شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
ایم او ایس پی آئی نے 24 فروری 2026 کو ‘‘حکمرانی کے لیے انتظامی ڈیٹا کا استعمال: ریاستی/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی سطح پر محکمہ جاتی ڈیٹا کو ہم آہنگ کرنا’’ کے موضوع پر ایک قومی سطح کی مشاورتی ورکشاپ منعقد کی
ایم ای آئی ٹی وائی کے سکریٹری جناب ایس کرشنن نے کہا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ ڈیٹا شیئر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینا مفید ہو
ذہانت کے دور میں ، ڈیٹا کو قابل عمل بصیرت میں تبدیل کیا جانا چاہیے: محترمہ دیبجانی گھوش ، نامور فیلو ، نیتی آیوگ
ہمیں ڈیٹا سائلوز سے نکل کر ڈیٹا ہم آہنگی کی جانب بڑھنے کی ضرورت ہے: ڈاکٹر سوربھ گرگ، سکریٹری، وزارت شماریات و پروگرام نفاذ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 FEB 2026 8:06PM by PIB Delhi
شماریات اور پروگرام کےنفاذ کی وزارت نے 24 فروری 2026 کو وگیان بھون نئی دہلی میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مرکزی وزارتوں اور دیگر متعلقہ فریقین کے تعاون سے "انتظامی ڈیٹا کو حکمرانی کے لیے استعمال کرنا: ریاستی سطح پر محکمہ جاتی ڈیٹا کی ہم آہنگی" کے موضوع پر قومی سطح کا مشاورتی ورکشاپ منعقد کی۔
یہ ورکشاپ اپریل 2026 میں ہونے والے آئندہ قومی سطح کے مشاورتی اجلاس "ترقی کے لیے ڈیٹا" کی تیاری کے عمل کا حصہ ہے، جس میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ ساتھ دیگر متعلقہ فریقین شریک ہوں گے۔ اس اجلاس کا موضوع "انتظامی ڈیٹا کو حکمرانی کے لیے استعمال کرنا: ریاستی سطح پر محکمہ جاتی ڈیٹا کی ہم آہنگی" ہوگا اور شماریات اور پروگرام کے نفاذ سے متعلق وزارت دسمبر 2025 میں ہونے والی پانچویں قومی کانفرنس برائے چیف سیکرٹریز ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تسلسل کے طور پر منعقد کرے گی۔
اس سربراہ اجلاس کا مقصدایک منظم قومی ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے تاکہ انتظامی ڈیٹا کے نظام کو مضبوط کیا جا سکے اور ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی سطح پر محکموں کے درمیان ذمہ دارانہ ڈیٹا ہم آہنگی کو فعال بنایا جا سکے۔
ورکشاپ کا مقصد ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو آئندہ چند ہفتوں میں داخلی ورکشاپس منعقد کرنے کے لیے مقاصد، دائرہ کار اور اہم کلیدی موضوعات سے آگاہ کرنا تھا۔ سینئر افسران مرکز اور ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے، بین الاقوامی ایجنسیوں، تھنک ٹینکوں اور دیگر متعلقہ فریقین کے ماہرین نے انتظامی ڈیٹا کی ہم آہنگی کے مختلف پہلوؤں پر غور و خوض کیا اور ورکشاپ میں چند کامیاب استعمال کے کیسز پیش کیے۔ ریاستی سطح کی ورکشاپس سے حاصل ہونے والے مشورے اپریل 2026 میں قومی سطح کے سربراہ اجلاس میں زیر بحث آئیں گے تاکہ اس موضوع پر ترجیحی اصلاحی شعبوں کی شناخت کی جا سکے۔
ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے متعدد شخصیات نے خطاب کیا جس میں ایس کرشنن، سکریٹری، وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی؛ دبجانی گھوش، نامور فیلو، نیتی آیوگ؛ تھامس ڈینیلیلز، سینئر اکنامسٹ، ورلڈ بینک؛ ڈاکٹر سوربھ گرگ، سکریٹری، وزارت شماریات اور پروگرام نفاذ اور ڈائریکٹر جنرل (ڈیٹا گورننس)،ایم او ایس پی آئی شامل تھے۔

جناب ایس کرشنن، سکریٹری، وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے حکومت کے محکموں میں ڈیٹا کے الگ تھلگ نظام (ڈیٹا سائلوز) کو ختم کرنے اور مرکزی نظاموں سے آگے بڑھ کر ریاستی اور ضلعی منتظمین اور فیلڈ سطح کے افسران تک ڈیٹا کی رسائی کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مشین ریڈ ایبلٹی ڈیٹا اور حقیقی وقت کی تجزیاتی صلاحیتوں (ریئل ٹائم اینالیٹکس) کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نگرانی اور نفاذ کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نظاموں کی آپسی مطابقت (انٹرآپریبلٹی) اور ذمہ دارانہ ڈیٹا شیئرنگ شواہد پر مبنی حکمرانی کو مضبوط کریں گے۔
محترمہ دبجانی گھوش، ممتاز فیلو، نیتی آیوگ نے افادیت پر مبنی عالمی کاری (ایفیشنسی ڈرائیوَن گلوبلائزیشن) سے “ذہانت کے دور” کی جانب منتقلی پر بات کی، جہاں ڈیٹا کو قابل عمل بصیرت (ایکشن ایبل انسائٹس) میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیٹا تک رسائی، نظاموں کی آپسی مطابقت ، اور اعتماد شعور کو جمہوری بنانے نیز نچلی سطح پر حقیقی وقت میں فیصلہ سازی کے لیے لازمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اب ذہانت کے دور میں داخل ہو رہے ہیں اور ذہانت کی حقیقی طاقت اس کے جمہوری استعمال میں مضمر ہے۔
عالمی بینک کے سینئر ماہراقتصایات جناب تھامس ڈینیلیلز نے ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت کے انقلاب کے لیے بنیادی ڈھانچہ قرار دیا اور غیر مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا سیٹس کو مربوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مربوط ڈیٹا نظام شہریوں اور کاروباروں پر عمل آوری کے بوجھ کو کم کر سکتا ہے جبکہ افادیت میں اضافہ اور لاگت کی بچت کو فروغ دیتا ہے۔
ڈاکٹر سوربھ گرگ ، سکریٹری، ایم او ایس پی آئی نے اجلاس کا اختتام کرتے ہوئے عزت مآب وزیرِاعظم کے اس وژن کو دہرایا کہ سرکاری افسران کو "ڈیٹا کاشوقین" بنایا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ ڈیٹا کو الگ تھلگ ذخیرہ کرنے کے بجائے فعال طور پر استعمال کیا جائے۔ انہوں نے ریاستوں سے کہا کہ وہ ریاستی اور ضلعی سطح پر ورکشاپس منعقد کریں تاکہ ڈیٹا پر مبنی حکمرانی کو باقاعدہ طور پر نافذ کرنے کے لیے وسیع مشاورت ممکن ہوسکے۔

اپنے خیرمقدمی خطاب میں، جناب پی آر مشرم، ڈائریکٹر جنرل (ڈیٹا گورننس)، وزارت شماریات اور پروگرام نفاذ نے زور دیا کہ انتظامی ڈیٹا کو شواہد پر مبنی حکمرانی کے لیے اہمیت کا حامل ایک قومی اثاثہ سمجھا جانا چاہیے اور انہوں نے الگ تھلگ ڈیٹا سیٹس سے ہم آہنگ، آپسی مطابقت رکھنے والے اور محفوظ طریقے سے مربوط ڈیٹا ماحولیاتی نظام کی جانب منتقلی کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔
دن بھر جاری رہنے والی ورکشاپ میں انتظامی ڈیٹا کو حکمرانی کے لیے استعمال کرنے کے مرکزی موضوع پر مرکوز چار موضوعاتی اجلاس منعقد کیے گئے۔سی ای جی آئی ایس، ایک اسٹپ، مائیکروسافٹ، بھارت ڈیجیٹل اور ریاستوں جیسے کرناٹک، اڈیشہ، تمل ناڈو، راجستھان کے سینئر افسران کے ممتاز مقررین نے پالیسی سے متعلق بصیرت پیدا کرنے کے لیے روزمرہ کے انتظامی ڈیٹا کے مؤثر استعمال پر پریزنٹیشنز دیں۔ انہوں نے ڈیٹا کے دوبارہ استعمال اور انضمام میں عام چیلنجز، خاص طور پر ڈیٹا کے معیار سے متعلق مسائل کو بھی اجاگر کیا اور ڈیٹا انضمام کو معاونت فراہم کرنے کے لیے درکار ادارہ جاتی ڈھانچوں کا جائزہ لیا۔
ورکشاپ میں قانونی اور حکمرانی کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص مقاصد کے لیے ڈیٹا رابطوں کو عملی جامہ پہنانے پر بحث کی گئی۔ اے آئی کے لیے تیار اور قابل رسائی ڈیٹاماحولیاتی نظام قائم کرنے کے لیے درکار بنیادی ستونوں پر بھی غور و خوض کیا گیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈیٹا کو ڈیزائن کے مطابق لنک ایبل بنایا جائے، اور یکساں معیارات اور شناخت کار استعمال کیے جائیں۔
ورکشاپ کا مقصد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں انتظامی ڈیٹا سیٹس کو منظم طریقے سے ہم آہنگ اور مربوط کرنے کے لیے مشترکہ فہم اور عملی روڈ میپ وضع کرنا تھا۔ یہ ورکشاپ اپریل 2026 کے قومی سربراہ اجلاس تک کے لیے طے شدہ وقت کی حدود کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ بحث و مباحثے نے اس بات کی مشترکہ یقین دہانی کرائی کہ شواہد پر مبنی حکمرانی کو مضبوط کرنے کے لیے انٹرآپریبل، اے آئی کے لیے تیار، اور ڈیزائن کے مطابق لنک ایبل ڈیٹا سسٹمز تیار کیے جائیں۔
***
ش ح۔ش م۔م ق ا
U- 3008
(ریلیز آئی ڈی: 2232532)
وزیٹر کاؤنٹر : 4