وزارت آیوش
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

آیوش پویلین شہری مرکزیت پر مبنی مصنوعی ذہانت کی اختراعات کے ذریعے وزیٹرس کی توجہ کا مرکز بن گیا


مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ آیوش نظاموں کے ذریعے “سب کے لیے فلاح” کو فروغ دیا جا رہا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 FEB 2026 9:58PM by PIB Delhi

جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں مرکزی وزارتِ آیوش کی جانب سے لگایا گیا آیوش پویلین شہری مرکزیت پر مبنی مصنوعی ذہانت کی منفرد اختراعات کے ذریعے وزیٹرس کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے، جو مکمل صحت اور فلاح و بہبود پر مرکوز ہیں۔ اس عالمی اہمیت کے حامل سمٹ کا افتتاح معزز وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے 16فروری 2025 کو کیا۔ “سَرواجَن ہِتائے، سَرواجَن سُکھائے — سب کے لیے فلاح، سب کے لیے خوشی” کے موضوع کے تحت یہ سمٹ ہندوستان کے اس عزم کو اجاگر کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو جامع ترقی، انسانی مرکزیت پر مبنی جدت اور عالمی بھلائی کے لیے بروئے کار لایا جائے۔

 

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026، جس کا اعلان معزز وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے فرانس اے آئی  ایکشن سمٹ میں کیا تھا، جنوبی عالمی خطے میں منعقد ہونے والا پہلا عالمی اے آئی  سمٹ ہے۔ برطانیہ کے اے آئی  سیفٹی سمٹ، اے آئی  سیول سمٹ اور افریقہ پر گلوبل اے آئی سمٹ جیسے بین الاقوامی فورمز کے رجحانات کی بنیاد پر یہ سمٹ وسیع پالیسی کے ارادے سے قابلِ پیمائش، تعاون پر مبنی عالمی اے آئی  اقدامات کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے۔

سمٹ میں آیوش پویلین آیوش گرڈ،ہندوستان کے روایتی طب کے لیے سرکردہ ڈیجیٹل پبلک ہیلتھ پلیٹ فارم،کا جامع ڈھانچہ پیش کر رہا ہے۔ اس ماحولیاتی نظام کا ایک اہم جزو ‘مائی آیوش انٹیگریٹڈ سروسز پورٹل (ایم اے آئی ایس پی)’ ہے، جو آیوش گرڈ کے تحت تیار کردہ مرکزی ڈیجیٹل پورٹل ہے۔ ایم اے آئی ایس پی  کو ڈیجیٹل آیوش ماحولیاتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر تصور کیا گیا ہے، جو “ایک پورٹل: مکمل آیوش ماحولیاتی نظام” کے وژن کو عملی جامہ پہناتا ہے، اور ایک متحد پلیٹ فارم پر صحت کی خدمات، صلاحیت سازی، طبی پودوں پر تحقیق و ترقی، آیوش دوائی انتظام، تعلیم اور عوامی آگاہی کو یکجا کرتا ہے۔ یہ پورٹل، جسے عزت مآب وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے روایتی طب پر ڈبلیو ایچ او کے دوسرے عالمی سمٹ میں لانچ کیا، شہریوں اور اداروں دونوں کے لیے مستند روایتی طبی خدمات تک رسائی کو آسان بناتا ہے۔

روایتی علمی نظاموں کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، وزارت کی اعلیٰ قیادت نے عوامی صحت کے میدان میں ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کی انقلابی صلاحیت پر زور دیا۔ جناب پرتاپ راؤ جادھو، مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزارتِ آیوش نے کہا کہ“معزز وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کی رہنمائی میں، وزارتِ آیوش اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ مصنوعی ذہانت ‘سَرواجَن ہِتائے، سَرواجَن سُکھائے’ یعنی سب کے لیے فلاح اور خوشی  کا مؤثر ذریعہ بنے۔ آیوش گرڈ اور اے آئی  سے تقویت یافتہ اختراعات کے ذریعے ہم ایک ایسا ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ تشکیل دے رہے ہیں جو شفافیت کو مضبوط بناتا ہے، رسائی کو وسعت دیتا ہے  اور ہندوستان کے ابدی صحت کے علم کو مستقبل سے ہم آہنگ ٹیکنالوجیز کے ساتھ یکجا کر کے جامع اور کم لاگت صحت کی دیکھ بھال کو فروغ دیتا ہے۔”

ڈیجیٹل تبدیلی کے ادارہ جاتی اور حکمرانی کے نقطۂ نظر کو اجاگر کرتے ہوئے، ویدیہ راجیش کوٹیچا، سکریٹری، وزارتِ آیوش نے کہا، “آیوش گرڈ کا ڈھانچہ اور مائی آیوش انٹیگریٹڈ سروسز پورٹل روایتی طب کی فراہمی، دستاویزی عمل اور ڈیجیٹل انضمام کے طریقہ کار میں ایک بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تحقیق، تعلیم، خدمات کی فراہمی اور ضابطہ جاتی نظاموں میں اے آئی  ٹولز کو شامل کر کے ہم آیوش نظاموں کی معیار کاری، باہمی مطابقت اور شواہد پر مبنی ترقی کو عالمی بہترین طریقوں کے مطابق یقینی بنا رہے ہیں۔”

شہری خدمات میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کی وضاحت کرتے ہوئے، جناب نمن گوئل، او ایس ڈی، آیوش گرڈ، وزارتِ آیوش نے کہا کہ “آیوش پویلین میں ہم اے آئی سے چلنے والے چیٹ بوٹس اور دیگر نمایاں اقدامات پیش کر رہے ہیں، جن میں یوگا پوسچر اے آئی بھی شامل ہے، جو ایک کمپیوٹر وژن پر مبنی حل ہے اور صارفین کو یوگا آسن کو جانچنے، درست کرنے اور درست طور پر کرنے کی سہولت دیتا ہے، اس طرح یوگا کی مشق میں درستگی، حفاظت اور رسائی کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔”

پویلین میں آیوش نظاموں کے لیے زیرِ ترقی اے آئی سے تقویت یافتہ ٹیکنالوجیز پیش کی جا رہی ہیں، جن میں پہلے سے تعینات اے آئی چیٹ بوٹس اور جدید ٹول پروٹوٹائپس شامل ہیں، جو آیوروید، یوگا، نیچروپیتھی، یونانی، سدھا، سوا-ریگپا اور ہومیوپیتھی میں کلینیکل فیصلوں، معیار کاری، تحقیقی تجزیات اور عوامی صحت کے فروغ میں مدد فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

اہم خصوصیت آئی آئی ٹی جودھپور کے سینٹر آف ایکسیلنس (سی او ای) کے اقدامات ہیں، جو ڈیجیٹل صحت، مصنوعی ذہانت اور روایتی طب کے امتزاج میں جدید ترین تحقیق پیش کرتے ہیں۔ ایک انٹرایکٹو ڈیجیٹل کیوسک کے ذریعے وزیٹرس آئی جے اے آر کے خصوصی شمارے برائے ڈیجیٹل ہیلتھ، عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کے ساتھ جاری تعاون، اور روایتی طب کے لیے عالمی اے آئی فریم ورک تشکیل دینے میں ہندوستان کی قیادت کو بھی دریافت کر سکتے ہیں۔

اس ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے، اے آئی  انڈیانے 15 جنوری 2026 کو وزارتِ آیوش اور وزارتِ  انتہائی چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایم ایس ایم ای) کے تعاون سے ایک انوویشن چیلنج کا آغاز کیا ہے، جس کے انعامی فنڈ کی مالیت 5.25 کروڑ روپے ہے۔ منتخب شدہ اختراع کاروں کو منظم پائلٹ اور نفاذی معاونت فراہم کی جائے گی، اور کارکردگی اور دائرہ کار کی ہم آہنگی کی بنیاد پر وہ دو سالہ سرکاری معاہدہ حاصل کرنے کا موقع بھی پائیں گے، جس کی مالیت ایک کروڑ روپے تک ہو سکتی ہے۔ انوویشن چیلنج کی آخری تاریخ 22 فروری 2026 ہے، اور تفصیلی ہدایات درج ذیل لنک پر دستیاب ہیں:

https://aikosh.indiaai.gov.in/home/competitions/details/fecad37f-d959-4e9c-acb6-397ddd86e6c8

جیسا کہ مصنوعی ذہانت معیشتوں اور معاشروں کو تیزی سے بدل رہی ہے ،جو بے مثال مواقع اور ابھرتے ہوئے چیلنجز دونوں لے کر آ رہی ہے ، وزارت کی شرکت اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ بھارت اپنی صدیوں پرانی صحت کی حکمت کو جدید ترین ٹیکنالوجیز کے ساتھ کس طرح ضم کر رہا ہے۔ روایتی طب کے نظاموں میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، عالمی تعاون اور جدت طرازی کو شامل کر کے، آیوش بھارت کو صحت کی دیکھ بھال میں لوگوں پر مرکوز اے آئی  اطلاقات کے محاذ پر رکھ رہا ہے۔

انڈیا-اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں اپنی موجودگی کے ذریعے ، آیوش کی وزارت ٹیکنالوجی سے چلنے والے ، شواہد سے باخبر اور عالمی سطح پر منسلک روایتی طبی ماحولیاتی نظام کے اپنے وژن کی تصدیق کرتی ہے-جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے وسیع تر قومی عزم کے ساتھ منسلک ہے کہ اے آئی انسانیت کی خدمت کرے ، مساوی ترقی کو فروغ دے اور سب کے لیے ٹھوس فوائد فراہم کرے ۔

**************

ش ح ۔ ش ت۔ م الف

U. No.3145


(ریلیز آئی ڈی: 2233549) وزیٹر کاؤنٹر : 17
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी