ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
مرکزی وزیر جناب جینت چودھری نے سی ایس ٹی اے آر آئی، کولکاتا کی تعلیمی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا
آڈیٹوریم کا سنگِ بنیاد رکھا
شجرکاری مہم میں شرکت کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 FEB 2026 6:59PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے فروغ ہنر مندی و صنعت کاری اور وزیر مملکت برائے تعلیم، جناب جینت چودھری نے آج سینٹرل اسٹاف ٹریننگ اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایس ٹی اے آر آئی)، کولکاتا کا دورہ کیا تاکہ ادارے میں جاری تعلیمی اصلاحات، نصاب کی تیاری سے متعلق اقدامات اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے منصوبوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
دورے کے دوران وزیر موصوف نے مختلف اہم اسکیموں کے تحت صنعت سے ہم آہنگ اور مستقبل پر مبنی نصاب کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں سی ایس ٹی اے آر آئی کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا، جن میں کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم، اپرنٹس شپ ٹریننگ اسکیم اور کرافٹس انسٹرکٹر ٹریننگ اسکیم شامل ہیں۔ ادارے نے ان اسکیموں کے تحت خاطر خواہ تعداد میں کورسز تیار کئے ہیں اور ان کی تازہ کاری کی ہے اور متعدد پروگراموں کو نیشنل کریڈٹ فریم ورک کی سطحوں سے ہم آہنگ کیا ہے، جنہیں این سی وی ای ٹی کی منظوری حاصل ہے۔ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور سبز شعبوں پر زور دیتے ہوئے سی ایس ٹی اے آر آئی نے تمام تربیت حاصل کرنے والوں کے لیے مصنوعی ذہانت سے متعلق بنیادی ماڈیول متعارف کرایا ہے اور جدید دور کے کورسز جیسے ڈیٹا اینوٹیشن اسسٹنٹ، مصنوعی ذہانت پروگرامنگ اسسٹنٹ، سائبر سیکیورٹی اسسٹنٹ، سیمی کنڈکٹر ٹیکنیشن اور 5جی نیٹ ورک ٹیکنیشن تیار کیے ہیں۔ اس کے علاوہ گرین ہائیڈروجن پیداوار اور نیوکلیئر پاور پلانٹ ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں خصوصی نصاب بھی مرتب کیا گیا ہے۔
اساتذہ، افسران اور تربیت حاصل کرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے جناب جینت چودھری نے کہا: ’’سی ایس ٹی اے آر آئی کولکاتا، نصاب کی تیاری، تربیت دہندگان کی ترقی اور تحقیق پر مبنی اقدامات کو مضبوط بنا کر بھارت کے ہنر مندی نظام کی ادارہ جاتی صلاحیت کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جیسے جیسے بھارت ٹیکنالوجی، صاف توانائی اور جدید مینوفیکچرنگ کے نئے میدانوں کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے، ہمارے اداروں کو چست، اختراعی اور عالمی معیار کے مطابق رہنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت اور گرین ہائیڈروجن جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کا انضمام اور بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ادارے قائم کریں، جو ہماری نوجوان نسل کو بااختیار بنائیں اور بھارت کو عالمی ہنر مندی مرکز کے طور پر مزید مستحکم کریں۔‘‘
وزیر موصوف کو نصاب میں نظرِ ثانی کے لیے ادارے کے منظم مشاورتی طریقۂ کار سے بھی آگاہ کیا گیا، جس میں صنعت کے ماہرین، ریاستی ڈائریکٹوریٹس، سیکٹر اسکل باڈیز اور تربیتی اداروں کے ساتھ مشاورت شامل ہے، تاکہ بدلتی ہوئی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق بروقت ردِعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا: ’’ہمارے نصاب کا ڈھانچہ چست، ٹیکنالوجی سے لیس اور عالمی معیارات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ سی ٹی ایس اور سی آئی ٹی ایس کورسز کا باقاعدہ جائزہ ناگزیر ہے تاکہ وہ صنعت کی حقیقی ضروریات کی عکاسی کریں، جہاں موزوں ہو وہاں مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو شامل کریں اور اساتذہ و تربیت یافتگان کو مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار کریں۔ سی ایس ٹی اے آر آئی اور این آئی ایم آئی کے درمیان معیاری کورس اور مواد کی تیاری کے مشترکہ ویژن کے تحت ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ مزید برآں، این ایس کیو ایف سے ہم آہنگ فریم ورک کے تحت جاپانی اور جرمن جیسی بین الاقوامی طور پر اہم زبانوں کی مہارتوں کا انضمام ہماری ہنر مند نوجوان نسل کے عالمی روزگار کے امکانات کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔ ہمارا مقصد واضح ہے — بھارت کے ہنر مندی نظام کو پائیدار، عالمی سطح پر مسابقتی اور مستقبل نگر بنانا۔‘‘
ادارے کی تربیتی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر موصوف نے نوٹ کیا کہ سی ایس ٹی اے آر آئی نے موجودہ مالی سال میں اپنے سالانہ تربیتی ہدف سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جہاں 1200 کے ہدف کے مقابلے میں 1211 شرکاء کو تربیت فراہم کی گئی۔
تربیتی پروگراموں میں انجینئرنگ سروسز امتحان کے ذریعے منتخب افسران کے لیے بنیادی کورسز، ڈی جی ٹی افسران کے لیے ابتدائی اور دورانِ ملازمت پروگرام، ٹرینرز کی صلاحیت میں اضافے کے اقدامات، تدریسی تربیت، روزگار سے متعلق مہارتوں کی تربیت اور وزیر اعظم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا جیسے قومی پروگراموں کے تحت ماسٹر ٹرینرز کی استعداد سازی شامل ہیں۔
ادارے کے طویل مدتی ترقیاتی منصوبے کے تحت وزیر نے 200 نشستوں پر مشتمل ایک آڈیٹوریم کا سنگِ بنیاد رکھا، جو سی ایس ٹی اے آر آئی کے تعلیمی اور تربیتی بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنائے گا۔ انہیں ایک نئے تعلیمی بلاک اور 50 کمروں پر مشتمل ایگزیکٹو ہاسٹل کی تعمیر کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا گیا، جو بڑھتی ہوئی تربیتی سرگرمیوں کی معاونت کریں گے۔ اس موقع کی مناسبت سے وزیر نے کیمپس میں شجرکاری مہم میں حصہ لیا اور عوامی اداروں میں پائیدار ترقی اور سبز طرزِ عمل کی اہمیت کو دہرایا۔
دورے کا اختتام اساتذہ اور افسران کے ساتھ ایک تبادلۂ خیال پر ہوا، جس میں نصاب کی ماڈیولر تشکیل کو تیز کرنے، صنعت کے ساتھ شراکت داری کو گہرا کرنے اور قومی ہنر مندی ترجیحات کے مطابق ادارہ جاتی معیار کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔




******
ش ح۔م م۔ ول
Uno-2998
(ریلیز آئی ڈی: 2232394)
وزیٹر کاؤنٹر : 10