ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پہلے ہم کنویں کا کھارا پانی پیتے تھے، اب ہمارے گھروں میں صاف پانی آ رہا ہے: ایل ٹی ٹی ڈی پلانٹ کے دورے کے دوران لکشدیپ کے ایک رہائشی نے وزیر کو بتایا


پہلی بار ہم نے میٹھے پانی سے بنی چائے کا ذائقہ چکھا: مستفید ہونےوالے ایک  فرد  نے لکشدیپ میں کھارے پانی کو میٹھا بنانے والے  پلانٹس سے پہلے کی زندگی کو یاد کرتے ہوئے بتایا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کاواراتی میں ڈی سیلینیشن پلانٹ کے مستفیدین سے بات چیت کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 MAR 2026 3:17PM by PIB Delhi

’’پہلے ہم کنویں کا کھارا پانی پیتے تھے، اب ہمارے علاقے میں ہر کوئی پینے کے لیے صاف کیاگیا میٹھا  پانی استعمال کر رہا ہے۔‘‘کاراوتی کے رہائشی عبدالرحمٰن نے یہ بات مرکزی وزیر برائے ارضیاتی سائنسز اور سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے گفتگو کے دوران کہی۔یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز جزیرے میں واقع لو ٹمپریچر تھرمل ڈی سیلینیشن (ایل ٹی ٹی ڈی) پلانٹ کے دورے کے موقع پر وزیر سے ملاقات کے دوران بتائی۔

رحمٰن اُن متعدد مقامی باشندوں میں شامل تھے جنہوں نے وزیر موصوف کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کیے۔ وزیرموصوف  نے لکشدیپ جزائر   میں پینے کے پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے وزارتِ ارضیاتی سائنسز کی جانب سے قائم کیے گئے ڈی سیلینیشن پلانٹس کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیا۔

گفتگو کے دوران مقامی باشندوں نے بتایا کہ نمک صاف  کر کے تیار کیے گئے پانی کی دستیابی نے جزیرے کے اس خطے میں ایک دیرینہ مسئلے کو کافی حد تک حل کر دیا ہے، جہاں زیرِ زمین پانی محدود ہے اور سمندر کے قریب ہونے کی وجہ سے اکثر کھارا ہوتا ہے۔رحمٰن نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے گھروں کے قریب موجود چھوٹے کنوؤں پر انحصار کرنا پڑتا تھا، مگر ان کا پانی عموماً کھارا ہوتا تھا اور ہمیشہ پینے کے قابل بھی نہیں ہوتا تھا۔ اب جبکہ ڈی سیلینیشن پلانٹس فعال ہو چکے ہیں، ان کے مطابق نلوں کے ذریعے صاف پینے کا پانی بآسانی دستیاب ہو گیا ہے۔

ایک اور رہائشی والیہ بی نے وزیر کو بتایا کہ پانی لانا روزانہ کا کام ہوتا تھا جس میں اسے دن میں کئی بار کنوؤں سے گھروں تک پہنچانا شامل ہوتا تھا ۔  انھوں نے کہا کہ پہلے ہمیں کنویں سے پانی لا کر گھر لے جانا پڑتا تھا ۔  اب پانی ہماری دہلیز پر دستیاب ہے ۔

وزیرموصوف کے ساتھ موجود عہدیداروں نے وضاحت کی کہ ایل ٹی ٹی ڈی ٹیکنالوجی گرم سطح کے سمندری پانی اور ٹھنڈے گہرے سمندر کے پانی کے درمیان درجہ حرارت کے فرق کو استعمال کرکے سمندری پانی کو پینے کے قابل پانی میں تبدیل کرتی ہے ۔  مقامی برادریوں کو پینے کے پانی کا پائیدار ذریعہ فراہم کرنے کے لیے لکشدیپ کے متعدد جزیروں میں پلانٹ لگائے گئے ہیں ۔

 

دورے کے دوران بات کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ ڈی سیلینیشن پہل ، جو کاواراتی میں شروع ہوئی تھی ، آہستہ آہستہ علاقے کے کئی دوسرے جزیروں تک پھیل گئی ہے ۔  انہوں نے آئندہ اوشین تھرمل انرجی کنورژن (او ٹی ای سی) پروجیکٹ کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا ، جس سے تازہ پانی کی پیداوار کے ساتھ ساتھ صاف بجلی پیدا ہونے کی امید ہے ۔

وزیر موصوف نے کہا کہ اس طرح کی ٹیکنالوجیز جزیرے کے ان علاقوں کے لیے خاص طور پر موزوں ہیں جہاں میٹھے پانی کے ذرائع کم ہیں لیکن سمندری پانی وافر مقدار میں ہے ۔  انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے ڈیزل پر مبنی سپلائی پر انحصار کو بھی کم کر سکتے ہیں جو اکثر مانسون کے دوران لاجسٹک چیلنجوں سے متاثر ہوتے ہیں ۔

لکشدیپ کو طویل عرصے سے پینے کے قابل اعتماد پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ میٹھے پانی کے محدود ذخائر ، نمکیات کی مداخلت اور بارش پر بھاری انحصار ہے ۔  حکام نے کہا کہ توقع ہے کہ ڈی سیلینیشن کی سہولیات آنے والے سالوں میں جزیرے کی آبادی کے لیے پینے کے پانی کی مستحکم اور پائیدار فراہمی کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گی ۔

******

ش ح۔ ف ا۔ م ر

U-NO. 3497


(ریلیز آئی ڈی: 2236377) وزیٹر کاؤنٹر : 16