سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ڈی ایس ٹی اور بی آئی آر اے سی نے موبائل ہیلتھ و ٹیلی میڈیسن پر آئی جی ایس ٹی سی اسٹریٹجک کانکلیو 2026 میں اختراع پر مبنی شراکت داریوں پر زور دیا
ٹیلی ہیلتھ مسلح افواج کے صحت نظام کا ایک اہم ستون بن چکا ہے، جو تقریباً 1.6 کروڑ اہلکاروں، سابق فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو خدمات فراہم کرتا ہے: سرج وائس ایڈمرل ڈاکٹر آرتی سرین، ڈی جی اے ایف ایم ایس
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 FEB 2026 5:08PM by PIB Delhi
“موبائل ہیلتھ اور ٹیلی میڈیسن” کے موضوع پر آئی جی ایس ٹی سی اسٹریٹجک کانکلیو 2026 آج وگیان بھون، نئی دہلی میں منعقد ہوئی، جس میں پالیسی سازوں، سائنس دانوں، صنعت کے قائدین اور صحت ماہرین نے شرکت کی۔ اس موقع پر ہند-جرمن اشتراک کے ذریعے ڈیجیٹل صحت حل کو آگے بڑھانے پر غور و خوض کیا گیا۔
آئی جی ایس ٹی سی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر کُسومیتا اروڑا نے وضاحت کی کہ اس کانکلیو کا مقصد کلیدی شراکت داروں کو ایک مشترکہ مکالمہ پلیٹ فارم پر لانا ہے، جس میں حکومتی شعبے کے رہنما، صحت ماہرین، تعلیمی محققین اور صنعت کے نمائندگان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی اختراعی منظرنامے کے ان تین ستونوں کے درمیان مکالمہ پیش رفت کو تیز کرے گا اور محض تحقیقی مباحث سے آگے بڑھ کر غیر حل شدہ تکنیکی چیلنجوں کے مشترکہ حل کی تیاری کی راہ ہموار کرے گا۔
ڈائریکٹر جنرل آرمڈ فورسز میڈیکل سروسز، سرج وائس ایڈمرل ڈاکٹر آرتی سرین نے مسلح افواج کی طبی خدمات میں ٹیلی میڈیسن کی اسٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی ہیلتھ مسلح افواج کے صحت نظام کا ایک اہم جزو بن چکا ہے، جو تقریباً 1.6 کروڑ اہلکاروں، سابق فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ٹیلی میڈیسن کے ارتقا کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حقیقی وقت کی ابتدائی مشاورت سے ترقی کرتے ہوئے سیٹلائٹ سے مربوط پلیٹ فارمز تک پہنچ چکا ہے، جو سمندری تعیناتیوں اور دور دراز بلند پہاڑی علاقوں میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے حساس عملی ماحول میں محفوظ اور مستحکم ٹیلی ہیلتھ نظام کے لیے خفیہ کاری پر مبنی مواصلاتی نظام، پہننے کے قابل صحت نگرانی آلات، اے آئی پر مبنی تشخیص اور واضح ضابطہ جاتی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔
بی آئی آر اے سی کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر جتیندر کمار نے ڈیجیٹل صحت خدمات کو مضبوط بنانے میں بایوٹیکنالوجی پر مبنی اختراعات کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تشخیص، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور طبی آلات کے امتزاج پر کام کرنے والے اسٹارٹ اپس اور اختراع کاروں کی معاونت کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق منظم مالی معاونت، رہنمائی اور ضابطہ جاتی سہولت کاری ضروری ہے تاکہ باصلاحیت افراد کی بیرون ملک منتقلی روکی جا سکے اور بھارتی اختراعات کو قابلِ رسائی صحت حل میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہند-جرمن شراکت داری سمیت بین الاقوامی تعاون بھارت کے متنوع صحت منظرنامے کے مطابق حل تیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ عالمی معیار اور مہارت سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر سنیتا شرما نے نیشنل ڈیجیٹل ہیلتھ مشن کے تحت بھارت کے پھیلتے ہوئے ڈیجیٹل صحت نظام میں ٹیلی میڈیسن کے انضمام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن خدمات اب آیوشمان مندر کی سطح تک دستیاب ہیں، جس سے دیہی اور محروم طبقات کو صحت سہولیات تک رسائی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے قومی پروگراموں، خصوصاً تپ دق کے خاتمے، کے لیے مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور پوائنٹ آف کیئر ٹیکنالوجیوں کی اہمیت پر زور دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے مضبوط ضابطہ جاتی نظام، ڈیٹا پرائیویسی کے تحفظ اور پائیدار مالی معاونت کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا تاکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کا ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
میڈیکل ٹیکنالوجی ایسوسی ایشن آف انڈیا کے چیئرمین مسٹر پون چودھری نے صنعت کی توقعات بیان کرتے ہوئے مرکوز ٹرانسلیشنل ریسرچ اور ترغیبی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
محکمہ سائنس و ٹیکنالو(ڈی ایس ٹی) کے ڈاکٹر ارندم بھٹاچاریہ نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایسے اختراعی نظام کی تشکیل کی اہمیت پر زور دیا جو سائنس، ٹیکنالوجی اور عوامی صحت کی ترجیحات کو یکجا کرے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن اور موبائل ہیلتھ ٹیکنالوجیوں کو پائلٹ مرحلے سے آگے بڑھ کر قابلِ توسیع اور پائیدار پلیٹ فارمز میں تبدیل ہونا چاہیے، جو خصوصاً دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں صحت کے بنیادی چیلنجوں کا حل فراہم کر سکیں۔ انہوں نے ڈی ایس ٹی کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ اشتراکی تحقیق، ٹرانسلیشنل راستوں کی معاونت اور تعلیمی اداروں، اسٹارٹ اپس اور صنعت کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دے کر ڈیپ ٹیک صحت حل کی تیز تر تعیناتی ممکن بنا رہا ہے۔
کانکلیو میں اے آئی پر مبنی تشخیص، دور دراز مریض نگرانی، پہننے کے قابل آلات اور چِپ پر مبنی لیبارٹری خدمات جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گفتگو میں ضابطہ جاتی فریم ورک، ڈیٹا تحفظ، مالیاتی طریقہ کار اور ڈیجیٹل تقسیم کے خاتمے کی حکمت عملیوں پر بھی غور کیا گیا۔ شرکا نے بھارت کے متنوع جغرافیائی اور سماجی و معاشی حالات کے مطابق ڈیپ ٹیکنالوجیوں کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے دوطرفہ تحقیقی تعاون، صنعت-تعلیم شراکت داری اور منظم آر اینڈ ڈی روڈ میپس کی ضرورت پر زور دیا۔
تقریب کے اختتام پر ڈی ایس ٹی، بی آئی آر اے سی اور شراکت دار اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ موبائل ہیلتھ اور ٹیلی میڈیسن کو بھارت کے مستقبل کے لیے تیار صحت نظام کے جامع، محفوظ اور اختراع پر مبنی ستون کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔




************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :2921 )
(ریلیز آئی ڈی: 2231906)
وزیٹر کاؤنٹر : 4