بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت 2047 تک عالمی سمندری پاور ہاؤس بننے کی راہ پر گامزن ہونے کے ساتھ دنیا کے سرکردہ بحری نقل و حمل کے مراکز میں شامل ہوگا:وزیر مملکت شانتنو ٹھاکر


بھارت کے 95فیصد تجارتی حجم کا سامان بندرگاہوں کے ذریعے ہوتا ہے؛ وکست بھارت کے نقطہ نظر میں بحری شعبے کا اہم کردار ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 FEB 2026 8:10PM by PIB Delhi

بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت(ایم او پی ایس ڈبلیو)، حکومتِ ہند اپنی بندرگاہ پر مبنی ترقیاتی پالیسی کو بھارت کی برآمدی مسابقت اور اقتصادی نمو کی بنیاد کے طور پر مضبوط کرتے ہوئے، ملک بھر میں سمندری بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری، کثیر النوع رابطوں کو فروغ دینے اور لاجسٹکس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات نافذ کر رہی ہے۔

بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں  کے وزیر مملکت شانتنو ٹھاکر نے کولکتہ میں سی آئی آئی ایکسِم کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے عالمی تجارتی وسعت میں سمندری شعبے کے مرکزی کردار پر روشنی ڈالی اور 2047 تک بھارت کو ایک ممتاز عالمی شپنگ ہب کے طور پر قائم کرنے کا وژن پیش کیا۔

جناب شانتنو ٹھاکر نے کہا کہ بھارت کے کل تجارتی حجم کا تقریباً 95 فیصد مقدار کے لحاظ سے اور تقریباً 70فیصد قیمت کے لحاظ سے ہمارے بندرگاہوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ سمندری شعبہ صرف ایک نقل و حمل کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کی عالمی تجارتی امنگوں کو عملی شکل دینے والا ایک اسٹریٹجک سہارا ہے۔

وزیر مملکت نے گزشتہ دہائی کے دوران سمندری شعبے میں ہوئی قابل ذکر پیش رفت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی بندرگاہ کی گنجائش دوگنی سے زیادہ بڑھ چکی ہے، کارگو ہینڈلنگ کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے، اور اہم بندرگاہوں پر ٹرن اراؤنڈ وقت میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ یہ کامیابیاں نظام کو مشینی اور ڈیجیٹل بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے مؤثر نفاذ کا نتیجہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت پانچ ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور‘وکست بھارت 2047’ کے وژن کو حقیقت بنانے کی جانب گامزن ہے، اس لیے برآمدی شعبے میں مسابقت ہماری اقتصادی ترقی کے سب سے مضبوط ستونوں میں سے ایک ہوگی۔

جناب شانتنو ٹھاکر نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت بھارت کے جہاز سازی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پالیسی اقدامات اور بجٹ کی معاونت بھارت کو ایک عالمی سطح پر اہم جہاز ساز ملک بنانے میں اہم مدد فراہم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ وزیر خزانہ نے حال ہی میں پیش کردہ مرکزی بجٹ میں جہاز سازی کی ترقی اور اندرون ملک جہاز سازی کے شعبے کی حمایت پر خصوصی زور دیا ہے۔ عالمی تجارت کے ساتھ ساتھ عالمی جہاز سازی کی صنعت کے لیے بھارت کی جغرافیائی پوزیشن انتہائی اہم ہے۔

جناب ٹھاکر نے طویل مدتی امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مستقل پالیسی حمایت اور صنعت کی فعال شراکت کے ساتھ بھارت کے پاس عالمی سطح پر ممتاز جہاز ساز ممالک کے طور پر خود کو قائم کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر جہاز سازی کے شعبے کو مناسب رفتار اور معاونت فراہم کی جائے تو ہم اپنے اہداف حاصل کر سکتے ہیں اور دنیا کے سرکردہ جہاز ساز ممالک میں جگہ بنا سکتے ہیں۔

جناب شانتنو ٹھاکر نے سمندری ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنے اور بھارت کی عالمی مسابقت کو آگے بڑھانے میں صنعت کے کردار کی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی کوششوں اور تعاون سے ہم بھارت کو آگے بڑھائیں گے اور اپنے سمندری شعبے کو صف اول میں لائیں گے۔ معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں یہ اقدام 2014 میں شروع ہوا تھا، اور ہم آنے والے سالوں میں ایک عالمی سطح پر مسابقتی سمندری شعبے کی تعمیر کے لیے پرعزم ہیں۔

اس کانفرنس میں پالیسی سازوں، صنعت کے رہنماؤں اور بین الاقوامی شراکت داروں نے حصہ لیا اور جدید تجارتی مواقع کے لیے بنیادی ڈھانچے اور لاجسٹکس کی کارکردگی کے ذریعے بھارت کے برآمدی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔

افتتاحی سیشن میں میانمار کے ہائی کمشنر آنگ مْیو تھیِن، سی آئی آئی مشرقی خطہ کے صدر شاشوت گوئینکا اور سی آئی آئی مشرقی خطہ بین الاقوامی تجارتی ذیلی کمیٹی کے صدر سندیپ کمار سمیت صنعت کے سینئر نمائندے موجود تھے۔

 

  

    

********

ش ح۔ع ح۔ ج ا

U-3119


(ریلیز آئی ڈی: 2233379) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी