صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیرِ صحت جے پی نڈا نے یشودا میڈی سٹی میں اے آئی سے لیس ای۔آئی سی یو کمانڈ سینٹر کا افتتاح کیا تاکہ ٹیکنالوجی پر مبنی انتہائی نگہداشت کی خدمات کو مضبوط بنایا جا سکے


مرکزی وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی سے مربوط صحت کی سہولیات بروقت فراہمی، تشخیصی درستگی اور انتہائی نگہداشت میں حقیقی وقت کی نگرانی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں

ملک بھر میں1.81 لاکھ سے زائدآیوشمان آروگیہ مندر فعال ہیں، ان میں سے 50 ہزار سے زیادہ کو این کیو اے ایس کے تحت تصدیق حاصل ہو چکی ہے:مرکزی وزیرِ صحت

حکومت نے آئندہ دو برسوں کے اندر تمام آیوشمان آروگیہ مندروں کے لیے100 فیصد این کیو اے ایس سرٹیفکیشن حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے

مرکزی وزیرِ صحت نے صحت کے شعبے میں اے آئی کے اخلاقی اور مستند استعمال کو فروغ دینے کے لیے ساہی پورٹل اور بودھ اقدام کے آغاز کو بھی اجاگر کیا

لینسٹ میں شائع شدہ ایک مطالعے کے مطابق آیوشمان بھارت یوجنا کینسر کی تشخیص کے 90 دن کے اندر علاج کے آغاز میں معاون ثابت ہو رہی ہے:جناب نڈا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 FEB 2026 8:04PM by PIB Delhi

ٹیکنالوجی پر مبنی حل کے ذریعہ انتہائی نگہداشت کی صلاحیت میں اضافے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مرکزی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود جے پی نڈا نے آج یشودا میڈیسٹی میں اے آئی سے لیس ای۔آئی سی یو کمانڈ سینٹر کا افتتاح کیا۔ یہ کمانڈ سینٹر مصنوعی ذہانت کو مرکزی نگرانی کے نظام کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ طبی نتائج میں بہتری اور انتہائی نگہداشت کے نظم و نسق کو مؤثر اور منظم بنایا جا سکے۔

اس موقع پرایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود  جناب جگت پرکاش نڈا نے یشودا میڈی سٹی کی جانب سے 65 سے زائدمختلف شعبہ جات میں معیاری صحت خدمات کی فراہمی اور ایک جامع ملٹی اسپیشلٹی نظام کے قیام کو سراہا۔ انہوں نے ای۔آئی سی یو سہولت کوایم ایم جی ضلع اسپتال کے ساتھ مربوط کرنے کے اقدام کو ادارے کی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری اور اشتراکی عوامی صحت کو مضبوط بنانے کے عزم کا مظہر قرار دیا۔

1.jpg

مرکزی وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی سے مربوط صحت کی خدمات بروقت مداخلت، تشخیص میں درستگی اور مسلسل حقیقی وقت کی نگرانی کو یکجا کرتی ہیں، جو ہنگامی اور انتہائی نگہداشت کے ماحول میں نہایت اہم ہیں، جہاں فوری فیصلہ سازی نتائج پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی سے معاونت یافتہ آئی سی یوز پیچیدہ طبی حالات میں بروقت انتباہ فراہم کرتے ہیں، زیادہ خطرے والے مریضوں کی بہتر نشاندہی ممکن بناتے ہیں اور معالجین کو اعداد و شمار پر مبنی بصیرت فراہم کرتے ہیں تاکہ فیصلہ سازی کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی سے لیس ای۔آئی سی یو کمانڈ سینٹر کا افتتاح انتہائی نگہداشت کی فراہمی کو مزید مضبوط کرے گا اور مریضوں کی حفاظت میں اضافہ کرے گا۔

وسیع تر قومی وژن کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندرمودی کی قیادت میں حکومت نے صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کے انضمام کو ترجیح دی ہے، جو ایک ڈیجیٹل اور اے آئی سے بااختیار ہندوستان کے وژن کا حصہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ نیشنل ہیلتھ پالیسی2017 نے ڈیجیٹل انڈیا اقدام سے ہم آہنگ ایک جامع ڈیجیٹل صحت نظام کی بنیاد رکھی۔ جس کا مقصد ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کی خدمات کی فراہمی میں تبدیلی لانا ہے۔

2.jpg

انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں1.81 لاکھ سے زائدایوشمان آروگیہ مندر فعال کیے جا چکے ہیں۔ جس سے جامع بنیادی صحت خدمات کی فراہمی کو نمایاں طور پر تقویت ملی ہے۔ ان میں سے 50 ہزار سے زیادہ مراکز کو نیشنل کوالٹی اشورنس اسٹینڈرڈز(این کیو اے ایس) کے تحت تصدیق دی جا چکی ہے، جو معیار میں بہتری کے حوالے سے ٹھوس پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ آئندہ دو برسوں میں تمام آیوشمان آروگیہ مندروں کو این کیو اے ایس سرٹیفکیشن حاصل ہو، تاکہ ملک بھر میں بنیادی سطح پر یکساں اور اعلیٰ معیار کی نگہداشت کو ادارہ جاتی شکل دی جا سکے۔

جناب نڈا نے مزیدای سنجیونی ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارم کی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ٹیلی کنسلٹیشن کے ذریعے45.2 کروڑ افراد کو خدمات فراہم کی جا چکی ہیں۔ جس سے خصوصاً دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ماہرینِ صحت تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے زچہ و بچہ صحت خدمات کی نگرانی کے لیے قائم یو-ڈبلیو آئی این ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا بھی ذکر کیا۔ جس کے تحت حاملہ خواتین کا اندراج اور نگرانی کی جاتی ہے تاکہ قبل از پیدائش معائنے اور حفاظتی ٹیکہ جات بروقت یقینی بنائے جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ یو-وِن میں رجسٹریشن کی تعداد 11.47 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جو یونیورسل امیونائزیشن پروگرام کی معاونت کر رہی ہے۔ یہ پروگرام 12 قابلِ انسداد بیماریوں سے تحفظ کے لیے 27 ویکسین خوراکیں فراہم کرتا ہے اور تقریباً 99 فیصد حفاظتی ٹیکہ کاری کوریج میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

3.jpg

مرکزی وزیرِ صحت نے بیماریوں پر قابو پانے میں ڈیجیٹل آلات اور مصنوعی ذہانت کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی سے لیس ہینڈ ہیلڈ ایکس رے آلات نے تپِ دق (ٹی بی) کی اسکریننگ کی کوششوں کو مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں ٹی بی کی شرحِ وقوع میں17 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو عالمی اوسط 7 فیصد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ زچگی کی اموات اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرحِ اموات میں بہتری عالمی اوسط سے بہتر رہی ہے۔ جس کا سہرا مضبوط ڈیجیٹل ٹریکنگ اور ہدفی مداخلتوں کو جاتا ہے۔

وزیرموصوف نے اے آئی سمٹ کے دوران ساہی پورٹل(اسٹریٹیجی فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس اِن ہیلتھ کیئر فار انڈیا)پورٹل کے اجرا کا بھی ذکر کیا۔ جس کا مقصدصحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بودھ(بینچ مارکنگ اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم فار ہیلتھ اے آئی) اقدام کا حوالہ دیا، جو اے آئی پر مبنی صحتی حل کی توثیق اور جانچ کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

عوامی صحت کے میدان میں ہندوستان کی کامیابیوں کو نمایاں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک ویکسینیشن اور کم لاگت ادویات کی تیاری میں عالمی رہنما کے طور پر ابھرا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جہاں ماضی میں ویکسین اور علاج کی تیاری میں دہائیاں لگ جاتی تھیں، وہیں ہندوستان نے نو ماہ کے اندر دو مقامی کووِڈ-19 ویکسین تیار کیں اور 220 کروڑ سے زائد خوراکیں فراہم کیں، جن کی مکمل ڈیجیٹل سرٹیفکیشن بھی یقینی بنائی گئی۔

آیوشمان بھارت-پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی عوامی مالی اعانت سے چلنے والی صحت یقین دہانی اسکیم ہے، جو تقریباً 62 کروڑ مستفیدین کو محیط ہے، جن میں 70 سال سے زائد عمر کے تمام بزرگ شہری شامل ہیں، خواہ ان کی سماجی و معاشی حیثیت کچھ بھی ہو۔ اس اسکیم کے تحت ہر خاندان کو سالانہ 5 لاکھ روپے تک کی صحت کوریج فراہم کی جاتی ہے۔

لینسٹ میں شائع شدہ نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آیوشمان بھارت یوجنا کے تحت مالی تحفظ میں توسیع اور علاج تک رسائی کے منظم نظام کی بدولت کینسر کی تشخیص کے 90 دن کے اندر علاج کے آغاز کو ممکن بنایا گیا ہے، جو بروقت مداخلت اور علاج میں تاخیر کم کرنے میں اسکیم کے مؤثر کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

مرکزی وزیرِ صحت نے زور دے کر کہا کہ صحت کے نظام میں اے آئی اور ڈیجیٹل جدت کے انضمام سے ایک انقلابی پالیسی تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے، جو ملک بھر میں صحت خدمات کی دستیابی، استطاعت، معیار اور مساوات کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔

4.jpg

یشودا میڈی سٹی میں قائم کردہ اے آئی سے لیس ای۔آئی سی یو کمانڈ سینٹر بیس کمانڈ سینٹر کوایم ایم جی ضلع اسپتال کی آئی سی یو سہولت سے منسلک کرتا ہے، جس کے ذریعے تشویشناک حالت میں مریضوں کی مصنوعی ذہانت کی معاونت سے حقیقی وقت میں نگرانی ممکن ہو گئی ہے۔ یہ نظام اسپتال کے معلوماتی نظام اور بیڈ سائیڈ آلات کو ایک مرکزی ڈیش بورڈ میں یکجا کرتا ہے، جہاں اے آئی پر مبنی تجزیاتی نظام خطرے کی درجہ بندی میں مدد دیتا ہے، طبی حالت میں بگاڑ کی صورت میں بروقت انتباہ جاری کرتا ہے اور چوبیس گھنٹے ماہرین کی نگرانی میں شواہد پر مبنی بروقت مداخلت کو یقینی بناتا ہے۔

یہ اقدام ضلع اسپتال کی سطح پر انتہائی نگہداشت کی خدمات کو مضبوط بنانے کی توقع رکھتا ہے۔جس کے تحت طبی ہم آہنگی کو بہتر بنایا جائے گا۔ علاج کے معیاری پروٹوکول کو نافذ کیا جائے گا اور زمینی سطح پر موجود طبی ٹیموں کو منظم رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ پسماندہ علاقوں تک ماہرین کی نگرانی کو توسیع دے کر اس ماڈل کا مقصد مریضوں کے نتائج میں بہتری لانا اور معیاری انتہائی نگہداشت تک رسائی کو وسعت دینا ہے، جو حکومت کی جانب سے ملک بھر میں ڈیجیٹل صحت اور انتہائی نگہداشت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی وسیع تر کوششوں سے ہم آہنگ ہے۔

اس موقع پر وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے سینئر افسران،یشودا میڈیسٹی کے نمائندگان، طبی ماہرین اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔

   ***

UR-3017

(ش ح۔م ح ۔ ف ر )


(ریلیز آئی ڈی: 2232554) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी