بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
حکومت نے عالمی سمندری غیر یقینی صورتحال کے درمیان سیکٹرل چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نیشنل شپنگ بورڈ (این ایس بی) کو شامل کیا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 MAR 2026 6:50PM by PIB Delhi
حکومت نے ہندوستان کے جہاز رانی کے شعبے میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے اور بدلتی ہوئی عالمی جیو پولیٹیکل اور تجارتی حرکیات کے درمیان سمندری صلاحیت کو مستحکم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے نیشنل شپنگ بورڈ (این ایس بی) کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی بات چیت کی۔
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں (ایم او پی ایس ڈبلیو) کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے میٹنگ کی صدارت کی، جس میں نیشنل شپنگ بورڈ کے اراکین، صنعت کے قائدین، سمندری اسٹیک ہولڈرز اور وزارت کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر آپریشنل مسائل اور اس شعبے کو متاثر کرنے والی پالیسی ترجیحات پر غور و خوض کیا گیا۔
"عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی دور اندیش قیادت میں ہندوستان ایک بڑی سمندری طاقت بننے کی سمت مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ اسٹریٹجک اصلاحات، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ہم نیلی معیشت کی بے پناہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہے ہیں اور عالمی سمندری تجارت میں ہندوستان کی پوزیشن کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔"
میٹنگ کے دوران شرکاء نے شپنگ انڈسٹری کو درپیش چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا، جو حالیہ عالمی جیو پولیٹیکل پیش رفت، سپلائی چین مینجمنٹ اور سمندری تجارت پر بڑھتے ہوئے آپریشنل دباؤ کے باعث سامنے آئے ہیں۔ بات چیت میں ہندوستان کے جہاز رانی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے، بیڑے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے اور سمندری لاجسٹکس میں لچک کو یقینی بنانے کے لیے پالیسی مداخلتوں کی نشاندہی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ مرکزی وزیر نے ان نکات کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو ہدایت دی کہ ان کے حل کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا جائے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ اس بات چیت کا مقصد حکومت کے طویل مدتی سمندری روڈ میپ کے ساتھ پالیسی اقدامات کو ہم آہنگ کرتے ہوئے صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے اٹھائے گئے اہم خدشات کو بھی دور کرنا ہے۔
میٹنگ میں میری ٹائم امرت کال ویژن 2047 اور میری ٹائم انڈیا ویژن 2030 جیسے اہم قومی اقدامات کے تحت ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جن کا مقصد بندرگاہی بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینا، جہاز رانی کی صلاحیت میں اضافہ کرنا اور ہندوستان کو ایک نمایاں عالمی سمندری مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔
صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل مکالمے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سونووال نے نیشنل شپنگ بورڈ کے کردار کو اجاگر کیا اور اسے شعبے کے مسائل کے حل اور پالیسی سمت متعین کرنے کے لیے ایک اہم مشاورتی پلیٹ فارم قرار دیا۔
اس بات چیت میں نیشنل شپنگ بورڈ (این ایس بی) کے چیئرپرسن، آئی اے ایس (ریٹائرڈ) سمیر کمار کھرے نے بورڈ کے دیگر اراکین اور شپنگ انڈسٹری کے نمائندوں کے ساتھ شرکت کی۔
بورڈ کے ساتھ حکومت کی یہ مشاورت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی سمندری تجارت بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور بدلتی ہوئی سپلائی چین کا سامنا کر رہی ہے، جس سے ہندوستان کے لیے اپنی شپنگ صلاحیتوں اور آپریشنل تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔
عہدیداروں نے کہا کہ یہ بات چیت صنعت کے خدشات کو دور کرنے، کارگو کی بلا تعطل نقل و حرکت کو یقینی بنانے اور سمندری شعبے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

***
UR-3742
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2238578)
وزیٹر کاؤنٹر : 6