جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل اور وزیر اعلی جناب بھجن لال شرما نے راجستھان میں جے ایس جے بی 2.0 کے نفاذ کا ریاستی سطح پر جائزہ لیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 FEB 2026 8:51PM by PIB Delhi

جل شکتی  کے مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل اور راجستھان کے وزیر اعلیٰ جناب بھجن لال شرما نے ریاست بھر میں جل سنچے جن بھاگیداری (جے ا یس جے بی) 2.0 کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ جل شکتی کے مرکزی وزیرجناب سی آر پاٹل نے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما کے ہمراہ ریاست کے تمام ضلع کلکٹروں اور میونسپل کمشنروں کے ساتھ جل سنچے جن بھاگیداری (جے ا یس جے بی) 2.0پر ایک جامع جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ یہ اجلاس نیشنل واٹر مشن، جل شکتی کی وزارت کے آبی وسائل، دریاکے فروغ اور گنگاکے احیاء کے محکمہ کی جانب سے راجستھان  حکومت کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔

اجلاس میں راجستھان حکومت کے چیف سکریٹری جناب وی سرینواس، ایڈیشنل چیف سکریٹری جناب ابھیے کمار، نیشنل واٹر مشن کی ایڈیشنل سکریٹری و منیجنگ ڈائریکٹر محترمہ ارچنا ورما کے علاوہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

1.jpg

ضلع بھیلواڑہ اور ڈونگرپور کے ضلع کلکٹروں نے جے ایس جے بی 2.0 کے تحت ضلعی سطح پر پیش رفت اور آبی تحفظ کے لیے کی جانے والی اختراعی پہل قدمیوں پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کیں۔ ڈونگرپورکی پیش کش میں، جو ایک اکثریتی قبائلی ضلع ہے،یہ اجاگر کیا گیا کہ مسلسل عوامی شراکت داری کے ذریعے آبی تحفظ اور دریاؤں کے  احیاء  کے شعبے میں مثالی کام انجام دیا گیا ہے، جو زمینی سطح پر ’’جن بھاگیداری‘‘ کی قوت کا مظہر ہے۔

راجستھان نے جے ایس جے بی 1.0 کے تحت قومی سطح پر تیسری پوزیشن حاصل کی تھی اور وہ بڑے پیمانے پر زیرِ زمین پانی کی بحالی اور آبی تحفظ کے اقدامات نافذ کرنے والی نمایاں ریاستوں میں شامل رہا ہے۔ ریاست نے روایتی اور کمیونٹی پر مبنی آبی نظم و نسق کے طریقوں میں مسلسل قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔

2.jpg

جائزہ اجلاس کے دوران راجستھان کے کامیاب اور قابلِ تقلید ماڈلز کو بھی نمایاں کیا گیا، جن میں الور اسکول ماڈل شامل ہے، جہاں اسکولوں کو ری چارج ڈھانچے بنانے اور طلبہ میں آبی شعور بیدار کرنے کے لیے سرگرم طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح باڑمیر جیسے اضلاع میں روایتی ‘‘ٹینکوں’’ کی بحالی اور تعمیر نے غیرمرکزی آبی ذخیرہ اندوزی کو مضبوط کیا اور خشک علاقوں میں پائیداری میں اضافہ کیا ہے۔ ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کم لاگت، مقامی ضرورتوں سے ہم آہنگ اور عوامی شراکت پر مبنی اقدامات زیرِ زمین پانی کی بحالی اور آبی تحفظ میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما نے جے ایس جے بی 2.0 کے تحت کوششوں کو مزید تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ راجستھان آبی تحفظ میں صفِ اول کی ریاست بنا رہے گا۔وزیراعلی نے کہا کہ تمام اضلاع اور شہری بلدیاتی ادارے اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور قومی ہدف یعنی زیرِ زمین پانی کی بحالی میں مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔

ضلع کلکٹروں اور میونسپل کمشنروں سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر سی آر پاٹل نے مانسون سے قبل بارش کے پانی کو محفوظ اور زیرِ زمین منتقل کرنے کی مناسب صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی کی قیادت میں جل سنچے جن بھاگیداری ایک ملک گیر عوامی تحریک (جن آندولن) کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے آبی تحفظ کو عوامی مہم بنا دیا ہے۔

3.jpg

وزیر موصوف نے بتایا کہ منریگا کے تحت آبی تحفظ کی سرگرمیوں کے لیے خصوصی فنڈ زمختص کیے گئے ہیں، اور اضلاع کو چاہیے کہ مانسون سے قبل اس اسکیم کے تحت سرگرمیوں کو سر گرم طور پر شروع کریں تاکہ دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کویقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے تمام اضلاع اور شہری بلدیاتی اداروں پر زور دیا کہ آبی تحفظ کے کاموں کو اولین ترجیح دیں، دیگر اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں، عوامی شراکت داری کو فروغ دیں اور پیش رفت کی مسلسل نگرانی کریں۔

جے ایس جے بی1.0 کے تحت ریاست کی مضبوط کارکردگی پر مبارکباد دیتے ہوئے جناب سی آر پاٹل نے اس اعتمادکااظہار کیا کہ راجستھان جے ایس جے بی 2.0 کے تحت اپنی کوششوں کو مزید مستحکم کرے گا اور عوامی شراکت پر مبنی آبی تحفظ اور پائیدار زیرِ زمین پانی کے انتظام میں مثالی قیادت جاری رکھے گا۔

   ***

UR-3085

(ش ح۔ش م ۔ ف ر)


(ریلیز آئی ڈی: 2233049) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी