ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
وزارت صحت و خاندانی بہبود کی قیادت میں ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس – عوام کی امنگوں کی تکمیل“ کے موضوع پر بعد از بجٹ ویبینار 2026 کا انعقاد کیا گیا
ایم ایس ڈی ای کے بریک آؤٹ سیشن بعنوان ”بھارت کے نگہداشت کے نظام کو مضبوط بنانا: ڈیڑھ لاکھ کثیر مہارتی نگہداشت کاروں کی تربیت“ میں عالمی اور قومی سطح کے متعلقہ فریقوں نے شرکت کی
وزیر اعظم نے بھارت کے انسانی سرمائے اور نگہداشت کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے قابل توسیع ماڈل اپنانے پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 MAR 2026 7:14PM by PIB Delhi
”سب کا ساتھ، سب کا وکاس – عوام کی امنگوں کی تکمیل“ کے موضوع پر بعد از بجٹ ویبینار 2026 کا انعقاد کیا گیا جس میں پالیسی سازوں، صنعت کے رہنماؤں، کثیر جہتی اداروں اور نجی تنظیموں سمیت مختلف متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ اس ویبینار کا مقصد مرکزی بجٹ 2026–27 کے اعلانات کے مؤثر نفاذ پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔ یہ ویبینار حکومت کے سالانہ بعد از بجٹ مشاورتی عمل کا حصہ ہے، جس کا مقصد پالیسی اعلانات کو قابل عمل نفاذی فریم ورک میں تبدیل کرنا ہے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بات پر زور دیا کہ مرکزی بجٹ وکست بھارت کے لیے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت کی تیاری اور انسانی سرمائے کو مضبوط بنانے کا واضح روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے قابل توسیع ماڈل، جدت پر مبنی ترقی اور تعلیم، ہنرمندی کی ترقی اور حقیقی معیشت کے درمیان مضبوط روابط کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور حکومت ہند کے وزیر مملکت برائے تعلیم، جناب جینت چودھری نے بھی افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔ اختتامی اجلاس میں انہوں نے بھارت کی ترقی کی سمت میں نگہداشت کی معیشت (کیئر اکانومی) کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، ”نگہداشت کی معیشت بھارت کے لیے ایک سماجی ترجیح ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معاشی موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ بجٹ کے اعلان کے تحت ڈیڑھ لاکھ کثیر مہارتی نگہداشت کاروں کی تربیت کے ذریعے ہم ایک پیشہ ورانہ نظام تشکیل دے رہے ہیں جو صحت کی دیکھ بھال، فلاح و بہبود اور معاون ٹیکنالوجی کو یکجا کرتا ہے، جبکہ باوقار روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتا ہے، خاص طور پر خواتین کے لیے۔ زبان کو ایک مہارت کے طور پر تسلیم کرنا اور عالمی نقل و حرکت کے راستوں کو مضبوط بنانا بین الاقوامی منڈیوں میں روزگار کے مواقع کو مزید بہتر بنائے گا۔ جاپان اور اسرائیل جیسے ممالک کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے بھارت مہارت پر مبنی سفارت کاری کو فروغ دے رہا ہے اور دنیا کو ہنرمند افرادی قوت فراہم کرنے والے ایک قابل اعتماد ملک کے طور پر ابھر رہا ہے، جو ہمیں عالمی مہارت کے مرکز بننے کی سمت میں مزید مضبوط کرتا ہے۔“
بعد از بجٹ ویبینار کے ایک حصے کے طور پر ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) نے ذیلی موضوع ”بھارت کے نگہداشت کے نظام کو مضبوط بنانا: ڈیڑھ لاکھ کثیر مہارتی نگہداشت کاروں کی تربیت“ پر ایک خصوصی بریک آؤٹ سیشن کی قیادت کی، جو ہائبرڈ انداز میں منعقد ہوا۔
اپنے افتتاحی کلمات میں سکریٹری، ایم ایس ڈی ای محترمہ دیباشری مکھرجی نے ابھرتی ہوئی نگہداشت کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے مضبوط اور معیاری تربیتی نظام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ”جبکہ ہم بھارت کے نگہداشت کے نظام کو مضبوط بنانے سے متعلق بجٹ اعلان کو آگے بڑھا رہے ہیں، ہماری توجہ ایک منظم اور معیاری تربیتی فریم ورک تیار کرنے پر مرکوز ہے جو کثیر مہارتی نگہداشت کاروں کو ابھرتی ہوئی نگہداشت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار کرے۔ اسی طرح یہ بھی نہایت اہم ہے کہ پیشہ ورانہ تربیت اور معیاری سرٹیفکیشن کے ذریعے نگہداشت کاروں کے لیے وقار، پہچان اور قابل اعتماد کیریئر کے راستے یقینی بنائے جائیں۔“
شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزارت ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری (ایم ایس ڈی ای) کی سینیئر اقتصادی مشیر، محترمہ منیشا سین شرما نے بجٹ اعلان کے پس منظر میں ڈیڑھ لاکھ کثیر مہارتی نگہداشت کاروں کی تربیت کے تزویراتی وژن کو واضح کیا۔ اس اقدام کا مقصد ایک طرف عمر رسیدہ آبادی کے باعث ملک کے اندر بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا ہے اور دوسری طرف نگہداشت اور متعلقہ صحت کے پیشہ ور افراد کی عالمی سطح پر موجود کمی کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس پہل کا مقصد غیر رسمی افرادی قوت کو ایک منظم قومی نگہداشت کار نظام میں منتقل کرنا ہے، جس میں صحت سے متعلق مہارتوں کو فلاح و بہبود کی عملی طریقوں کے ساتھ مربوط کیا جائے گا، جبکہ مختلف پروگراموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تربیت کے مواقع کو وسعت دی جائے گی اور روزگار کے امکانات کو بہتر بنایا جائے گا۔
اس اجلاس میں مختلف متعلقہ فریقوں پر مشتمل ایک نمایاں پینل نے شرکت کی، جن میں جناب پرشانت پیسے، ایڈیشنل سکریٹری، وزارت خارجہ؛ جناب گیانیندر دیو ترپاٹھی، پرنسپل سکریٹری، ہنر، روزگار و صنعت کاری، حکومت آسام؛ جناب جگدیش چیلانی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، میگھالیہ اسٹیٹ اسکل ڈیولپمنٹ سوسائٹی؛ محترمہ میا اوکا، کنٹری ڈائریکٹر، ایشیائی ترقیاتی بینک؛ جناب بھارت وشویشورایا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر (انڈیا)، برٹش ایشین ٹرسٹ؛ محترمہ جیورجیا واریسکو، چیف آف یوتھ اینڈ ایڈولیسنٹ ڈیولپمنٹ، یونیسف؛ پروفیسر (ڈاکٹر) ایس پی سنگھ، ڈائریکٹر جنرل، کوشلیا – دی اسکل یونیورسٹی؛ ڈاکٹر سری نواس راؤ پلیجالا، سی ای او، اپولو میڈ اسکلز لمیٹڈ؛ جناب کے گنیش، پروموٹر و ڈائریکٹر، پورٹیا میڈیکل؛ جناب سندیپ کمار، ہیڈ ایچ آر آپریشنز، سوڈیکسو انڈیا؛ ڈاکٹر کارتھک این، منیجنگ ڈائریکٹر، اتھولیا سینئر کیئر؛ محترمہ سمیترا مشرا، سی ای او، موبائل کریچز؛ جناب رجیت مہتا، منیجنگ ڈائریکٹر و سی ای او، انترا سینئر کیئر؛ ڈاکٹر الیگزینڈر تھامس، بانی رکن، ویائے وکاس اور ڈاکٹر سنیل کمار ایم ایم، ڈائریکٹر، ترویندرم انسٹی ٹیوٹ آف پیلی ایٹو سائنسز شامل تھے۔
بعد از بجٹ ویبینار میں آن لائن اور بالمشافہ دونوں طریقوں سے مختلف متعلقہ فریقوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان میں ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں کے نمائندے، نیشنل کونسل فار ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (این سی وی ای ٹی)، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی)، نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی)، سیکٹر اسکل کونسلز (ایس ایس سی)، ایوارڈنگ باڈیز، اسیسمنٹ ایجنسیاں، صنعتی شراکت دار اور تربیتی ادارے شامل تھے۔








**************
ش ح۔ ف ش ع
09-03-2026
U: 3610
(ریلیز آئی ڈی: 2237210)
وزیٹر کاؤنٹر : 9