جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جے جے ایم کے تحت پائیدار آبی فراہمی کے لیے مقامی حکمرانی کو بااختیار بنانا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 MAR 2026 4:34PM by PIB Delhi

ہندوستان کے آئین کی 73ویں ترمیم کے مطابق اور دیہی باشندوں میں ملکیت کے احساس کو فروغ دینے کے لیے جل جیون مشن (جے جے ایم) کے تحت پنچایتی راج اداروں کے ذریعے گاؤں کی سطح پر منصوبہ بندی اور پانی کی فراہمی کے نظام سے متعلق تمام فیصلوں میں کمیونٹی کی شرکت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اسی کے تحت گرام پنچایت یا اس کی ذیلی کمیٹی/ صارف گروپ یعنی ولیج واٹر اینڈ سینیٹیشن کمیٹی (وی ڈبلیو ایس سی) یا پانی سمیتی کو گاؤں کے اندر پانی کی فراہمی کے نظام کی منصوبہ بندی، نفاذ، انتظام، آپریشن اور دیکھ بھال کے اختیارات دیے گئے ہیں۔

مزید برآں جل جیون مشن کے تحت کسی گاؤں کے تمام دیہی گھرانوں کو نل کے کنکشن فراہم کیے جانے کے بعد اسکیم نافذ کرنے والا محکمہ گرام پنچایت کو تکمیل کا سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے اور اس گاؤں کو جے جے ایم-آئی ایم آئی ایس پر ’’ہر گھر جل‘‘ گاؤں کے طور پر درج کر دیتا ہے۔ اس کے بعد گرام پنچایت اپنی گرام سبھا کی میٹنگ میں تکمیل رپورٹ بلند آواز سے پڑھ کر سناتی ہے اور باضابطہ قرارداد کے ذریعے خود کو ’’ہر گھر جل‘‘ گاؤں قرار دیتی ہے۔ نافذ کرنے والے محکمے کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ، گرام سبھا کی قرارداد اور میٹنگ کی مختصر ویڈیو جے جے ایم ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ کی جاتی ہے اور گاؤں کو جے جے ایم-آئی ایم آئی ایس میں تصدیق شدہ قرار دیا جاتا ہے۔ ریاستوں کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 2.74 لاکھ ’’ہر گھر جل‘‘ گاؤں میں سے تقریباً 1.81 لاکھ گاؤں کو متعلقہ گرام سبھاؤں نے باضابطہ طور پر تصدیق کر دی ہے۔

جل جیون مشن کے تحت این جی اوز، آبادی پر مبنی تنظیمیں (سی بی اوز)، اپنی مدد آپ گروپس (ایس ایچ جیز) اور رضاکارانہ تنظیموں کو بھی نفاذ تعاون ایجنسیوں (آئی ایس اے) کے طور پر شامل کیا جا رہا ہے تاکہ وہ وی ڈبلیو ایس سی یا پانی سمیتی کی منصوبہ بندی، کمیونٹی کو متحرک کرنے، معلومات کی فراہمی اور خواتین کی شرکت کو فروغ دینے میں مدد کر سکیں، جس سے پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کی طویل مدتی دیکھ بھال یقینی بنائی جا سکے۔

دیہی برادریوں میں ’’ملکیت اور فخر کے احساس‘‘ کو فروغ دینے کے لیے گاؤں کے اندر بنیادی ڈھانچے کی لاگت میں کمیونٹی کی شراکت کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں اور دشوار گزار یا پہاڑی علاقوں، جنگلاتی و پانی کی قلت والے علاقوں اور ایسے دیہات جہاں درج فہرست ذاتوں یا قبائل کی آبادی 50 فیصد سے زیادہ ہو، وہاں 5 فیصد جبکہ دیگر دیہات میں 10 فیصد کمیونٹی شراکت مقرر کی گئی ہے۔

دیہی ایکشن پلان (وی اے پی) تیار کرتے وقت گاؤں کی سطح پر دستیاب مختلف پروگراموں کے وسائل کو یکجا کرنا نہایت اہم ہے، جن میں مالی کمیشن کے تحت پانی و صفائی کے لیے دیے گئے فنڈز، جل جیون مشن، سوچھ بھارت مشن (دیہی)، مہاتما گاندھی نریگا، ایم پی یا ایم ایل اے لوکل ایریا ڈیولپمنٹ فنڈز، ڈسٹرکٹ منرل ڈیولپمنٹ فنڈ، سی ایس آر فنڈ اور کمیونٹی کی شراکت شامل ہیں۔ طویل مدت میں توقع ہے کہ گاؤں کی کمیونٹی دستیاب تمام وسائل کو استعمال کرتے ہوئے پانی کے مستقل تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

مزید برآں گاؤں کی مقامی برادری کو آپریشن اور دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالنے کے قابل بنانے کے لیے وزارتِ ہنرمندی ترقی و صنعت کاری کے تعاون سے ’’نل جل متر پروگرام‘‘ (این جے ایم پی) شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت مقامی افراد کو مختلف مہارتوں کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ ’’نل جل متر‘‘ کے طور پر کام کر سکیں اور اپنے گاؤں میں پائپ کے ذریعے پانی کی فراہمی کے نظام کی معمولی مرمت اور دیکھ بھال جیسے کام انجام دے سکیں۔ ان میں مستری، پلمبر، فٹر، الیکٹریشن، موٹر مکینک اور پمپ آپریٹر جیسی مہارتیں شامل ہیں۔

دیہی پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی طویل مدتی پائیداری کے لیے ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جامع آپریشن و دیکھ بھال پالیسی نافذ کریں، جس میں اسکیموں کو پنچایت یا پانی سمیتی کے حوالے کرنا، صارف فیس، توانائی کے اخراجات سمیت دیگر اخراجات کے لیے مناسب مالی وسائل، مقامی افراد کی تربیت اور ان کی تعیناتی جیسے اقدامات شامل ہوں۔

یہ اطلاع آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں جل شکتی کے وزیر مملکت جناب وی سومنا نے فراہم دی۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 3588   )


(ریلیز آئی ڈی: 2237183) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी