جل شکتی وزارت
اکیسویں مرکزی نگرانی کمیٹی نے آلودہ دریائی علاقوں اور سیوریج مینجمنٹ سے متعلق ریاست وار پیش رفت کا جائزہ لیا
محکمہ آبی وسائل، دریائی ترقی اور گنگاکے احیاء کے سکریٹری نے مقررہ وقت کے ساتھ اقدامات اپنانے اور ایس ٹی پی کی کارکردگی و نگرانی کو مضبوط بنانے پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 MAR 2026 7:45PM by PIB Delhi
دریاؤں کے احیاء سے متعلق مرکزی نگرانی کمیٹی (سی ایم سی) کی اکیسویں میٹنگ آج وزارتِ جل شکتی کے محکمہ آبی وسائل، دریائی ترقی اور گنگاکے احیاء کے سکریٹری جناب وی ایل کانتھا راؤ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں نیشنل مشن فار کلین گنگا کے ڈائریکٹر جنرل جناب راجیو کمار متل سمیت سینئر افسران، این ایم سی جی کے دیگر عہدیداران اور ریاستی حکومتوں و ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز کے نمائندگان نے شرکت کی۔

کمیٹی نے سی پی سی بی کی 2025 کی رپورٹ کی بنیاد پر آلودہ دریا ئی علاقوں کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا اور منظور شدہ عملی منصوبوں کے نفاذ میں ریاستوں کی پیش رفت کی جانچ کی۔ صدرِ اجلاس نے اس بات پر زور دیا کہ دریا کے پانی کے معیار میں مسلسل بہتری صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر ہی نہیں بلکہ اس کے مؤثر استعمال، ضابطہ جاتی تعمیل اور منصوبوں کی بروقت تکمیل پر بھی منحصر ہے۔ ترجیحی شعبوں میں سیوریج ٹریٹمنٹ کی کمیوں کو دور کرنا، موجودہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) کی کارکردگی میں بہتری لانا، جاری اور ٹینڈر شدہ ایس ٹی پی منصوبوں اور سیوریج نیٹ ورک کی ترقی سے متعلق کاموں میں تیزی لانا، صنعتی آلودگی کے کنٹرول کو مضبوط کرنا، صاف کئے گئے گندے پانی کے دوبارہ استعمال کو بڑھانا اور سیلابی میدانوں کی حدبندی کے عمل کو تیز کرنا شامل تھے۔ سکریٹری نے ریاستوں کو آلودگی کنٹرول کی کوششوں میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانے کے لیے حقیقی وقت کی نگرانی کو فعال بنانے کی بھی ہدایت دی۔
2018، 2022 اور 2025 میں نشانزدآلودہ دریائی علاقوں کے تقابلی جائزے سے ظاہر ہوا کہ 2018 کے بعد سے آلودہ علاقوں کی مجموعی تعداد میں مسلسل کمی آئی ہے۔ تاہم کمیٹی نے کہا کہ بعض ریاستوں نے نئے آلودہ علاقوں کے اضافے اور مخصوص دریائی حصوں میں خرابی کی اطلاع دی ہے، جس کے لیے مخصوص اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔


کمیٹی نے اتراکھنڈ، اتر پردیش، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، دہلی، ہریانہ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، انڈمان و نکوبار، لکشدیپ، اوڈیشہ، جموں و کشمیر اور پنجاب کے حوالے سے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس، صلاحیت کے استعمال، سیلابی میدان زون، صاف کئے گئے فضلہ کے پانی کے دوبارہ استعمال اور دریائی احیاء سے متعلق کمیٹیوں کے ذریعے ادارہ جاتی نگرانی پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
اجلاس کا اختتام ریاستوں سے اس اپیل کے ساتھ ہوا کہ وہ دریا کےاحیاء کے لیےپابندِ وقت ، نتیجہ خیز حکمت عملی اختیار کریں، جس میں عملی کارکردگی، بین محکمہ جاتی ہم آہنگی اور طویل مدتی آبی معیار میں بہتری کے لیے مسلسل تعمیل پر زور دیا گیا۔

**********
) ش ح – ع ح- ش ہ ب )
U.No. 3317
(ریلیز آئی ڈی: 2234895)
وزیٹر کاؤنٹر : 6