سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
’’ٹی ڈی بی-ڈی ایس ٹی کاآنکولوجی اور لیشمینیا سس کے لیے مقامی سی اے آر-این کے سیل تھراپی پلیٹ فارم کےلیے تعاون
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 FEB 2026 11:51AM by PIB Delhi
حکومت ہند کے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے ، ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈ (ٹی ڈی بی) نے ایم/ایس ایسٹ اوسیون بایو پرائیویٹ لمیٹڈ، گروگرام کو اپنے منصوبے بعنوان “ٹیومر کے مشکل علاج کی ضرورت اور لیشمینیا سس کے لیے سی اے آر-این کے پر مبنی سیل تھراپی کی تیاری اور کلینیکل آزمائشیں” کے لیے مالی معاونت فراہم کی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ہندوستان میں پہلی بار ایک پلیٹ فارم پر مبنی ایسا نظام قائم کرنا ہے جواستعمال کے لیے تیار سی اے آر-این کے سیل تھراپیز کے ذریعے مزاحم ٹھوس ٹیومرز اور نظرانداز شدہ متعدی امراض کو ہدف بنائے اور اس طرح جدید امیونوتھراپی اور بایوتھیراپیوٹکس کی تیاری میں ہندوستان کی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے۔
سی اے آر-این کے (کائمیرک اینٹیجن ریسیپٹر–نیچرل کلر) سیل تھراپیز روایتی آٹو لاگس کار-ٹی تھراپیز کے مقابلے میں زیادہ قابلِ توسیع اور ممکنہ طور پر زیادہ محفوظ متبادل کے طور پر ابھر رہی ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز صحت مند عطیہ دہندگان سے این کے خلیات کو الگ کر کے ان کی افزائش کرتے ہیں، جنہیں بعد ازاں بیماری سے متعلق مخصوص اہداف کے خلاف کار کنسٹرکٹس ظاہر کرنے کے لیے جینیاتی طور پر تیار کیا جاتا ہے۔مریض مخصوص کار-ٹی تھراپیز کے برعکس، کار-این کے تھراپیز فوری دستیابی، آسان مینوفیکچرنگ عمل، گرافٹ ورسز ہوسٹ بیماری (جی وی ایچ ڈی) کے کم خطرے اور بہتر حفاظتی پروفائل فراہم کرتی ہیں، جس میں سائٹو کائن ریلیز سنڈروم (سی آر ایس) اور اعصابی زہر کی شرح کم ہوتی ہے۔ این کے خلیات میں فطری طور پر ٹیومر مخالف اور مدافعتی نظام کو منظم کرنے کی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں، جن میں ایم ایچ سی-ون کی کمی والے ٹیومرز کو ہدف بنانے کی صلاحیت شامل ہے۔
اس منصوبے کے تحت کمپنی درج ذیل کی تیاری اور تجارتی سطح پر فروغ کی تجویز پیش کرتی ہے:
• متعدد مزاحم ٹھوس ٹیومرز کے لیے اینٹی-پی ڈی-ایل 1 سی اے آر-این کے سیل تھراپی؛ اور
• لیشمینیا سس کو ہدف بنانے والی کار-این کے تھراپی، جو ایک نظرانداز شدہ استوائی بیماری کے لیے جدید امیونوتھراپی حکمت عملی کی نمائندگی کرتی ہے اور ہندوستان میں عوامی صحت کے حوالے سے نمایاں اہمیت کی حامل ہے۔
یہ ٹیکنالوجی پلیٹ فارم مکمل طور پر ادارے کے اندر تیار کیا گیا ہے، جو صحت مند ڈونرز سے حاصل کردہ ایلو جینک، استعمال کے تیار سی اے آر-این کے اور کار-گاما ڈیلٹا ٹی سیل تھراپیز پر مرکوز ہے۔ ان خلیات کو بڑے پیمانےپر کثیر مقدار میں جینیاتی طور پر تیار کیا جاتا ہے، جی ایم پی سے ہم آہنگ نظام کے تحت کرائیو محفوظ کیا جاتا ہے اور مریض کی مطابقت کے بغیر استعمال کیا جاتا ہے—جس سے وسعت پذیری، کم لاگت اور تیز رفتار فراہمی ممکن ہوتی ہے۔ مرکزی جدت میں پی ڈی-ایل -1کو ہدف بنانے والے کار کنسٹرکٹ کو گاما-ریٹرووائرل پلیٹ فارم کے ذریعے این کے خلیات میں شامل کیا گیا ہے، جو اعلیٰ کارکردگی کے اظہار اور طویل المدتی فعالی کو یقینی بناتا ہے۔
ٹی ڈی بی کے سکریٹری جناب راجیش کمار پاٹھک نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی جانب سے یہ تعاون ان اعلیٰ اثرات کی حامل جدید ٹیکنالوجیز کی سرپرستی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جو نا مکمل طبی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کے اندر جدید سیل تھراپی پلیٹ فارمز کو فعال بنانا درآمد شدہ علاج پر انحصار کو نمایاں طور پر کم کرے گا اور ہندوستان کو اگلی نسل کی امیونوتھراپیز میں ایک مسابقتی ملک کے طور پر مستحکم کرے گا۔
ایسٹ اوسیون بایو پرائیویٹ لمیٹڈ کے شریک بانیوں ڈاکٹر رینو اور ڈاکٹر دنیش کنڈو نے کہا کہ ٹی ڈی بی کی معاونت کمپنی کے سی اے آر-این کے پلیٹ فارم کی کلینیکل پیش رفت کو تیز کرے گی اور لیبارٹری جدت اور مریضوں تک رسائی کے درمیان خلا کو کم کرنے میں مدد گار ہوگی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایک مقامی، قابلِ توسیع اور کم لاگت کی سیل تھراپی پلیٹ فارم کی تیاری ہندوستان اور اس سے آگے آنکولوجی اور متعدی امراض دونوں کے علاج کے طریقۂ کار میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔
توقع ہے کہ یہ منصوبہ ہندوستان کے حیاتیاتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے، ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کو بڑھانے اور ’آتم نربھر بھارت‘ کے وژن کے مطابق جدید ترین علاج تک کم لاگت رسائی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

***********
Urdu-3079
(ش ح۔م ع ن۔ش ہ ب)
(ریلیز آئی ڈی: 2233031)
وزیٹر کاؤنٹر : 8