شہری ہوابازی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

شہری ہوا بازی  کے مرکزی وزیرجناب کنجاراپو رام موہن نائیڈو نےکابینہ کے ذریعہ  سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کی توسیع کی منظوری کا خیرمقدم کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 FEB 2026 7:50PM by PIB Delhi

شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر جناب کنجاراپو رام موہن نائیڈو نے اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی کے ذریعہ سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کے سول انکلیو کی 1,677 کروڑ روپےکی لاگت کے توسیع  منصوبہ کو منظورکیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ منصوبہ ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) کے ذریعے نافذ کیا جائے گا،  جوجموں و کشمیر میں ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور جامع ترقی کو تیز کرنے کی سمت ایک تاریخی سنگ میل ہے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں حکومت علاقائی رابطے کو تبدیل کرنے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کی بے پناہ معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔

سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈہ اس وقت سالانہ تقریباً 44.7 لاکھ مسافروں (مالی سال25-2024)، تقریباً 28,500 طیاروں کی پروازوں اور تقریباً 10,000 میٹرک ٹن مال برداری کو سنبھالتا ہے۔ خاص طور پر موسم گرما کے مہینوں میں جوسیزن کے عروج کا وقت ہوتا ہے، ایسے میں موجودہ ٹرمینل کی گنجائش مسلسل تجاوز ہو جاتی ہے، جو توسیع کی فوری ضرورت کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔

منظور شدہ منصوبے سے ہوائی اڈے کی سالانہ مسافروں کو سنبھالنے کی گنجائش چار گنا بڑھ جائے گی — یعنی سالانہ 25 لاکھ سے بڑھ کر 1 کروڑ مسافروں تک ہونے کا امکان ہے۔مصروف اوقات کے دوران مسافروں کو سنبھالنے کی گنجائش 950 سے بڑھ کر 2,900 ہو جائے گی، جس سے بھیڑ کم ہوگی اور مسافروں کی سہولت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اپرون کو 15 طیاروں، بشمول وائیڈ باڈی طیاروں کے لیے بڑھایا جائے گا، جس سے ملکی اور بین الاقوامی رابطے بہتر ہوں گے اور سری نگر کو شمالی ہندوستان کے لیے ایک اہم ہوابازی کا گیٹ وے کے طور پر مستحکم مقام حاصل ہوگا۔

اس وقت جموں و کشمیر کی مجموعی ریاستی قومی پیداوار (جی ایس ڈی پی) میں تقریباً 7؍فیصد کا حصہ سیاحت کا ہے۔ توقع ہے کہ بہتر ہوا بازی کے رابطے اور عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ یہ حصہ آنے والے برسوں میں 10 سے 12؍فیصد تک بڑھ جائے گا۔ مرکز کے زیر انتظام اس علاقے میں فی الحال سالانہ تقریباً 1.7 کروڑلوگ آتے ہیں، اور اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ تعداد معتدل ترقی کی صورت میں2.7 تا3.0 کروڑ تک پہنچ جائے گی، جبکہ تیز رفتار ترقی کے منظرناموں میں یہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

توسیع سے ہوائی اڈے کی کارروائیوں، ایئرلائنز، ہوٹلنگ، سیاحت، لاجسٹکس اور متعلقہ شعبوں میں براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ بہتر رابطے کے ذریعے اعلیٰ قیمت والے علاقائی مصنوعات جیسے سیب، زعفران، دستکاری، ہاتھ سے بنے قالین، خشک میوہ جات اور باغبانی کی پیداوار کی برآمدات کو بھی فروغ ملے گا۔

نیا ٹرمینل کشمیر کی  مالا مال ثقافتی وراثت کی عکاسی کرے گا، جبکہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور پائیدار ڈیزائن خصوصیات کو بھی شامل کرے گا، جن میں توانائی کی بچت کے نظام، موزوں قدرتی روشنی اور پانی کی بچت کے اقدامات شامل ہیں، جس کا ہدف اعلیٰ جی آر آئی ایچ اے (جی آرآئی ایچ اے) پائیداری کی درجہ بندی حاصل کرنا ہے۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے جناب کنجاراپو رام موہن نائیڈو نے کہا:

’’عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جموں و کشمیر کی ریاست کی ترقی کے عزم سے متاثر ہو کر اور آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سری نگر ایئرپورٹ وادی کشمیر کی عروج کی علامت کے طور پر ابھرا ہے۔ گزشتہ  برس میں نے ذاتی طور پر سری نگر ایئرپورٹ میں توسیعی کاموں کا دورہ کر کے جائزہ لیا۔ ہم اگلے دو برس کے اندر سری نگر میں ایک جدید اور جدید ترین ٹرمینل تیار کرنے جا رہے ہیں۔اس سے خطے کی ترقی تیز ہوگی،رابطوں میں بہتری آئےگی اور مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا۔

یہ منصوبہ حکومت ہند کی علاقائی یکجہتی کو مضبوط بنانے، معاشی خوشحالی کو فروغ دینے اور جموں و کشمیر کے عوام کی امنگوں کو مکمل طور پر حاصل کرنے کے عزم  کا اعادہ کرتا ہے۔

*********

ش ح۔ م ع ن۔  م ش

U.NO.3016


(ریلیز آئی ڈی: 2232548) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी