جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پانی  کی فراہمی اور صفائی ستھرائی سے متعلق  پروگرام کا بجٹ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 MAR 2026 4:36PM by PIB Delhi

ملک کے ہر دیہی گھرانے کو مقررہ معیار کے مطابق مناسب مقدار میں محفوظ پینے کا پانی باقاعدہ اور طویل مدتی بنیاد پر نل کے کنکشن کے ذریعے فراہم کرنے کے مقصد سے حکومتِ ہند ریاستوں کے اشتراک سے اگست 2019 سے جل جیون مشن (جے جے ایم) — ہر گھر جل — نافذ کر رہی ہے۔

جل جیون مشن کے آغاز کے بعد سے ملک میں دیہی گھرانوں تک نل کے پانی کی رسائی بڑھانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ مشن کے آغاز کے وقت صرف 3.23 کروڑ (16.7 فیصد) دیہی گھرانوں کے پاس نل کے پانی کا کنکشن تھا۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے 03 مارچ 2026 تک فراہم کردہ معلومات کے مطابق جل جیون مشن کے تحت اب تک 12.58 کروڑ سے زیادہ اضافی دیہی گھرانوں کو نل کے پانی کے کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس طرح 03 مارچ 2026 تک ملک کے تقریباً 19.36 کروڑ دیہی گھرانوں میں سے تقریباً 15.82 کروڑ (81.71 فیصد) گھرانوں کو گھروں میں نل کے ذریعے پانی کی فراہمی حاصل ہو چکی ہے، جبکہ باقی گھرانوں تک فراہمی کے کام مختلف مراحل میں جاری ہیں۔ معزز وزیر خزانہ نے بجٹ 2025-26 کی تقریر میں جل جیون مشن کو 2028 تک توسیع دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

حکومتِ ہند نے 2 اکتوبر 2014 کو سوچھ بھارت مشن (دیہی) بھی شروع کیا تھا، جس کا مقصد تمام دیہی گھرانوں کو بیت الخلا کی سہولت فراہم کر کے 2 اکتوبر 2019 تک ملک کو کھلے میں رفع حاجت سے پاک (او ڈی ایف) بنانا تھا۔ 2014-15 سے 2019-20 کے درمیان پانچ سال کی مدت میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے سوچھ بھارت مشن (دیہی) کے آن لائن انٹیگریٹڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (آئی ایم آئی ایس) پر فراہم کردہ معلومات کے مطابق ملک بھر میں 10 کروڑ سے زیادہ انفرادی گھریلو بیت الخلا تعمیر کیے گئے۔ 2 اکتوبر 2019 کو ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے خود کو او ڈی ایف قرار دیا۔

سوچھ بھارت مشن (دیہی) مرحلہ دوم اپریل 2020 میں شروع کیا گیا، جسے 2020-21 سے 2026-27 تک نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس مرحلے میں او ڈی ایف کی پائیداری، گاؤں میں ٹھوس اور مائع کچرے کے انتظام اور بصری صفائی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ گاؤں کو او ڈی ایف سے او ڈی ایف پلس (ماڈل) گاؤں میں تبدیل کیا جا سکے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے آئی ایم آئی ایس پر درج معلومات کے مطابق 5,86,944 گاؤں میں سے 22 جنوری 2026 تک 4,94,301 (84 فیصد) گاؤں نے خود کو او ڈی ایف پلس (ماڈل) گاؤں قرار دیا ہے۔ مزید برآں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مطابق 2014 سے 22 جنوری 2026 تک ملک میں 12.03 کروڑ انفرادی گھریلو بیت الخلا اور 2.68 لاکھ کمیونٹی سینیٹری کمپلیکس تعمیر کیے گئے۔ اسی طرح 22 جنوری 2026 تک 5.28 لاکھ گاؤں میں ٹھوس کچرا انتظام (ایس ڈبلیو ایم) اور 5.45 لاکھ گاؤں میں مائع کچرا انتظام (ایل ڈبلیو ایم) کے انتظامات کیے جا چکے ہیں۔

جل جیون مشن کے نفاذ کے لیے مالی سال 2026-27 کے بجٹ تخمینے میں 67,670 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جبکہ سوچھ بھارت مشن (دیہی) کے لیے 2026-27 میں 7,192 کروڑ روپے کی تجویز رکھی گئی ہے۔

جل جیون مشن کے تحت محکمہ گھریلو نل کنکشن کی فعالیت کا جائزہ ایک آزاد تیسرے فریق کے ذریعے معیاری شماریاتی نمونے کی بنیاد پر کراتا ہے۔ فنکشنلٹی اسسمنٹ 2024 کے مطابق سروے کیے گئے گاؤں میں 98.1 فیصد گھرانوں کے پاس نل کنکشن موجود تھے۔ ان میں سے 87 فیصد گھرانوں نے بتایا کہ انہیں گزشتہ ہفتے پانی ملا، 84 فیصد کو مقررہ شیڈول کے مطابق پانی فراہم ہوا، 80 فیصد کو کم از کم 55 لیٹر فی کس یومیہ پانی ملا، 76 فیصد گھروں میں بیکٹیریائی آلودگی نہیں پائی گئی اور 81 فیصد پانی کے ذرائع کیمیائی آلودگی سے پاک پائے گئے۔ مقدار، معیار اور تسلسل کے معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے 76 فیصد گھریلو نل کنکشن فعال پائے گئے۔

ملک بھر میں نل کے کنکشن کے ذریعے ہمہ گیر فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ نے پروگرام کے نفاذ کی نگرانی اور جائزے کے لیے ایک جامع کثیر سطحی نظام وضع کیا ہے۔ اس میں گھر کے سربراہ کے آدھار کو مخصوص نتائج کی نگرانی کے لیے جوڑنا، تیار شدہ اثاثوں کی جیو ٹیگنگ، ادائیگی سے پہلے تیسرے فریق کی جانچ، اور گاؤں میں پانی کی فراہمی کی پیمائش کے لیے سینسر پر مبنی نظام کی آزمائشی بنیاد پر نگرانی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

مزید برآں جل جیون مشن کے تحت نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور نفاذ کو تیز کرنے کے لیے ضلع سطحی ڈیش بورڈ، گرام پنچایت سطح کے ڈیش بورڈ کو ای گرام سوراج پورٹل سے جوڑنا، ضلع کلکٹروں کے ’’پے جل سمواد‘‘، نیشنل واش ایکسپرٹس (این ڈبلیو ایز) کے کردار کو ادارہ جاتی شکل دینا، تھرڈ پارٹی انسپیکشن ایجنسیوں کا کردار، متعلقہ وزارتوں کے ساتھ بہتر تعاون، پانی کے ذرائع کی پائیداری کے لیے فیصلہ معاون نظام، کمیونٹی مینیجڈ پائپڈ واٹر سسٹم پر ہینڈ بک اور مربوط پائپڈ واٹر سسٹم کے لیے منفرد شناختی نمبر جیسے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں جل شکتی کے وزیر مملکت جناب وی سومنا نے فراہم کیں۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :3589    )


(ریلیز آئی ڈی: 2237185) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी