صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر صحت جناب جگت پرکاش نڈا نے ’ایڈوانٹیج ہیلتھ کیئر – انڈیا 2026‘ کے آٹھویں ایڈیشن سے ورچوئل خطاب کیا
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ایک مضبوط اور عالمی معیارات سے ہم آہنگ صحت نظام کی تشکیل کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے: مرکزی وزیر صحت
علاج کی غرض سے سفر بھارت کی طبی مہارت، بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے والے نظام اور مریض مرکوز نگہداشت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے: جناب نڈا
بھارت کے ماہر طبی پیشہ ور افراد، جدید بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل انضمام جدید تخصصی علاج اور مریضوں کے بہتر نتائج کو مضبوط بنا رہے ہیں: مرکزی وزیر صحت
علاج کی غرض سے سفر کے ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت بین الوزارتی اور ضابطہ جاتی تال میل کو فروغ دے رہی ہے: مرکزی وزیر صحت
علاج کی غرض سے سفر کو بین الاقوامی تعاون اور اعتماد سازی کے محرک کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے: جناب جے پی نڈا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 FEB 2026 5:05PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود جناب جگت پرکاش نڈا نے آج نئی دہلی میں فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (فکی) کے زیر اہتمام منعقدہ ’ایڈوانٹیج ہیلتھ کیئر – انڈیا 2026‘ کے آٹھویں ایڈیشن سے ورچوئل خطاب کیا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں بھارت نے ایک مضبوط، معیاری اور عالمی معیار سے ہم آہنگ صحت نظام کی تشکیل کے لیے جامع اصلاحات نافذ کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں بین الاقوامی مندوبین کی بھرپور شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کی طبی صلاحیتوں کو تیزی سے پذیرائی اور اعتماد حاصل ہو رہا ہے۔

جناب نڈا نے فکی کی جانب سے اس بین الاقوامی پروگرام کے مسلسل انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے بھارت کو علاج کی غرض سے سفر کے لیے ایک پسندیدہ عالمی مرکز کے طور پر مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے پلیٹ فارم مکالمے، شراکت داری اور سرمایہ کاری کو فروغ دیتے ہیں، جس سے عالمی صحت شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ بھارت کے روابط مزید مضبوط ہوتے ہیں۔
مرکزی وزیر صحت نے علاج کی غرض سے سفر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کے ساتھ بھارت کے صحت شعبے کے تعلقات کا ایک اہم پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھارت کی طبی مہارت، بین الاقوامی معیار کے مطابق نظام، شفاف طرزِ حکمرانی اور مریض مرکوز نگہداشت کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کے اعلیٰ تربیت یافتہ طبی ماہرین اور جدید صحت بنیادی ڈھانچہ مختلف تخصصی شعبوں میں جدید علاج فراہم کر رہے ہیں، جن میں امراضِ قلب، آنکولوجی (کینسر کا علاج)، اعضا کی پیوندکاری، آرتھوپیڈکس(ہڈیوں کے امراض) اور نیورو سائنسز(اعصابی امراض) شامل ہیں۔ وزیرموصوف نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ہیلتھ حل اور معیار کی یقین دہانی کے نظام کے انضمام نے مریضوں کے نتائج اور خدمات کی فراہمی کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

مرکزی وزیر صحت نے یہ بھی بتایا کہ حکومت ہند علاج کی غرض سے سفر کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف وزارتوں، ضابطہ جاتی اداروں، منظوری دینے والی ایجنسیوں اور ریاستی حکومتوں کے درمیان تال میل کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میڈیکل ٹریول کو محض ایک معاشی موقع کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ اسے ایسا ذریعہ سمجھتی ہے جو ممالک کے درمیان تعاون، اعتماد سازی اور عوامی روابط کو مستحکم کرتا ہے۔
تقریب کے نتائج پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیرموصوف نے کہا کہ ’ایڈوانٹیج ہیلتھ کیئر – انڈیا 2026‘ روابط کو گہرا کرنے، تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش اور عالمی صحت نقل و حرکت کے مستقبل کو مشترکہ طور پر تشکیل دینے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے بین الاقوامی مندوبین اور متعلقہ فریقین کو فعال شرکت، بامعنی شراکت داری قائم کرنے اور بھارت کی جانب سے ایک قابلِ اعتماد اور معتبر صحت شراکت دار کے طور پر پیش کیے جانے والے وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔
اپنے ورچوئل خطاب میں وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود اور وزیر مملکت برائے آیوش جناب پرتاپ راؤ جادھو نے صحت کے شعبے کی عالمی اور اشتراکی نوعیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج صحت کی خدمات قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ تعاون، ٹیکنالوجی، علم کے تبادلے اور مشترکہ ذمہ داری کے ذریعے تشکیل پا رہی ہیں۔
بھارت کے مربوط نقطۂ نظر کو اجاگر کرتے ہوئے جناب جادھو نے کہا کہ بھارت کا صحت نظام ایک متحرک اور یکجا ڈھانچے میں تبدیل ہو چکا ہے، جو جدید طبی مہارت، ڈیجیٹل ہیلتھ اختراعات، مضبوط دواسازی صلاحیت اور عالمی سطح پر سرگرم اداروں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کو یکجا کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ جامع فریم ورک بھارت کی اس صلاحیت کو مزید مستحکم کرتا ہے کہ وہ ملکی اور بین الاقوامی مریضوں دونوں کی مؤثر خدمت کر سکے۔

وزیر مملکت نے روایتی نظامِ طب کو جدید طبی طریقۂ علاج کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نگہداشت کا یہ مربوط ماڈل بھارت کے وسیع تر وژن کی عکاسی کرتا ہے—ایسا وژن جو روایت کے ساتھ جدت اور علاج کے ساتھ احتیاط و پیش گیری کو یکساں اہمیت دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل جامع اور پائیدار صحت نتائج کو فروغ دیتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ’ایڈوانٹیج ہیلتھ کیئر – انڈیا 2026‘ عالمی صحت خدمات کی فراہمی میں بھارت کی حیثیت کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر مزید مستحکم کرے گا اور سرحدوں کے پار دیرپا تعاون کو فروغ دے گا۔
اجلاس کا اختتام نمائش کے باضابطہ افتتاح پر ہوا، جس میں بھارت کی جامع صحت صلاحیتوں کو پیش کیا گیا۔ نمائش میں سرکردہ اسپتالوں، تشخیصی خدمات، جدید طبی ٹیکنالوجی، مضبوط دواسازی شعبے، ویلنس مراکز اور معاون صحت خدمات کو اجاگر کیا گیا، جو بھارت کے صحت نظام کی وسعت اور گہرائی کی عکاسی کرتے ہیں۔

وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے سینئر عہدیداران، صحت شعبے کے نمائندگان، بین الاقوامی مندوبین اور دیگر متعلقہ فریقین اس موقع پر موجود تھے۔
ایڈوانٹیج ہیلتھ کیئر – انڈیا 2026 کے بارے میں
ایڈوانٹیج ہیلتھ کیئر – انڈیا 2026 کا مقصد مریضوں کی نقل و حرکت، علم کے تبادلے، مہارتوں کی ترقی اور ادارہ جاتی شراکت داری کو فروغ دینا ہے، ساتھ ہی میڈیکل ویلیو ٹریول میں ضابطہ جاتی ہم آہنگی اور عالمی تعاون کو مضبوط بنانا بھی اس کا اہم ہدف ہے۔ یہ پلیٹ فارم اعلیٰ معیار، ٹیکنالوجی سے تقویت یافتہ اور جامع صحت خدمات کی فراہمی کے لیے بھارت کے عزم کی توثیق کرتا ہے اور ملک کو ایک مضبوط، ہمہ گیر اور مستقبل کے لیے تیار عالمی صحت نظام کی تشکیل میں ایک قابلِ اعتماد اور معتبر شراکت دار کے طور پر پیش کرتا ہے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 2920)
(ریلیز آئی ڈی: 2231911)
وزیٹر کاؤنٹر : 6