بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایم ایس ایم ای وزارت نے اروناچل پردیش کے اٹانگر میں نیشنل ایس سی–ایس ٹی ہب میگا بیداری پروگرام  کا انعقاد کیا


وزیراعلیٰ پیما کھانڈو نے ایم ایس ایم ای کو ہندوستانی معیشت کا اہم محرک قرار دیتے ہوئے خود انحصاری پر زور دیا

جوائنٹ سکریٹری محترمہ مرسی ایپاﺅ نے ایم ایس ایم ایز شعبے کے لیے مالی معاونت، ہنر مندی کی ترقی اور مارکیٹ سپورٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالی؛ یہ شعبہ زراعت کے بعد روزگار فراہم کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 FEB 2026 7:13PM by PIB Delhi

حکومت ہند کی بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی وزارت (ایم ایس ایم ای) نے 23 فروری 2026 کو ڈی کے کنونشنل ہال، ایٹانگر، اروناچل پردیش میں نیشنل ایس سی–ایس ٹی ہب میگا بیداری پروگرام کا انعقاد کیا۔ اس پروگرام کا مقصد نیشنل ایس سی–ایس ٹی ہب اسکیم اور ایم ایس ایم ایز کے لیے حکومت ہند کی دیگر اسکیموں اور اقدامات سے متعلق معلومات کی ترسیل کرنا تھا۔

یہ پروگرام اروناچل پردیش میں باہمی مکالماتی نشستوں کے ذریعے صنعت کاری کو فروغ دینے اور ایم ایس ایم ای ماحولیاتی نظام کو بااختیار بنانے کے لیے منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر صنعت کاروں کو ادیم رجسٹریشن حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔

 

اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب پیما کھانڈو اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ اروناچل پردیش حکومت کے تجارت و صنعت، محنت و روزگار اور آئی پی آر کے وزیرنیاٹو دوکم اوراروناچل پردیش حکومت میں وزیر برائے سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات اور قبائلی امور جناب کیمٹو جینی نے بھی شرکت کی۔ محترمہ مرسی ایپا، جوائنٹ سکریٹری، وزارتِ ایم ایس ایم ای، حکومتِ ہند، ڈاکٹر ایس ایس آچاریہ، سی ایم ڈی، این ایس آئی سی اور مرکزی و ریاستی حکومت کے دیگر معززین بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر ایس ایس آچاریہ، سی ایم ڈی، این ایس آئی سی نے اپنے افتتاحی خطاب میں پروگرام کے بارے میں تفصیل پیش کی اور حکومت ہند کی عوامی خریداری پالیسی کا ذکر کیا، جس کے تحت ایس سی–ایس ٹی کی ملکیت والی بہت چھوٹے اور چھوٹے درجے کے کاروباری اداروں سے 4 فیصد اور خواتین کی ملکیت والی ایم ایس ایز سے 3 فیصد سرکاری خریداری لازمی قرار دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل ایس سی–ایس ٹی ہب اسکیم اروناچل پردیش سمیت پورے ملک میں جامع ترقی کے لیے ایک سازگار ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہی ہے۔

محترمہ مرسی ایپا، جوائنٹ سکریٹری، وزارتِ ایم ایس ایم ای، حکومتِ ہند نے اپنے تفصیلی خطاب میں وزارت کی مختلف اسکیموں کے تحت فراہم کی جانے والی مالی معاونت، بنیادی ڈھانچے کی سہولیات، ہنرمندی کی تربیت اور مارکیٹ سے روابط کے بارے میں اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ایم ایس ایم ای شعبہ زراعت کے بعد روزگار فراہم کرنے والا دوسرا سب سے بڑا شعبہ ہے اور ہندوستان کی جی ڈی پی میں 31 فیصد سے زیادہ، مینوفیکچرنگ پیداوار میں 35 فیصد اور برآمدات میں 46 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ادیم پورٹل پر 7.8 لاکھ سے زائد ایم ایس ایم ایز رجسٹرڈ ہیں، جو 34 کروڑ سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے پی ایم وشوکرما، پی ایم ای جی پی، ایم ایس ای–سی ڈی پی، ٹول روم، زیڈ سرٹیفکیشن، ٹریڈ انیبلمنٹ اینڈ مارکیٹنگ اسکیم، ادیم رجسٹریشن، پروکیورمنٹ اینڈ مارکیٹنگ سپورٹ اسکیم وغیرہ کے اہم فوائد پر بھی روشنی ڈالی۔

پروگرام کے دوران عزت مآب وزیراعلیٰ نے جوٹے میں قائم کیے گئے انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ (ای ڈی آئی) کا افتتاح کیا، جو وزارتِ ایم ایس ایم ای، حکومتِ ہند کی معاونت سے تعمیر کیا گیا ہے۔  معزز وزیر جناب نیاٹو دوکم نے کہا کہ یہ اقدام اروناچل پردیش میں صلاحیت سازی، ہنر مندی کی ترقی اور صنعت کاری کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل ہے۔ ای ڈی آئی جوٹے تربیت اور اسکل ڈیولپمنٹ کے ذریعے اروناچل پردیش اور ہمسایہ ریاستوں کے نوجوانوں کو بااختیار بنائے گا۔

اپنے حوصلہ افزا خطاب میں اروناچل پردیش کے عزت مآب وزیر اعلیٰ جناب پیما کھانڈو نے ہندوستانی معیشت میں ایم ایس ایم ایز کے اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت ایم ایس ایم ای، حکومت ہند اپنی مختلف اسکیموں کے ذریعے نہ صرف صنعت کاروں کی مدد کر رہی ہے بلکہ انہیں خود کفیل بھی بنا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت اروناچل پردیش کی مختلف اسکیموں کے تحت صنعت کاروں کو حاصل ہونے والے فوائد کا بھی ذکر کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ معزز وزیراعظم کے وِکست بھارت @2047 کے وژن کے مطابق ریاستی اور مرکزی حکومتیں ریاست کے عوام کی جامع ترقی کے لیے باہمی تال میل سے کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے شرکاء، خصوصاً نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہاکہ وہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مختلف اسکیموں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور خود انحصاری اور ترقی کے لیے صنعت کاری کو اختیار کریں۔

اس پروگرام نے خواہشمند اور موجودہ صنعت کاروں کو ایک باہمی تبادلۂ خیال کا پلیٹ فارم فراہم کیا، جہاں وہ ملک بھر میں ایم ایس ایم ایز کی معاونت سے وابستہ اداروں جیسے سی پی ایس ایز، ایم ایس ایم ای–ڈی ایف او، مالیاتی اداروں وغیرہ کے ساتھ بات چیت کر سکے۔ تکنیکی اجلاس کے دوران ایم ایس ایم ای–ڈی ایف او، اسمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا (سدبی)، اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی)، پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پی جی سی آئی ایل)، ٹرائبل کوآپریٹو مارکیٹنگ ڈیولپمنٹ فیڈریشن آف انڈیا (ٹرائی فیڈ)، انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل) اور نیشنل شیڈولڈ ٹرائبس فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ٹی ایف ڈی سی) وغیرہ نے شرکاء کو مالی معاونت، وینڈر ایمپینلمنٹ کے طریقۂ کار اور دیگر امور سے آگاہ کیا۔

****

ش ح۔م ع ن۔ م ش

U. No. 2939


(ریلیز آئی ڈی: 2232015) وزیٹر کاؤنٹر : 31
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी