سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بائیوٹیکنالوجی کے محکمے کے 40 ویں یوم تاسیس کے موقع پر ، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے "سوجوکا" کے نام سےاے آئی پر مبنی بائیوٹیک پروڈکٹ ڈیٹا پورٹل کا آغاز کیا ، جسے صنعتی شراکت داروں اے بی ایل ای کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے


بایوٹیکنالوجی اگلے صنعتی انقلاب کی محرک ہوگی؛ ہندوستان 2047 تک ایک ٹریلین ڈالر کی حیاتیاتی معیشت کی جانب تیزی سے گامزن ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

دو ہزار چودہ کے بعد سے 11,000 سے زائد بایوٹیک اسٹارٹ اپس قائم ہو چکے ہیں؛ بایو ای3 پالیسی ملک بھر میں اعلیٰ کارکردگی والی بایو مینوفیکچرنگ کو فروغ دے گی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈی بی ٹی نے 40 سال مکمل کر لیے؛ ہندوستان کی حیاتیاتی معیشت ایک دہائی میں 16 گنا بڑھ کر 165.7 بلین ڈالر تک پہنچ گئی، جس نے ترقی کی داستان میں بایوٹیکنالوجی کے مرکزی کردار کو مضبوط کیا

بائیوٹیک انٹرپرائزز کو فروغ دینے کے لیے 2,000 کروڑ روپے کی آر ڈی آئی نیشنل کال ؛ تحقیق اور اختراع کو تیز کرنے کے لیے اے آئی-بائیوٹیکنالوجی کی ہم آہنگی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 FEB 2026 7:14PM by PIB Delhi

محکمۂ بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کے 40 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر آج سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیرِ اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے صنعتی شراکت داروں اے بی ایل ای کے تعاون سے تیار کردہ سوجوکااے آئی پر مبنی بایوٹیک پروڈکٹ ڈیٹا پورٹل کا آغاز کیا۔

سوجوکا ایک تجارتی شماریاتی ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم ہے جو تصدیق شدہ بایوٹیکنالوجی مصنوعات کی درآمدی معلومات کو منظم اور قابلِ رسائی شکل میں پیش کرتا ہے۔ یہ پورٹل بایوکیمیکل مصنوعات، صنعتی انزائمز اور دیگر بایوٹیک درآمدات کے بارے میں شعبہ وار بصیرت فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے محققین، اسٹارٹ اَپس اور صنعت اعلیٰ قدر اور زیادہ حجم والی درآمدات کی نشاندہی کر سکتے ہیں، درآمدی انحصار کا جائزہ لے سکتے ہیں اور مقامی تیاری و تحقیق و ترقی کی ترجیحات طے کر سکتے ہیں۔ یہ ثبوت پر مبنی منصوبہ بندی کی حمایت کرتا ہے اور گھریلو بایو مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے کے لیے سرکاری و نجی شراکت داری کو فروغ دیتا ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ اگلا صنعتی انقلاب بایوٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا اور بھارت وکست بھارت کے وژن کے تحت 2047 تک ایک ٹریلین ڈالر کی حیاتیاتی معیشت کی تشکیل کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے یہ یقینی بنایا ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تاخیر سے داخل نہیں ہوگا اور بایوٹیکنالوجی کو مستقبل کی معاشی ترقی کا کلیدی محرک قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نئی دہلی کے چانکیہ پوری میں سول سروسز آفیسرز انسٹی ٹیوٹ (سی ایس او آئی) میں منعقدہ ڈی بی ٹی کے 40 ویں یومِ تاسیس کی تقریبات سے خطاب کر رہے تھے۔ اس پروگرام میں ڈی بی ٹی کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے، جوائنٹ سکریٹری محترمہ ایکتا وشنوئی، ڈی بی ٹی، بی آئی آر اے سی اور بی آر آئی سی کے سینئر افسران، سائنسی برادری کے ارکان، اداروں کے ڈائریکٹرز، صنعت کے نمائندے اور نوجوان محققین شریک ہوئے۔ تقریب میں نوجوان سائنس دانوں اور ڈی بی ٹی ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پِچ پریزنٹیشنز، ڈی بی ٹی کے چالیس سالہ سفر پر پریزنٹیشن، نئی ڈی بی ٹی ویب سائٹ اور سوجوکا بایو پروڈکٹ ویب پورٹل کا اجرا بھی کیا گیا۔

1986 میں اپنے قیام کے بعد چار دہائیاں مکمل ہونے پر ڈی بی ٹی برادری کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمہ اسٹارٹ اَپس کی سرپرستی، تعلیمی و صنعتی اشتراک کو مضبوط بنانے، سائنسی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سماجی استعمال کے لیے اختراع کو فروغ دینے والی ایک اہم تنظیم بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 میں جہاں ہندوستان میں بایوٹیک اسٹارٹ اَپس کی تعداد 100 سے بھی کم تھی، وہیں اب یہ 11,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی عرصے میں ہندوستان کی حیاتیاتی معیشت تقریباً 10 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 165.7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ آج ملک عالمی سطح پر بایوٹیک کے سرفہرست مراکز میں شامل ہے اور دنیا کے نمایاں ویکسین تیار کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

پالیسی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بایوٹیکنالوجی ہندوستان کی ترقیاتی حکمت عملی کا مرکزی ستون بن چکی ہے۔ انہوں نے مربوط بایو ای3 پالیسی (معیشت، ماحولیات اور روزگار کے لیے بایوٹیکنالوجی) کی منظوری کا حوالہ دیا، جس کا مقصد ملک بھر میں اعلیٰ کارکردگی والی بایو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی بی ٹی، بی آئی آر اے سی اور بایوٹیکنالوجی ریسرچ اینڈ انوویشن کونسل (بی آر آئی سی) اس پالیسی کے نفاذ کے ذریعے مقامی صلاحیتوں کو مضبوط اور بایو صنعتی بنیاد کو وسیع کر رہے ہیں۔

انہوں نے پیمانے اور تجارتی کاری کو تیز کرنے کے لیے قومی بایو فاؤنڈری نیٹ ورک کے قیام کا ذکر کیا، جس میں ملک بھر میں چھ خصوصی بایو فاؤنڈریز اور 21 جدید بایو اِن ایبلر سہولیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 21 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قائم 95 بایو انکیوبیٹرز، چار علاقائی رہنمائی مراکز اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر دفاتر 1,800 سے زائد انکیوبیٹس کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ کروڑ روپے کی تحقیق، ترقی اور اختراع (آر ڈی آئی) پہل کے تحت 2,000 کروڑ روپے کی پہلی قومی کال بایوٹیک سیکٹر کو مزید تقویت دے گی اور بڑے پیمانے پر ترقی کے لیے تیار کاروباری اداروں کی معاونت کرے گی۔

ابھرتے ہوئے محاذوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان نے محکمۂ بایوٹیکنالوجی اور اسرو/محکمۂ خلاء کے درمیان مفاہمت نامے کے ذریعے خلائی بایوٹیکنالوجی اور خلائی طب جیسے نئے شعبوں میں قدم رکھ دیا ہے۔ انہوں نے خلائی مشنوں کے دوران کیے گئے بایوٹیکنالوجی تجربات کا حوالہ دیا، جن میں لائف سائنسز اور عضلاتی فزیالوجی سے متعلق مطالعات شامل ہیں، اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات ہندوستان کو جدید ترین سائنسی تحقیق میں صفِ اوّل میں رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جینوم انڈیا پروجیکٹ کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت 99 متنوع آبادیوں سے تعلق رکھنے والے 10,000 افراد کے مکمل جینوم سیکوینسنگ کے اعداد و شمار انڈین بایولوجیکل ڈیٹا سینٹر کے ذریعے دستیاب کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مستقبل میں ذاتی نوعیت کے علاج کی تیاری اور ہندوستان کی جینومک تحقیقاتی صلاحیتوں کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے شدید ہیموفیلیا اے کے لیے ہندوستان کے پہلے انسانی جین تھراپی ٹرائل کا بھی حوالہ دیا، جسے ڈی بی ٹی اور بی آئی آر اے سی کی معاونت حاصل تھی اور جس کے نتیجے میں فیکٹر VIII کی مسلسل پیداوار ممکن ہوئی اور بار بار انفیوژن کی ضرورت کم ہو گئی۔

وزیر موصوف نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سمیت ڈیجیٹل ٹولز کے ساتھ بایوٹیکنالوجی کا انضمام تحقیق کی رفتار اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ کرے گا، وقت کی مدت کو کم کرے گا اور جین کی ترتیب، تشخیص اور ادویات کی دریافت جیسے شعبوں میں درستگی کو بہتر بنائے گا۔ انہوں نے بایوٹیکنالوجی کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے سائنسی محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایم ای آئی ٹی وائی/این آئی سی کی جانب سے تیار کردہ حکومتِ ہند کے ڈیجیٹل برانڈ شناختی دستی (ڈی بی آئی ایم) فریم ورک کے مطابق ڈی بی ٹی کی نئی ویب سائٹ کا بھی آغاز کیا، جو وزارتوں اور محکموں میں یکساں اور معیاری ڈیجیٹل شناخت کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

اس سے قبل ڈی بی ٹی کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے نے ڈی بی ٹی کو تبدیلی کا محرک قرار دیتے ہوئے اس کے ارتقائی سفر کا خاکہ پیش کیا، جس میں سائنسی صلاحیت سازی، صنعت کاری کے فروغ اور حیاتیاتی معیشت کو آگے بڑھانے کے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے علم کی تخلیق، اسٹارٹ اَپس اور شراکت داری کے ذریعے اس کے سماجی اثرات تک پھیلے ہوئے جامع نقطۂ نظر کی وضاحت کی۔ انہوں نے جینوم ایڈیٹنگ اور اعلیٰ کارکردگی والی بایو مینوفیکچرنگ میں حالیہ پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بایو ای3 فریم ورک حیاتیاتی نظام، ڈیجیٹل انٹیلی جنس اور سماجی و معاشی ڈیزائن کو یکجا کر کے پائیدار ترقی کے ماڈلز تشکیل دیتا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ڈی بی ٹی، بی آئی آر اے سی اور بی آر آئی سی باہمی اشتراک کے ذریعے ہندوستان کے حیاتیاتی انقلاب کو لیبارٹری تحقیق سے صنعتی پیمانے کی عملی شکل تک لے جائیں گے، جو پائیدار ترقی کو تقویت دے گا اور ہندوستان کو دنیا کی صفِ اوّل کی حیاتیاتی معیشتوں میں شامل کرے گا۔

اس پروگرام میں دیگر کے علاوہ ڈی بی ٹی کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ ایکتا وشنوئی، ڈی بی ٹی، بی آئی آر اے سی اور بی آر آئی سی کے سینئر عہدیداروں، سائنسی برادری کے اراکین، اداروں کے ڈائریکٹرز، صنعت کے نمائندوں اور نوجوان محققین نے شرکت کی۔ تقریب میں نوجوان سائنس دانوں اور ڈی بی ٹی ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پچ پریزنٹیشنز بھی پیش کی گئیں، جن میں ڈی بی ٹی کے چالیس سالہ سفر کو اجاگر کیا گیا۔

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ منگل کے روز سی ایس او آئی، نئی دہلی میں محکمۂ بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کے 40 ویں یومِ تاسیس کی تقریبات سے خطاب کر رہے تھے۔

 

***

UR-3000

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2232381) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी