ریلوے کی وزارت
مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے بھوپال–دھنباد اور بھوپال–چوپن ایکسپریس ٹرینوں کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا
مدھیہ پردیش سے اتر پردیش اور جھارکھنڈ تک تجارت اور مسافروں کی کنیکٹیویٹی کو مضبوط بنانے کے لیے نئی ریل خدمات شروع
مدھیہ پردیش سے گزر نے والی ڈنکونی سے سورت تک نئی مخصوص مال بردارراہداری(فریٹ کوریڈور) ریاست کی بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد ثابت ہوگی:جناب اشونی ویشنو
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 FEB 2026 9:38PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی جناب اشونی ویشنو نے آج نئی دہلی میں ریل بھون سے ورچوئل وسیلے سے ٹرین نمبر 11631/32 بھوپال–دھنباد–بھوپال نئی سہ ہفتہ وار ایکسپریس اور ٹرین نمبر 11633/34 بھوپال–چوپن–بھوپال نئی ہفتہ وار ایکسپریس کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ یہ اقدام مدھیہ پردیش اور ملحقہ ریاستوں میں ریل رابطہ کاری اور مسافروں کی سہولت میں اضافہ کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

افتتاحی تقریب بھوپال ریلوے اسٹیشن پر مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو، نائب وزرائے اعلیٰ جناب جگدیش دیودا اور جناب راجندر شکلا، اراکین پارلیمنٹ جناب آلوک شرما اور ڈاکٹر راجیش مشرا، اراکین اسمبلی محترمہ رادھا سنگھ اور محترمہ ریتی پاٹھک سمیت دیگر معزز شخصیات کی موجودگی میں منعقد کی گئی۔
مذکورہ نئی ٹرین خدمات ریلوے مسافروں کی سہولت اور مدھیہ پردیش سے اتر پردیش اور جھارکھنڈ تک براہ راست رابطہ کی بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع کی گئی ہیں۔
جناب اشونی ویشنو نے کہا کہ وزیر اعظم کی تاریخی تیسری مدت کارکے دوران مدھیہ پردیش میں ریلوے کی ترقی بے مثال سطح تک پہنچ گئی ہے۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ اس عرصے میں تقریباً 48,000 کروڑ روپے مالیت کے ایسے پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے جو براہ راست مدھیہ پردیش سے منسلک ہیں۔
جناب اشونی ویشنو نے کہا کہ اندور–مانمد نئی ریلوے لائن جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا، خطے کا خوابوں کا ایک پروجیکٹ ہے، جس کو تقریباً 18,000 کروڑ روپے کی لاگت سے منظوری دی گئی ہے۔ بھوساول–کھنڈوا تیسری اور چوتھی لائن کا پروجیکٹ ہے جسے 3,500 کروڑ روپے کی منظور دی گئی ہے، جبکہ پریاگ راج–مانک پور تیسری لائن کے پروجیکٹ کو 1,640 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیاگیا ہے۔ رتلام–ناگدا تیسری اور چوتھی لائن کے پروجیکٹ کو 1,000 کروڑ روپے کی لاگت سے منظوری دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ اٹارسی–ناگپور چوتھی ریلوے لائن منصوبہ 5,400 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا ہے۔ اہم اٹارسی–بھوپال–بینا چوتھی لائن کوریڈور کو،جو ایک نہایت مصروف ترین روٹ ہے، 4,300 کروڑ روپے کی منظور ی دی گئی ہے۔ وڈودرا–رتلام تیسری اور چوتھی لائن کامنصوبہ 8,800 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ کابینہ نے گونڈیا–جبل پور ڈبلنگ پروجیکٹ کو بھی 5,200 کروڑ روپے کی لاگت سے منظورکیاہے۔
دیگر اہم جاری پروجیکٹوں میں رام گنج منڈی–بھوپال، للت پور–سنگرولی، اندور–بدنی، بینا–کٹنی تیسری لائن، ستنا–ریوا اور کٹنی–سنگرولی ڈبلنگ، کٹنی گریڈ سیپریٹر اور گیج کنورژن پروجیکٹ شامل ہیں، جس سے ریلوے کی گنجائش، وقت کی پابندی اور مال برداری کی نقل و حرکت میں نمایاں بہتری ہوگی۔
مال برداری اور لاجسٹکس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مرکزی بجٹ میں ڈنکونی (مغربی بنگال) سے سورت (گجرات) تک ایک نئے مخصوص مال برداری راہداری (فریٹ کوریڈور )کی تجویز پیش کی گئی ہے، جو اوڈیشہ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر سے گزرے گی۔ مرکزی وزیر نے بتایا کہ یہ نیا فریٹ کوریڈور مدھیہ پردیش کی بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ 2,052 کلومیٹر طویل یہ مشرق-مغرب راہداری موجودہ ویسٹرن ڈیڈی کیٹڈ فریٹ کوریڈور سے منسلک ہوگا، جس سے مغربی بندرگاہوں تک اشیاء کی بلا رکاوٹ ترسیل ممکن ہوگی، موجودہ ریلوے نیٹ ورک پر دباؤ کم ہوگا اور صنعتی ترقی کو رفتار فراہم ہو گی۔
وزیر موصوف نے مزید کہا کہ اس کوریڈور کے ذریعے مدھیہ پردیش کو مغربی ساحل کی بڑی بندرگاہوں، خصوصاً گجرات اور مہاراشٹر کی بندرگاہوں سے مؤثر طور پر منسلک کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ مہاراشٹر میں زیر تعمیر وادھون بندرگاہ تکمیل کے بعد دنیا کی بڑی بندرگاہوں میں شامل ہوگی،اس کے ساتھ ساتھ موجودہ بندرگاہیں جیسے ہزیرہ اور مُندرہ بھی ریاست کو بہتر رابطہ فراہم کریں گی۔
ان بندرگاہوں تک تیز رفتار مال برداری رابطہ قائم ہونے سے مدھیہ پردیش کی صنعتوں کو برآمدات اور درآمدات دونوں میں نمایاں فائدہ ہوگا، خواہ وہ کنٹینرائزڈ کارگو ہو یا بڑی مقدار میں مال۔ بہتر لاجسٹکس نظام سے ریاست میں صنعتی ترقی کو مزید رفتار ملنے کی توقع ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ نئی شروع کی گئی ٹرین سروس نے کام کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے سنگرولی کو روزانہ ریلوے رابطہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے اس پیش رفت کو خطے کے لیے ایک اہم تحفہ قرار دیا۔ انہوں نے جناب اشونی ویشنو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سنگرولی کے علاوہ یہ ٹرین سنگرولی اور دھنباد کے درمیان سفر کرنے والے لوگوں کے لیے بھی مفید ثابت ہوگی، جہاں بہت سے رہائش پذیر افراد تجارت، کاروبار اور ملازمت سے وابستہ ہیں۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹرموہن یادو نے کہا کہ اس سروس کے آغاز سے جھارکھنڈ اور بہار کے ساتھ براہ راست ریلوے رابطہ قائم ہوا ہے، جس سے تینوں ریاستوں کے باشندوں کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نئی ریل سروس محض ایک سفری سہولت نہیں بلکہ مستقبل کی ترقی کا راستہ ہے۔
بھوپال–دھنباد–بھوپال نئی سہ ہفتہ وار ایکسپریس (ٹرین نمبر 11631/32)
یہ ٹرین بھوپال اور دھنباد کے درمیان کل 30 اسٹیشنوں پر رکے گی۔ باقاعدہ سروس کے تحت یہ بھوپال سے رات 20:55 بجے روانہ ہوگی اور اگلے دن شام 20:30 بجے دھنباد پہنچے گی۔ واپسی کے سفر میں یہ دھنباد سے صبح 07:20 بجے روانہ ہوگی اور اگلے دن صبح 07:00 بجے بھوپال پہنچے گی۔
یہ ٹرین مجموعی طور پر 24 کوچز پر مشتمل ہوگی، جن میں اے سی، سلیپر اور جنرل کلاس کے ڈبے شامل ہوں گے۔
بھوپال–چوپن–بھوپال نئی ہفتہ وار ایکسپریس (ٹرین نمبر 11633/34)
یہ ٹرین بھوپال اور چوپن کے درمیان 15 اسٹیشنوں پر رکے گی۔ باقاعدہ سروس کے تحت یہ بھوپال سے رات 20:55 بجے روانہ ہوگی اور اگلے دن صبح 10:50 بجے چوپن پہنچے گی۔ واپسی میں یہ چوپن سے شام 17:10 بجے روانہ ہوگی اور اگلے دن صبح 07:00 بجے بھوپال پہنچے گی۔
یہ ٹرین بھی مجموعی طور پر 24 کوچز پر مشتمل ہوگی، جن میں اے سی، سلیپر اور جنرل کلاس کے ڈبے شامل ہوں گے۔
نئی ٹرین خدمات کے فوائد
نئی ٹرین خدمات ودیشا، گنج باسوڑا، بینا، ساگر، داموہ، کٹنی مروارہ، کھنہ بنجاری، بیوہاری، سنگرولی، چوپن، چندرپور اور دھنباد سمیت دیگر مقامات کو براہ راست رابطہ فراہم کریں گی۔
یہ خدمات مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور جھارکھنڈ کے درمیان رابطے کو مضبوطی فراہم کریں گی اور سنگرولی کے کوئلہ کے میدانوں اور صنعتی علاقوں کو دارالحکومت بھوپال سے جوڑیں گی۔ توقع ہے کہ ان خدمات سے تینوں ریاستوں میں تجارت، توانائی اور کان کنی کے شعبوں کو فروغ حاصل ہو گا۔
مسافروں کو سہل، محفوظ اور باحفاظت ریلوے سہولیات میسر آئیں گی، جس سے متوازن علاقائی ترقی کو تقویت حاصل ہو گی۔ مذکورہ نئی ٹرینیں سیاحت، مقامی تجارت، صنعت اور تعلیم کو بھی فروغ دیں گی اور روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ہموار آمد و رفت کوبھی یقینی بنائیں گی۔
ان ٹرینوں کو جھنڈی دکھا کر روانہ کرنا حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ریلوے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے، مسافروں کی سہولیات میں اضافہ کیا جائے اور مختلف خطوں کے درمیان بلا رکاوٹ رابطےکو یقینی بنایا جائے۔
مدھیہ پردیش میں ریلوے کا فروغ
مدھیہ پردیش ریاست، جسے ہندوستان کا دل کہا جاتا ہے، اس ترقیاتی سفر میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ریاست میں ریلوے رابطہ کاری کی توسیع، نئی لائنوں کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے سے تجارت، سیاحت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف ریاست کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے بلکہ ملک کی مجموعی ترقی میں بھی یہ نمایاں رول اداکررہاہے۔
مرکزی بجٹ 27-2026 میں بھارتیہ ریلویز کے لیے 2,93,030 کروڑ روپے کا ریکارڈ کیپیٹل اخراجات مختص کئے گئے اور تحفظ و سلامتی کے لیے 1.20 لاکھ کروڑ روپے کی ریکارڈ رقم رکھی گئی ہے۔ اسی سلسلے میں مدھیہ پردیش کو ریلوے کی ترقی کے لیے 15,188 کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں، جو2014-2009 کے مقابلے میں 24 گنا زیادہ ہیں۔ یہ ریکارڈ مختص رقم ،مدھیہ پردیش میں ریلوے بنیادی ڈھانچے، تحفظ، سلامتی، مسافروں کی سہولیات اور مال برداری کی گنجائش کو نئی رفتار فراہم کرے گی۔
فی الحال ریاست میں 1,18,379 کروڑ روپے مالیت کے ریلوے پروجیکٹ جاری ہیں اور مدھیہ پردیش میں ریلوے لائنوں کی 100 فیصد برق کاری مکمل ہو چکی ہے۔ امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت 80 اسٹیشنوں کی ازسرِنو ترقی کی جا رہی ہے، جن میں سے بعض کا افتتاح وزیر اعظم نے 2025 میں کیاتھا۔
تحفظ کے شعبے میں مدھیہ پردیش میں 4,591 روٹ کلومیٹر کے دائرے پر کَوَچ نظام نافذ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ مسافروں کی سہولت کے لیے ریاست میں وندے بھارت ایکسپریس کی 5 جوڑیاں اور امرت بھارت ایکسپریس کی 4 جوڑیاں چلائی جا رہی ہیں۔ اس سال مزید وندے بھارت ایکسپریس، امرت بھارت ایکسپریس اور نئی ٹرینیں بھی شروع کی جائیں گی۔
***
ش ح۔ش م۔م ق ا
U- 3010
(ریلیز آئی ڈی: 2232565)
وزیٹر کاؤنٹر : 6