سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اسٹریٹجک ٹیکنا لوجی کی منتقلی سے کسانوں کی اختراع کاری کو فروغ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 FEB 2026 4:09PM by PIB Delhi

وارانسی کے اختراع کار کسانوں کی جانب سے نیشنل انوویشن فاؤنڈیشن – انڈیا(این آئی ایف) کے تعاون سے تیار کردہ گندم کی تین اور ارہر (دال) کی دو زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کو تجارتی پیمانے پر متعارف کرانے کے لیے ناگپور کی ایک کمپنی کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی ایس ٹی) کے ایک خود مختار ادارےاین آئی ایف نے وارانسی کے اختراع کار کسانوں جناب شری پرکاش سنگھ رگھوونشی اور جناب رنجیت کمار سنگھ کی تیار کردہ پانچ اقسام (دو ارہر اور تین گندم) کی ناگپور کی کمپنی گنی ایگرو پروڈکٹس لمیٹڈ (جی اے پی ایل) کو منتقلی کے معاہدوں میں سہولت فراہم کی ہے۔

جی اے پی ایل نے مجموعی طور پر پانچ اقسام کے تجارتی حقوق حاصل کیے ہیں جن میں جناب شری پرکاش سنگھ کی تیار کردہ قدرت-3 (ارہر)، قدرت-8 اور قدرت-9 (گندم) جبکہ جناب رنجیت کمار سنگھ کی تیار کردہ للیتا (ارہر) اور اناپورنا (گندم) شامل ہیں۔ یہ معاہدے جی اے پی ایل کو مہاراشٹر، چھتیس گڑھ، راجستھان، گجرات اور مدھیہ پردیش کے حصوں سمیت نامزد علاقوں میں ان بیجوں کی پیداوار، پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور فروخت کی اجازت دیتے ہیں۔

یہ معاہدے نچلی سطح کی اختراعات کو باقاعدہ کاروبار میں شامل کریں گے اور کسانوں کے حقوق کو مضبوط بنائیں گے۔ اس اشتراک سے کسانوں کو معیاری بیجوں کی دستیابی میں اضافہ، زرعی پیداوار میں بہتری اور اختراع کاروں کے لیے پائیدار آمدنی کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

قدرت-8 (گندم): یہ زیادہ پیداوار دینے والی ایک قسم ہے (65.41 کوئنٹل فی ہیکٹر تک) جس کے ہر سٹّے میں اوسطاً 50 دانے ہوتے ہیں اور اس کے بیجوں کا وزن  زیادہ یعنی 52 گرام ہوتاہے۔ پودے کا بونا ڈھانچہ (76 سینٹی میٹر اونچائی) اسے گرنے  سے بچاتا ہے، جبکہ شگوفوں کی زیادہ تعداد (390 فی مربع میٹر) اور زیادہ بائیو ماس (18 گرام فی پودا) کسانوں کو اضافی فائدہ پہنچاتے ہیں۔ یہ مشاہدہ کیا گیا کہ یہ قسم ایفڈ کے خلاف معتدل مزاحمت اور پتوں کے زنگ  کے خلاف مکمل مزاحمت رکھتی ہے۔

قدرت-9 (گندم): یہ زیادہ پیداوار دینے والی (67 کوئنٹل فی ہیکٹیئر تک کی صلاحیت) اور غذائیت سے بھرپور قسم ہے، جو غذائی تحفظ کو بہتر بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اپنے بہترین دانوں کی بدولت، جن میں 10 سے 12 فیصد پروٹین، 47.58 پی پی ایم آئرن  اور 23.77 پی پی ایم زنک  شامل ہے، یہ قسم خوردنی غذائی اجزاء  کی اہم کمی کو پورا کرتی ہے۔

انّہ پورنہ (گندم): یہ قسم زیادہ پیداواری صلاحیت (60 کوئنٹل فی ہیکٹیئر تک) کی نمائندگی کرتی ہے جو اس کے بہترین پینیکل کی ساخت کی مرہونِ منت ہے۔ اس کی خصوصیات میں 25 سینٹی میٹر لمبا سٹّہ اور دانوں کی اعلیٰ کثافت شامل ہے، جس میں فی سٹّہ 80 تک لمبے اور موٹے دانے ہوتے ہیں۔

قدرت-3 (ارہر): اس سدا بہار قسم کی سال میں دو بار فصل دینے کی صلاحیت 36.17 کوئنٹل فی ہیکٹیئر تک سالانہ مجموعی پیداوار کو یقینی بناتی ہے۔ اس نے تمام آزمائشی اقسام (زیادہ سے زیادہ پیداوار: 3253.70 کلوگرام فی ہیکٹیئر) کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس کی پھلیاں 6 سے 8 سینٹی میٹر لمبی ہوتی ہیں جن میں اوسطاً 5 موٹے دانے ہوتے ہیں اور یہ سبز پھلی اور خشک دانے دونوں طرح کے استعمال کے لیے موزوں ہے۔ سرخ چھلکے والے اس کے میٹھے خشک بیجوں کو ’’ثابت ارہر‘‘ کے طور پر بیچا جا سکتا ہے یا ان سے چمکدار پیلے رنگ کی ’’دال‘‘ تیار کی جا سکتی ہے۔

للیتا (ارہر): یہ ایک سالانہ قسم ہے جس کی پیداواری صلاحیت 30 کوئنٹل فی ہیکٹیئر تک ہے۔ سرخ بیج کی گول شکل ملنگ (دال بنانے کے عمل) کے دوران ٹوٹ پھوٹ سے بچاتی ہے اور 80 فیصد سے زائد دال کی وصولی فراہم کرتی ہے۔ یہ نامیاتی کاشت  کے لیے بھی نہایت موزوں ہے۔

 قدرت -9  گندم               

            قدرت -8  گندم

قدرت -3 ارہر         

            انّہ پورنہ گندم

للیتا پیجن پی

مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجیے  raishm@nifindia.org

******

ش ح۔ک ح

U. No. 3095


(ریلیز آئی ڈی: 2233123) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी