاستوں کی جانب سے رپورٹ کردہ استعمال شدہ رقم (بشمول گزشتہ سالوں کا غیر استعمال شدہ بیلنس)
(رقم کروڑ روپے میں)
|
|
نمبر شمار
|
ریاست/یو ٹی
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26* (10-03-2026 تک)
|
|
مرکزی اجراء
|
مرکزی اخراجات
|
مرکزی اجراء
|
مرکزی اخراجات
|
مرکزی اجراء
|
مرکزی اخراجات
|
مرکزی اجراء
|
مرکزی اخراجات
|
|
1
|
انڈمان و نکوبارجزائر
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
-
|
18.90
|
47.20
|
54.89
|
24.35
|
22.68
|
-
|
-
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
-
|
117.63
|
223.85
|
273.25
|
60.77
|
55.44
|
-
|
-
|
|
4
|
آسام
|
167.77
|
-
|
691.97
|
854.42
|
396.32
|
360.59
|
-
|
-
|
|
5
|
بہار
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
6
|
ڈی این ایچ اور ڈی ڈی
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
7
|
گوا
|
-
|
-
|
1.28
|
1.88
|
0.07
|
0.17
|
-
|
-
|
|
8
|
گجرات
|
709.88
|
664.69
|
316.77
|
379.41
|
-
|
2.26
|
-
|
-
|
|
9
|
ہریانہ
|
-
|
0.00
|
-
|
0.00
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
10
|
ہماچل پردیش
|
18.46
|
25.65
|
-
|
36.90
|
-
|
2.94
|
-
|
-
|
|
11
|
جموں و کشمیر
|
218.47
|
177.91
|
321.62
|
388.86
|
116.48
|
168.63
|
-
|
-
|
|
12
|
کرناٹک
|
232.43
|
265.07
|
290.07
|
445.93
|
31.83
|
31.63
|
-
|
-
|
|
13
|
کیرالہ
|
39.94
|
49.17
|
10.97
|
18.48
|
15.06
|
16.13
|
-
|
-
|
|
14
|
مدھیہ پردیش
|
614.66
|
595.12
|
1,100.94
|
1,273.68
|
466.60
|
468.37
|
-
|
-
|
|
15
|
مہاراشٹر
|
514.38
|
473.14
|
757.59
|
972.38
|
214.51
|
247.76
|
-
|
-
|
|
16
|
لکشدیپ
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
17
|
منی پور
|
-
|
21.50
|
-
|
2.70
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
18
|
میگھالیہ
|
60.00
|
126.32
|
484.97
|
485.92
|
284.79
|
284.48
|
-
|
0.11
|
|
19
|
میزورم
|
-
|
-
|
95.80
|
90.14
|
12.58
|
15.89
|
-
|
-
|
|
20
|
ناگالینڈ
|
-
|
-
|
185.03
|
185.03
|
12.94
|
14.79
|
-
|
-
|
|
21
|
اوڈیشہ
|
419.79
|
647.67
|
364.29
|
491.02
|
61.22
|
115.11
|
-
|
-
|
|
22
|
پڈوچیری
|
-
|
-
|
-
|
0.75
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
23
|
پنجاب
|
-
|
0.01
|
-
|
-
|
-
|
0.01
|
-
|
-
|
|
24
|
راجستھان
|
948.17
|
668.25
|
53.93
|
501.60
|
175.66
|
302.11
|
-
|
15.53
|
|
25
|
سکم
|
-
|
-
|
71.10
|
69.70
|
16.92
|
18.54
|
-
|
-
|
|
26
|
تمل ناڈو
|
13.97
|
9.94
|
28.35
|
39.89
|
7.57
|
11.89
|
-
|
-
|
|
27
|
تریپورہ
|
-
|
1.94
|
250.09
|
253.82
|
112.55
|
124.67
|
-
|
-
|
|
28
|
اتر پردیش
|
118.39
|
107.50
|
76.23
|
112.88
|
24.62
|
28.49
|
-
|
-
|
|
29
|
مغربی بنگال
|
266.35
|
137.10
|
182.18
|
305.89
|
115.96
|
120.80
|
-
|
-
|
|
30
|
چھتیس گڑھ
|
800.33
|
761.12
|
823.05
|
828.70
|
48.37
|
98.83
|
-
|
-
|
|
31
|
جھارکھنڈ
|
527.90
|
507.41
|
578.16
|
624.82
|
53.80
|
42.04
|
-
|
4.31
|
|
32
|
اتراکھنڈ
|
42.38
|
65.60
|
44.55
|
93.28
|
16.42
|
27.50
|
-
|
-
|
|
33
|
تلنگانہ
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
34
|
لداخ
|
-
|
38.68
|
-
|
16.05
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
|
کل
|
5,713.28
|
5,480.30
|
7,000.00
|
8,802.28
|
2,269.40
|
2,581.74
|
-
|
19.95
|
* اب تک 2025-26 میں کسی بھی ریاست / یو ٹی کو کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا ہے ماخذ:جے جے ایم- آئی ایم آئی ایس
ضمیمہ-II
ایس بی ایم (جی) کے تحت پچھلے 3 سال کے دوران ایس بی ایم (جی) کے تحت ریاست/یو ٹی- وار مرکزی مختص حصہ، جاری کیا گیا حصہ اور اخراجات
مالی سال 2022-23
کروڑ روپے میں
|
نمبر شمار
|
ریاست/یو ٹی
|
مرکزی اختصاص
|
منظور شدہ/جاری فنڈ
|
مرکزی اخراجات
|
|
1
|
انڈمان و نکوبار جزائر
|
1.37
|
0.28
|
1.44
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
676.79
|
147.03
|
274.13
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
29.43
|
14.72
|
7.87
|
|
4
|
آسام
|
495.71
|
214.45
|
253.94
|
|
5
|
بہار
|
1,544.86
|
711.49
|
639.88
|
|
6
|
چھتیس گڑھ
|
355.07
|
177.54
|
133.30
|
|
7
|
ڈی این ایچ اور ڈی ڈی
|
1.63
|
0.00
|
0.98
|
|
8
|
گوا
|
34.38
|
25.19
|
19.01
|
|
9
|
گجرات
|
284.68
|
53.63
|
102.14
|
|
10
|
ہریانہ
|
202.77
|
0.00
|
38.84
|
|
11
|
ہماچل پردیش
|
198.07
|
38.28
|
64.79
|
|
12
|
جموں و کشمیر
|
494.20
|
116.79
|
132.33
|
|
13
|
جھارکھنڈ
|
300.64
|
70.03
|
130.51
|
|
14
|
کرناٹک
|
665.34
|
155.84
|
148.74
|
|
15
|
کیرالہ
|
308.04
|
74.00
|
16.11
|
|
16
|
لداخ
|
17.30
|
1.28
|
2.12
|
|
17
|
لکشدیپ
|
7.74
|
1.94
|
0.02
|
|
18
|
مدھیہ پردیش
|
411.14
|
184.56
|
320.02
|
|
19
|
مہاراشٹر
|
1,740.11
|
0.00
|
155.00
|
|
20
|
منی پور
|
51.45
|
12.86
|
12.02
|
|
21
|
میگھالیہ
|
92.13
|
16.57
|
36.68
|
|
22
|
میزورم
|
19.67
|
9.84
|
9.52
|
|
23
|
ناگالینڈ
|
39.44
|
19.72
|
14.41
|
|
24
|
اوڈیشہ
|
0
|
0.00
|
255.26
|
|
25
|
پڈوچیری
|
37.80
|
0.00
|
12.96
|
|
26
|
پنجاب
|
168.19
|
42.05
|
74.12
|
|
27
|
راجستھان
|
624.90
|
288.78
|
290.84
|
|
28
|
سکم
|
23.17
|
5.79
|
4.25
|
|
29
|
تمل ناڈو
|
421.10
|
78.47
|
144.28
|
|
30
|
تلنگانہ
|
542.94
|
0.00
|
0.00
|
|
31
|
تریپورہ
|
128.29
|
28.28
|
22.73
|
|
32
|
اتر پردیش
|
1,529.38
|
910.23
|
873.19
|
|
33
|
اتراکھنڈ
|
92.61
|
37.29
|
27.97
|
|
34
|
مغربی بنگال
|
848.16
|
406.01
|
427.24
|
|
کل
|
12,388.50
|
3,842.94
|
4,646.64
|
مالی سال-02023-24
کروڑ روپے میں
|
نمبر شمار
|
ریاست/یو ٹی
|
مرکزی اختصاص
|
منظور شدہ/جاری فنڈ
|
مرکزی اخراجات
|
|
1
|
انڈمان و نکوبار جزائر
|
1.00
|
0.75
|
1.00
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
0.00
|
0.00
|
66.83
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
15.81
|
15.81
|
23.58
|
|
4
|
آسام
|
417.77
|
389.77
|
336.22
|
|
5
|
بہار
|
700.00
|
700.00
|
739.61
|
|
6
|
چھتیس گڑھ
|
83.98
|
83.98
|
100.52
|
|
7
|
ڈی این ایچ اور ڈی ڈی
|
0.00
|
0.00
|
7.47
|
|
8
|
گوا
|
19.61
|
19.61
|
18.58
|
|
9
|
گجرات
|
109.61
|
109.61
|
158.58
|
|
10
|
ہریانہ
|
0.00
|
0.00
|
66.76
|
|
11
|
ہماچل پردیش
|
42.00
|
42.00
|
48.97
|
|
12
|
جموں و کشمیر
|
251.00
|
241.33
|
251.36
|
|
13
|
جھارکھنڈ
|
50.00
|
50.00
|
260.13
|
|
14
|
کرناٹک
|
46.00
|
42.34
|
73.60
|
|
15
|
کیرالہ
|
0.00
|
0.00
|
31.43
|
|
16
|
لداخ
|
8.00
|
5.75
|
5.52
|
|
17
|
لکشدیپ
|
1.00
|
0.00
|
0.57
|
|
18
|
مدھیہ پردیش
|
113.39
|
113.39
|
175.82
|
|
19
|
مہاراشٹر
|
110.45
|
110.45
|
375.36
|
|
20
|
منی پور
|
5.10
|
0.00
|
1.96
|
|
21
|
میگھالیہ
|
41.51
|
20.81
|
27.23
|
|
22
|
میزورم
|
4.99
|
4.99
|
8.71
|
|
23
|
ناگالینڈ
|
31.07
|
31.07
|
31.07
|
|
24
|
اڈیشہ
|
47.00
|
46.52
|
189.61
|
|
25
|
پڈوچیری
|
0.00
|
0.00
|
2.71
|
|
26
|
پنجاب
|
54.81
|
54.81
|
49.32
|
|
27
|
راجستھان
|
70.00
|
69.43
|
132.21
|
|
28
|
سکم
|
8.88
|
6.66
|
8.33
|
|
29
|
تمل ناڈو
|
239.74
|
239.74
|
222.20
|
|
30
|
تلنگانہ
|
25.00
|
14.18
|
21.31
|
|
31
|
تریپورہ
|
71.58
|
35.79
|
47.74
|
|
32
|
اتر پردیش
|
2519.62
|
2506.78
|
1970.31
|
|
33
|
اتراکھنڈ
|
63.75
|
63.75
|
38.18
|
|
34
|
مغربی بنگال
|
720.00
|
720.00
|
592.88
|
|
کل
|
5,872.67
|
5,739.32
|
6,085.68
|
مالی سال 2024-25
کروڑ روپے میں
|
نمبر شمار
|
ریاست/یو ٹی
|
مرکزی اختصاص
|
منظور شدہ/جاری فنڈ
|
مرکزی اخراجات*
|
|
1
|
انڈمان و نکوبار جزائر
|
6.39
|
1.60
|
0.48
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
270.16
|
75.52
|
146.07
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
14.82
|
7.41
|
9.76
|
|
4
|
آسام
|
356.15
|
105.21
|
135.72
|
|
5
|
بہار
|
475.73
|
166.51
|
624.42
|
|
6
|
چھتیس گڑھ
|
182.10
|
0.00
|
84.52
|
|
7
|
ڈی این ایچ اور ڈی ڈی
|
0.71
|
0.00
|
0.74
|
|
8
|
گوا
|
14.32
|
9.70
|
14.11
|
|
9
|
گجرات
|
200.00
|
151.40
|
187.12
|
|
10
|
ہریانہ
|
100.00
|
25.11
|
23.42
|
|
11
|
ہماچل پردیش
|
44.17
|
28.65
|
53.92
|
|
12
|
جموں و کشمیر
|
245.00
|
185.00
|
188.44
|
|
13
|
جھارکھنڈ
|
107.85
|
0.00
|
36.00
|
|
14
|
کرناٹک
|
200.00
|
95.27
|
95.27
|
|
15
|
کیرالہ
|
50.00
|
11.67
|
38.14
|
|
16
|
لداخ
|
10.20
|
2.55
|
1.66
|
|
17
|
لکشدیپ
|
2.70
|
0.00
|
0.23
|
|
18
|
مدھیہ پردیش
|
242.10
|
121.05
|
144.62
|
|
19
|
مہاراشٹر
|
463.26
|
189.14
|
197.53
|
|
20
|
منی پور
|
2.00
|
0.00
|
11.63
|
|
21
|
میگھالیہ
|
107.64
|
0.00
|
13.26
|
|
22
|
میزورم
|
17.68
|
8.83
|
9.92
|
|
23
|
ناگالینڈ
|
27.59
|
20.69
|
21.37
|
|
24
|
اوڈیشہ
|
200.00
|
111.26
|
111.26
|
|
25
|
پڈوچیری
|
5.00
|
0.00
|
0.15
|
|
26
|
پنجاب
|
92.48
|
41.30
|
70.76
|
|
27
|
راجستھان
|
230.00
|
98.18
|
101.89
|
|
28
|
سکم
|
14.79
|
7.61
|
7.18
|
|
29
|
تمل ناڈو
|
300.00
|
99.56
|
195.05
|
|
30
|
تلنگانہ
|
164.07
|
9.56
|
12.80
|
|
31
|
تریپورہ
|
75.22
|
21.78
|
38.65
|
|
32
|
اتر پردیش
|
1,309.40
|
785.64
|
1,648.79
|
|
33
|
اتراکھنڈ
|
48.68
|
8.89
|
44.09
|
|
34
|
مغربی بنگال
|
475.51
|
150.47
|
505.50
|
|
کل
|
6,055.72
|
2,539.56
|
4,774.47
|
*پی ایف ایم ایس پر رپورٹ کردہ ڈیٹا کے مطابق، یو سی اور اے ایس اے جمع کرانے کے بعد حتمی اعداد و شمار تبدیل ہو سکتے ہیں۔
ضمیمہ -III
موصول ہونے والی شکایات اور اہلکاروں، ٹھیکیداروں اور فریق ثالث ایجنسیوں کے خلاف 03.03.2026 تک کی گئی کارروائی کی تفصیل
|
نمبر شمار
|
ریاست / یو ٹی
|
شکایات کی کل تعداد
|
محکمے کے افسران کی تعداد جن کے خلاف کارروائی کی گئی
|
کنٹریکٹروں کی تعداد جن کے خلاف کارروائی کی گئی
|
ٹی پی آئی اے کی تعداد جن کے خلاف کارروائی کی گئی
|
|
1
|
انڈمان و نکوبار جزائر
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
4
|
آسام
|
1226
|
17
|
3
|
3
|
|
5
|
بہار
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
6
|
چھتیس گڑھ
|
329
|
2
|
11
|
1
|
|
7
|
ڈی ڈی اینڈ ڈی این ایچ
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
8
|
گوا
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
9
|
گجرات
|
1
|
12
|
112
|
0
|
|
10
|
ہریانہ
|
4
|
0
|
0
|
0
|
|
11
|
ہماچل پردیش
|
3
|
0
|
0
|
0
|
|
12
|
جموں و کشمیر
|
24
|
0
|
0
|
0
|
|
13
|
جھارکھنڈ
|
152
|
24
|
4
|
3
|
|
14
|
کرناٹک
|
169
|
7
|
99
|
1
|
|
15
|
کیرالہ
|
25
|
1
|
1
|
0
|
|
16
|
لداخ
|
1
|
1
|
0
|
0
|
|
17
|
لکشدیپ
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
18
|
مدھیہ پردیش
|
37
|
151
|
9
|
0
|
|
19
|
مہاراشٹر
|
154
|
1
|
5
|
0
|
|
20
|
منی پور
|
19
|
4
|
39
|
0
|
|
21
|
میگھالیہ
|
8
|
3
|
0
|
0
|
|
22
|
میزورم
|
1
|
0
|
0
|
0
|
|
23
|
ناگالینڈ
|
14
|
6
|
0
|
0
|
|
24
|
اڈیشہ
|
4
|
0
|
1
|
0
|
|
25
|
پڈوچیری
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
26
|
پنجاب
|
6
|
0
|
0
|
0
|
|
27
|
راجستھان
|
176
|
170
|
53
|
2
|
|
28
|
سکم
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
29
|
تمل ناڈو
|
45
|
5
|
2
|
0
|
|
30
|
تلنگانہ
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
31
|
تریپورہ
|
1
|
0
|
388
|
0
|
|
32
|
اتر پردیش
|
16178
|
196
|
120
|
145
|
|
33
|
اتراکھنڈ
|
40
|
35
|
0
|
0
|
|
34
|
مغربی بنگال
|
173
|
0
|
173
|
0
|
|
|
کل
|
18,790
|
635
|
1,020
|
155
|
********
ش ح۔ک ح۔ ف ر
U. No. 3885
(ریلیز آئی ڈی: 2239040)
وزیٹر کاؤنٹر : 12