پنچایتی راج کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

گرام پنچایتوں کے ذریعے گرانٹ کا استعمال

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 MAR 2026 4:02PM by PIB Delhi

پچھلے پانچ برسوں (مالی سال 2020-21 سے مالی سال 2024-25) کے دوران اتر پردیش سمیت تمام ریاستوں کے دیہی مقامی اداروں (آر ایل بی) کے لیے پندرہویں مالیاتی کمیشن کے تحت جاری کی گئی گرانٹس کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-1 میں دی گئی ہیں۔

وزارتِ خزانہ کے محکمۂ اخراجات کی جانب سے دیہی مقامی اداروں (آر ایل بی )کو پندرہویں مالیاتی کمیشن کی گرانٹس کے نفاذ کے لیے جاری کردہ آپریشنل رہنما خطوط کے مطابق، ریاستوں کو ہر مالی سال میں دو قسطوں میں گرانٹس جاری کی جاتی ہیں۔ اگلی قسط جاری کرنے پر غور کے لیے ریاستوں کو ضروری ہے کہ وہ پہلے سے جاری کردہ قسط کے سلسلے میں مقررہ پروفارما میں گرانٹ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ جمع کرائیں۔ اس معاملے میں علیحدہ یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اندراج نمبر کے لحاظ سے:ہندوستان کے آئین کے ساتویں شیڈول کی فہرست-II (ریاستی فہرست) کے اندراج نمبر 5 کے مطابق پنچایتیں، بطور مقامی حکومت، ریاستوں کے دائرۂ اختیار میں آتی ہیں۔ اس کے مطابق پنچایتوں سے متعلق تمام معاملات ریاستی حکومتوں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، اور پنچایتوں کے معائنے یا ان کی کارکردگی کے جائزوں سے متعلق معلومات مرکزی سطح پر محفوظ نہیں رکھی جاتی ہیں۔

وزارت اپریل 2020 سے ای-گرام سوراج ویب پورٹل (https://egramswaraj.gov.in) کا انتظام کر رہی ہے، جو ریاست اتر پردیش سمیت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں منصوبہ بندی سے لے کر ادائیگی تک پنچایتوں کے تمام مالیاتی کاموں کو مربوط کرتا ہے۔ اس نظام سے حاصل ہونے والے پیش رفت کے اعداد و شمار کو ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ، ضلع اور بلاک کی سطحوں پر بیک وقت نگرانی کے لیے پورٹل پر دکھایا جاتا ہے۔

وزارت نے پنچایتوں کے لیے پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم (پی ایف ایم ایس) کے ساتھ ای-گرام سوراج کو بھی مربوط کیا ہے، جس سے دکانداروں اور خدمات فراہم کرنے والوں کو ریئل ٹائم ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت میسر آتی ہے۔ مزید برآں، پنچایت کھاتوں کے آن لائن آڈٹ اور ان کے مالیاتی انتظام کو ممکن بنانے کے لیے اپریل 2020 میں آڈٹ آن لائن ایپلی کیشن کا آغاز کیا گیا تھا۔ یہ ٹول مرکزی مالیاتی کمیشن کے فنڈز کے شفاف استعمال میں سہولت فراہم کرتا ہے اور پنچایت سطح پر مالیاتی نگرانی کو مضبوط بناتا ہے۔

مالی سال 2025-26 کے لیے پندرہویں مالیاتی کمیشن کے تحت ای-گرام سوراج کو ریاستوں کے لحاظ سے اپنانے کی صورتحال ضمیمہ-II میں دی گئی ہے، جبکہ 05.03.2026 تک آڈٹ کی مدت 2023-24 اور 2024-25 کے لیے آڈٹ آن لائن پر ریاست وار پیش رفت بالترتیب ضمیمہ-III اور ضمیمہ-IV میں دی گئی ہے۔

وزارت مجموعی پنچایت گورننس کو بہتر بنانے کے مقصد سے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں منتخب نمائندوں، عہدیداروں اور پنچایتوں کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کی صلاحیت سازی اور تربیت کے لیے راشٹریہ گرام سوراج ابھیان (آر جی ایس اے)کی مرکزی اسپانسر شدہ اسکیم کو بھی نافذ کر رہی ہے۔

ضمیمہ-I

پچھلے پانچ سالوں کے دوران پنچایتوں کے لیے جاری کیے گئے فنڈز کی ریاست وار تفصیلات

 

شمار نمبر

 

ریاستیں

 

کل
(2020-2021 سے 2025-26)

مختص
(روپےکروڑ میں)

ریلیز
(روپےکروڑ میں)

اخراجات / استعمال
(روپےکروڑ میں)

% استعمال / اخراجات
(روپےکروڑ میں)

1

آندھرا پردیش

12,856

12,681

6,413

51%

2

اروناچل پردیش

1,131

436

295

68%

3

آسام

7,857

7,109

3,730

52%

4

بہار

24,579

23,340

17,074

73%

5

چھتیس گڑھ

7,123

6,515

6,906

106%*

6

گوا

368

215

78

36%

7

گجرات

15,650

14,368

11,255

78%

8

ہریانہ

6,193

5,820

4,380

75%

9

ہماچل پردیش

2,102

1,984

1,635

82%

10

جھارکھنڈ

8,274

6,501

5,346

82%

11

کرناٹک

15,756

11,906

11,054

93%

12

کیرالہ

7,972

7,322

4,099

56%

13

مدھیہ پردیش

19,511

16,060

13,412

84%

14

مہاراشٹر

28,540

23,097

19,418

84%

15

منی پور

867

243

97

40%

16

میگھالیہ

893

277

324

117%*

17

میزورم

455

396

374

94%

18

ناگالینڈ

611

265

-

0%

19

اوڈیشہ

11,058

10,966

8,058

73%

20

پنجاب

6,798

5,884

6,231

106%*

21

راجستھان

18,915

16,443

13,024

79%

22

سکم

207

195

138

71%

23

تمل ناڈو

17,666

15,420

12,129

79%

24

تلنگانہ

9,048

6,697

2,681

40%

25

تریپورہ

937

936

964

103%*

26

اتر پردیش

47,764

45,408

42,982

95%

27

اتراکھنڈ

2,813

2,436

1,839

75%

28

مغربی بنگال

21,611

20,321

18,879

93%

 

کل

2,97,555

2,63,238

2,12,817

81%

 

*نوٹ: ان ریاست کے سلسلے میں استعمال کا فیصد گرانٹ کی رقم اور اس کے اخراجات پر جمع ہونے والے سود کی وجہ سے 100% سے زیادہ کی عکاسی کر رہا ہے۔

ضمیمہ II

مالی سال 2025-26 کے لئے XV مالیاتی کمیشن کے لئے ای گرام سوراج کو ریاست کے لحاظ سے اپنانے کی حیثیت

شمار نمبر

ریاست کا نام

گاؤں کی پنچایتوں کی کل تعداد اور مساوی

گرام پنجایت ان بورڈ (شامل کی گئیں)

آن لائن ادائیگی کے ساتھ گاؤں کی پنچایتیں اور مساوی

بلاک پنچایتوں کی کل تعداد اور مساوی

بلاک پنچایت آن بورڈ (شامل کی گئیں)

آن لائن ادائیگی کے ساتھ بلاک پنچایتیں۔

ضلع پنچایتوں کی کل تعداد اور مساوی

ضلع پنچایت ان بورڈ (شامل کی گئیں)

آن لائن ادائیگی کے ساتھ ضلع پنچایتیں۔

1

آندھرا پردیش

13327

13320

13025

660

660

649

13

13

13

2

اروناچل پردیش

2108

2108

1486

0

0

0

27

26

22

3

آسام

2663

2186

2075

182

182

179

30

29

27

4

بہار

8054

8054

8047

534

534

529

38

38

38

5

چھتیس گڑھ

11692

11687

11313

146

146

146

33

33

27

6

گوا

191

191

116

0

0

0

2

2

2

7

گجرات

14619

14596

13800

248

248

248

33

33

33

8

ہریانہ

6227

6227

6010

143

143

141

22

22

22

9

ہماچل پردیش

3615

3615

3562

92

81

81

12

12

12

10

جھارکھنڈ

4345

4345

4252

264

264

262

24

24

24

11

کرناٹک

5949

5949

5938

238

232

93

31

31

23

12

کیرالہ

941

941

937

152

152

152

14

14

14

13

مدھیہ پردیش

23011

23011

22194

313

313

309

52

52

52

14

مہاراشٹر

28002

27934

26438

351

351

265

34

34

33

15

منی پور

3175

161

113

0

0

0

12

6

4

16

میگھالیہ

6884

0

0

0

0

0

3

3

3

17

میزورم

855

841

817

0

0

0

0

0

0

18

ناگالینڈ

1312

984

0

0

0

0

0

0

0

19

اوڈیشہ

6794

6794

6785

314

314

313

30

30

30

20

پنجاب

13236

13233

12341

155

152

150

23

23

22

21

راجستھان

13128

11184

10774

361

353

351

37

33

33

22

سکم

199

199

196

0

0

0

6

6

6

23

تمل ناڈو

12482

12482

12437

388

388

388

36

36

36

24

تلنگانہ

12760

12674

9570

565

547

400

32

32

27

25

تریپورہ

1194

1194

1192

75

75

75

9

9

9

26

اتراکھنڈ

7817

7790

6926

95

95

94

13

13

13

27

اتر پردیش

57695

57693

57579

826

826

820

75

75

74

28

مغربی بنگال

3339

3339

3337

345

345

345

22

21

21

کل

265614

252732

241260

6447

6401

5990

663

650

620

 

ضمیمہ – III

آڈٹ کی مدت 2023-24 کے لئے 05.03.2026 تک آڈٹ آن لائن پر ریاست وار پیش رفت

شمار نمبر

ریاست کا نام

پی آر آئی کی تعداد

آڈٹ پلانز تیار

% ترقی

آڈٹ رپورٹس تیار کی گئیں۔

% ترقی

1

آندھرا پردیش

14,001

13,999

99.99%

13,994

99.95%

2

اروناچل پردیش

2,133

2,131

99.91%

2,125

99.62%

3

آسام

2,884

2,418

83.84%

2,418

83.84%

4

بہار

8,627

8,626

99.99%

8,621

99.93%

5

چھتیس گڑھ

11,829

11,825

99.97%

11,809

99.83%

6

گوا

193

191

98.96%

191

98.96%

7

گجرات

14,946

14,919

99.82%

14,880

99.56%

8

ہریانہ

6,393

6,384

99.86%

6,360

99.48%

9

ہماچل پردیش

3,708

3,708

100.00%

3,708

100.00%

10

جھارکھنڈ

4,635

4,633

99.96%

3,504

75.60%

11

کرناٹک

6,220

5,950

95.66%

5,950

95.66%

12

کیرالہ

1,107

1,107

100.00%

1,107

100.00%

13

مدھیہ پردیش

23,377

23,376

100.00%

23,312

99.72%

14

مہاراشٹر

28,341

28,313

99.90%

28,069

99.04%

15

منی پور

3,823

-

0.00%

-

0.00%

16

میگھالیہ

3

-

0.00%

-

0.00%

17

میزورم

835

835

100.00%

810

97.01%

18

ناگالینڈ

1,326

-

0.00%

-

0.00%

19

اوڈیشہ

7,138

7,138

100.00%

7,133

99.93%

20

پنجاب

13,410

13,373

99.72%

13,307

99.23%

21

راجستھان

11,650

11,633

99.85%

11,381

97.69%

22

سکم

205

205

100.00%

204

99.51%

23

تمل ناڈو

12,949

12,951

100.02%

12,949

100.00%

24

تلنگانہ

13,344

13,341

99.98%

13,313

99.77%

25

تریپورہ

1,278

1,260

98.59%

1,260

98.59%

26

اتراکھنڈ

7,892

7,892

100.00%

7,890

99.97%

27

اتر پردیش

58,655

58,649

99.99%

58,598

99.90%

28

مغربی بنگال

3,706

3,594

96.98%

3,581

96.63%

 

کل

2,64,608

2,58,451

97.67%

2,56,474

96.93%

 

ضمیمہ- IV

آڈٹ کی مدت 2024-25 کے لئے 05.03.2026 تک آڈٹ آن لائن پر ریاست وار پیش رفت

شمار نمبر

ریاست کا نام

پی آر آئی کی تعداد

آڈٹ پلانز تیار

% ترقی

آڈٹ رپورٹس تیار کی گئیں۔

% ترقی

1

آندھرا پردیش

14,000

13,942

99.59%

12,238

87.41%

2

اروناچل پردیش

2,135

1,212

56.77%

504

23.61%

3

آسام

2,997

-

0.00%

-

0.00%

4

بہار

8,625

7,599

88.10%

1,447

16.78%

5

چھتیس گڑھ

11,892

471

3.96%

-

0.00%

6

گوا

193

116

60.10%

-

0.00%

7

گجرات

14,968

14,936

99.79%

14,863

99.30%

8

ہریانہ

6,395

6,377

99.72%

3,988

62.36%

9

ہماچل پردیش

3,708

3,247

87.57%

2,908

78.43%

10

جھارکھنڈ

4,635

11

0.24%

-

0.00%

11

کرناٹک

6,221

5,950

95.64%

5,949

95.63%

12

کیرالہ

1,107

-

0.00%

-

0.00%

13

مدھیہ پردیش

23,376

20,843

89.16%

12,040

51.51%

14

مہاراشٹر

28,337

21,748

76.75%

13,460

47.50%

15

منی پور

3,823

-

0.00%

-

0.00%

16

میگھالیہ

6,857

-

0.00%

-

0.00%

17

میزورم

843

2

0.24%

-

0.00%

18

ناگالینڈ

1,327

-

0.00%

-

0.00%

19

اوڈیشہ

7,138

7,137

99.99%

5,232

73.30%

20

پنجاب

13,414

11,159

83.19%

10,158

75.73%

21

راجستھان

11,624

11,604

99.83%

7,268

62.53%

22

سکم

205

205

100.00%

205

100.00%

23

تمل ناڈو

12,949

9,472

73.15%

9,123

70.45%

24

تلنگانہ

13,598

13,300

97.81%

12,906

94.91%

25

تریپورہ

1,278

1,277

99.92%

1,198

93.74%

26

اتراکھنڈ

7,895

-

0.00%

-

0.00%

27

اتر پردیش

58,592

58,594

100.00%

37,357

63.76%

28

مغربی بنگال

3,706

3,594

96.98%

3,230

87.16%

 

کل

2,71,838

2,12,796

78.28%

1,54,074

56.68%

یہ معلومات مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف لالن سنگھ نے 10 مارچ 2026 کو لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی تھی ۔

***

UR-3692

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2237851) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी