خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کے تحت آنگن واڑی مراکز میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مختلف اقدامات


 آنگن واڑی مراکز کو اسمارٹ فونز اور نشوونما کی نگرانی کے آلات فراہم کر کے تکنیکی طور پر بااختیار بنایا گیا، تاکہ خدمات کی مؤثر نگرانی اور فراہمی یقینی بنائی جا سکے

پوشن ٹریکر ایپلی کیشن کو ایک اہم انتظامی آلے کے طور پر نافذ کیا گیا ہے، جو نگرانی اور ریکارڈ رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 MAR 2026 4:35PM by PIB Delhi

مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کے تحت آنگن واڑی مراکز   میں بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ پندرہویں مالیاتی کمیشن کے دور میں ہر سال 10,000 آنگن واڑی مراکز کی شرح سے 50,000 آنگن واڑی مراکز تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ یہ کام منریگا کے ساتھ اشتراک میں کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ہر آنگن واڑی مرکز کے لیے 8 لاکھ روپے منریگا کے تحت، 2 لاکھ روپے پندرہویں مالیاتی کمیشن (یا دیگر غیر مشروط فنڈز) کے تحت اور 2 لاکھ روپے وزارتِ خواتین و اطفال ترقی کی جانب سے فراہم کیے جاتے ہیں، جنہیں مرکز اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان طے شدہ شرح کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ آنگن واڑی مراکز کی عمارتوں کی تعمیر کے لیے دیگر اسکیموں جیسے ارکانِ پارلیمنٹ مقامی علاقہ ترقیاتی اسکیم (ایم پی ایل اے ڈی ایس)، دیہی بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی فنڈ (آر آئی ڈی ایف)، پنچایتی راج اداروں کے لیے مالیاتی کمیشن گرانٹس اور وزارتِ اقلیتی امور کے کثیر شعبہ جاتی ترقیاتی پروگرام (ایم ایس ڈی پی) سے بھی فنڈ حاصل کریں۔

قبائلی آبادی کی ہدفی ترقی کے لیے پردھان منتری جنمن اور دھرتی آبھا جن جاتیہ گرام اتکرش ابھیان کے تحت بھی آنگن واڑی مراکز کی تعمیر کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اسی طرح وائبرنٹ ولیج پروگرام (مرحلہ اول) کے تحت شمالی سرحدی علاقوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

آنگن واڑی مراکز میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے وزارت نے دیگر اقدامات بھی کیے ہیں، جن میں پینے کے پانی اور بیت الخلا کی سہولت کے لیے دی جانے والی رقم کو بالترتیب 10,000 روپے سے بڑھا کر 17,000 روپے اور 12,000 روپے سے بڑھا کر 36,000 روپے کرنا شامل ہے۔

مشن پوشن 2.0 کے تحت سرکاری عمارتوں میں قائم دو لاکھ آنگن واڑی مراکز کو ہر سال 40,000 مراکز کی شرح سے پندرہویں مالیاتی کمیشن کے دور میں سکشم آنگن واڑی مراکز کے طور پر مضبوط بنایا جا رہا ہے، تاکہ بہتر غذائیت کی فراہمی اور ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ سکشم آنگن واڑی مراکز میں روایتی مراکز کے مقابلے میں بہتر بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جاتا ہے، جس میں ایل ای ڈی اسکرین، پانی صاف کرنے کا نظام، پوشن واٹیکا، ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم کا تعلیمی مواد اور بلڈنگ از لرننگ ایڈ (بالا) پینٹنگز شامل ہیں۔

وزارتِ تعلیم کے محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی کے ساتھ اشتراک میں 3 ستمبر 2025 کو سرکاری پرائمری اسکولوں کے اندر آنگن واڑی مراکز کو مشترکہ طور پر قائم کرنے کے لیے رہنما اصول جاری کیے گئے، تاکہ ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم اور بنیادی خواندگی و عددی مہارت کی خدمات کو مضبوط بنایا جا سکے۔ جہاں جسمانی طور پر یہ ممکن نہ ہو، وہاں آنگن واڑی مراکز کو قریبی پرائمری اسکول کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔

مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کے تحت آنگن واڑی مراکز کو تکنیکی طور پر بھی مضبوط بنایا گیا ہے، جس کے لیے اسمارٹ فونز اور بچوں کی نشوونما کی نگرانی کے آلات فراہم کیے گئے ہیں تاکہ خدمات کی فراہمی اور نگرانی مؤثر طریقے سے کی جا سکے۔

مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ہے۔ اس اسکیم کے نفاذ کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے بنیادی ڈھانچے کی تفصیلات درج ذیل لنک پر دستیاب ہیں:
https://www.poshantracker.in/statistics

سال 2020-21 سے 2025-26 تک مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کے تحت بجٹ کی فراہمی کی تفصیل درج ذیل ہے:

(Rupees in crore)

Sl. No.

Financial Year

Budget Allocation (BE)

1

2022-23

20,294.58

2

2023-24

20,554.31

3

2024-25

21,200.00

4

2025-26

21,960.00

 

مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کا تیسری پارٹی کے ذریعے جائزہ اور اثراتی مطالعہ نیتی آیوگ نے سال 2020 اور دوبارہ 2025 میں کیا۔ ان جائزوں میں پایا گیا کہ یہ مشن ملک میں غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور موزوں ہے۔

پوشن ٹریکر ایپلی کیشن کو ایک اہم انتظامی آلے کے طور پر نافذ کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تمام آنگن واڑی مراکز، آنگن واڑی کارکنان اور مستفیدین کی مختلف طے شدہ اشاریوں کی بنیاد پر نگرانی اور ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ پوشن ٹریکر کے تحت ٹیکنالوجی کو بچوں میں قد کے مطابق کم نشوونما، کمزوری اور کم وزن جیسے مسائل کی بروقت شناخت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے آنگن واڑی خدمات سے متعلق تقریباً حقیقی وقت میں ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے، جس میں آنگن واڑی مراکز کا کھلنا، بچوں کی روزانہ حاضری، ابتدائی بچپن کی تعلیم و سرگرمیاں، بچوں کی نشوونما کی نگرانی، گرم پکا ہوا کھانا اور گھر لے جانے والا راشن فراہم کرنا اور نشوونما کی پیمائش شامل ہیں۔

خدمات کی فراہمی کی آخری سطح تک مؤثر نگرانی کے لیے وزارتِ خواتین و اطفال ترقی نے چہرہ شناختی نظام تیار کیا ہے تاکہ گھر لے جانے والے راشن کی تقسیم کے وقت صرف اسی مستحق فرد کو فائدہ ملے جو پوشن ٹریکر میں رجسٹرڈ ہو اور اس کی شناخت کی تصدیق ہو سکے۔

اس کے علاوہ پوشن ٹریکر میں نامزد نمائندہ ماڈیول بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور نوعمر لڑکیوں کو گھر لے جانے والا راشن بلا تعطل فراہم کیا جا سکے۔ اگر کسی وجہ سے رجسٹرڈ مستفید خاتون آنگن واڑی مرکز پر آ کر اپنا راشن وصول نہ کر سکے تو وہ اپنی طرف سے کسی نمائندے کو نامزد کر سکتی ہے جو اس کی جانب سے راشن وصول کرے گا۔ اس نمائندے کو صرف ایک بار ای۔کے وائی سی مکمل کرنا ہوگا، تاہم ہر بار راشن وصول کرتے وقت چہرے کی تصدیق کی جائے گی۔ نامزد نمائندہ مقرر ہونے کے باوجود مستفید خاتون خود بھی آنگن واڑی مرکز سے راشن حاصل کر سکتی ہے، بشرطیکہ نمائندے نے اس سے پہلے راشن وصول نہ کیا ہو۔

یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال ترقی محترمہ انپورنا دیوی نے فراہم کیں۔

 

************

 

ش ح ۔    ام  ۔  م  ص

(U :3719    )


(ریلیز آئی ڈی: 2238547) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी