لوک سبھا سکریٹریٹ
یونیورسٹیوں کو نوجوانوں میں آئینی اور شہری شعور کو پروان چڑھانے اور ‘ملک مقدم’ کے جذبے سے سرشار نسل تیار کرنے کا مقصد رکھنا چاہیے: لوک سبھا اسپیکر
جمہوریت تب ہی مضبوط ہوتی ہے جب ہر شہری آئینی اقدار کے تئیں باخبر اور ذمہ دار ہوتا ہے: لوک سبھا اسپیکر
ٹیکنالوجی کو محض سہولت میں اضافے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اسے رائے دہندگان کو معلومات فراہم کرنے اور بااختیار بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے: لوک سبھا اسپیکر
لوک سبھا اسپیکر نے او پی جندل گلوبل یونیورسٹی کی طرف سے شروع کیے گئے تین بڑے تعلیمی پروگراموں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 FEB 2026 10:40PM by PIB Delhi
نئی دہلی کے ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں منعقدہ ایک پروگرام میں او پی جندل گلوبل یونو رسٹی کے ذریعہ شروع کیے گئے تین بڑے تعلیمی پروگراموں کے افتتاح کے موقع پر لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکاء سے خطاب کیا ۔
اپنے خطاب میں لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ یونیورسٹیاں محض ڈگریاں دینے والے ادارے نہیں ہیں بلکہ ملک کی تعمیر کے بنیادی ستون ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹیوں کا مقصد نوجوانوں میں آئینی اور جمہوری اقدار اور شہری بیداری کو فروغ دینا اور 'ملک مقدم' کے جذبے سے سرشار ایک باخبر اور ذمہ دار نسل کو تیار کرنا ہونا چاہیے ۔
انہوں نے مزیدکہا کہ او پی جندل یونیورسٹی کے ذریعے متعارف کرائے گئے نئے تعلیمی کورسز عصری ضروریات کے مطابق ہیں اور جمہوری اداروں اور نظاموں کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم اور بصیرت افروز قدم کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام نہ صرف نظریاتی علم فراہم کریں گے بلکہ طلباء کو عملی تفہیم اور قائدانہ صلاحیتوں سے بھی آراستہ کریں گے ۔
جناب اوم برلا نے کہا کہ جمہوریت واقعی تب ہی مضبوط ہوتی ہے جب ہر شہری با خبر ہو ، حقوق اور فرائض دونوں سے آگاہ ہو اور آئینی اقدار کو بھی برقرار رکھے ۔ سیاسی رابطے ، انتخابی انتظام ، اور قانون سازی کے مسودے جیسے موضوعات کا حوالہ دیتے ہوئے ، انہوں نے انہیں موجودہ تناظر میں ضروری قرار دیا ، کیونکہ وہ جمہوری عمل کے معیار اور افادیت کو براہ راست متاثر کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان پروگراموں کے تحت تربیت یافتہ طلباء انتخابات میں زیادہ سے زیادہ عوامی شرکت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے ۔
انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ ہندوستان کے انتخابی عمل کو اس کی شفافیت اور ساکھ کے لیے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سراہا جاتا ہے ۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کے انتخابی نظام کا گہرائی سے مطالعہ اور تحقیق کریں اور اسے مزید مضبوط اور موثر بنانے کے لیے اپنا تعاون پیش کریں ۔
لوک سبھا اسپیکر نے مزید کہا کہ جمہوری اداروں کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے عوامی نمائندوں اور پارلیمانی اہلکاروں کو اچھی تربیت یافتہ ، قابل اور حساس ہونے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرائڈ انسٹی ٹیوٹ آف دی پارلیمنٹ نے 110 سے زیادہ ممالک کے اراکین اور پارلیمنٹ کے عہدیداروں کے لیے تربیتی پروگراموں کا انعقاد کرکے اہم تعاون کیا ہے ، اس طرح عالمی سطح پر ہندوستان کی پارلیمانی روایات اور مہارت کو تقویت ملی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسی وسیع اور گوناگونیت کی حامل جمہوریت میں انتخابی انتظام ایک پیچیدہ اور سائنسی عمل ہے جس کے لیے سخت تجزیہ ، غیر جانبداری اور تکنیکی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ٹیکنالوجی کو انتظام میں سہولت بہم پہنچانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے رائے دہندگان کو معلومات فراہم کرنے ، جانکاری دینے اور بااختیار بنانے کے ذرائع کے طور پر بھی کام کرنا چاہیے ۔
اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے جناب برلا نے امید ظاہر کی کہ جندل یونیورسٹی کی اس پہل سے ایسے نوجوانوں کو پروان چڑھانے میں مددملے گی، جو جمہوری بیداری ، عوامی خدمت ، پالیسی سازی اور صحافت میں بہترین کارکردگی کے نئے معیارات قائم کریں گے ۔ انہوں نے اس اختراعی کوشش کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ ، فیکلٹی ممبران اور طلباء کو نیک خواہشات پیش کیں اور مستقبل میں ان کی کامیابی کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔
اس تقریب میں اساتذہ ، اسکالروں، محققین، پالیسی سازوں ، طلباء اور ممتاز مہمانوں نے شرکت کی۔



***
ش ح۔ م ع ۔ خ م
U.NO.3035
(ریلیز آئی ڈی: 2232648)
وزیٹر کاؤنٹر : 7