ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

 اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں انسان مرکوز اے آئی اجلاس نے اسکل انڈیا کے لیے نئی سمت متعین کر دی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 FEB 2026 8:45PM by PIB Delhi

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026، جو عالم جنوب کا سب سے بڑا اے آئی اجتماع ہے، کے موقع پر وزارتِ ہنرمندی ترقی و انٹرپرینیورشپ نے ایک اعلیٰ سطحی تعاملی سیشن کا انعقاد کیا جس کا عنوان تھا: “انسان مرکوز اے آئی: ہندوستان کس طرح صلاحیت، اعتماد اور ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ ایکسپرٹ انگیجمنٹ گروپ (ای ای جی) مباحثوں کے تحت منعقدہ اس سیشن میں قومی و بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی اور ذمہ دارانہ، جامع اور صلاحیت پر مبنی اے آئی مستقبل کی تشکیل میں ہندوستان کے کلیدی کردار پر غور و خوض کیا۔

کلیدی خطبہ ٹفٹس یونیورسٹی کے فلیچر اسکول کے ڈین آف گلوبل بزنس پروفیسر بھاسکر چکروورتی نے “اے آئی کے دور میں انسانی ترقی” اور منتقلی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے عالم جنوب اتحاد کے وژن پر دیا۔ پینل مباحثے کی نظامت بی سی جی کے پارٹنر و منیجنگ ڈائریکٹر سدھارتھ مدان نے کی، جبکہ گوگل کلاؤڈ انڈیا کی ڈائریکٹر و  عالمی امور و پبلک پالیسی کے سربراہ یولینڈ لوبو، نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی) کے سی ای او ارون کمار پلئی، ای وائی کے ٹیکنالوجی کنسلٹنگ شراکت دار راکیش کول اور این سی وی ای ٹی کی سابق ایگزیکٹو رکن ڈاکٹر نینا پہوجا نے شرکت کرتے ہوئے صلاحیت، اعتماد اور ٹیکنالوجی پر مبنی اے آئی اہلیت کی تعمیر پر اپنے خیالات پیش کیے۔

سیشن کا اختتام گوگل کے لیڈ انجینئر (مشین لرننگ) سنیل کمار کی جانب سے “اسکیلنگ کری ایٹو وِد جی سی پی جین میڈیا” کے عنوان سے براہِ راست مظاہرے پر ہوا، جس میں دکھایا گیا کہ جین میڈیا ماڈلز کس طرح پروڈکشن کے لیے تیار اثاثے تخلیق کر سکتے ہیں، اے آئی سے تقویت یافتہ تخلیقی عمل کو ہمہ جہتی بنا سکتے ہیں اور نظریاتی تصورات کو قابلِ توسیع عملی اطلاق میں بدل سکتے ہیں۔

اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ہنرمندی ترقی و انٹرپرینیورشپ کی سکریٹری محترمہ دیباشری مکھرجی بھی موجود تھیں۔ انہوں نے شرکا سے فعال مکالمہ کیا، قومی ترجیحات کے ساتھ اے آئی مہارت کے انضمام پر اپنے خیالات پیش کیے اور اعتماد، شمولیت اور صنعت سے ہم آہنگی پر مبنی ٹیلنٹ ایکوسسٹم کی تعمیر کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اسکل انڈیا پویلین کا بھی دورہ کیا جہاں ڈیجیٹل تعلیم، مہارت اور اے آئی سے تقویت یافتہ تربیتی حل کی جدید اختراعات پیش کی جا رہی تھیں، اور صنعت کے نمائندوں و تربیتی اداروں کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔

پروفیسر بھاسکر چکروورتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مستقبل میں اے آئی قیادت کا تعین صرف تکنیکی صلاحیت سے نہیں ہوگا بلکہ اعتماد کے فریم ورک، ڈیجیٹل عوامی  بنیادی ڈھانچے اور قومی ہنر مند افراد کی مضبوطی سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کی سطح پر جامع ڈیجیٹل نظام کی تعمیر میں ہندوستان کا تجربہ اسے منصفانہ، قابلِ رسائی اور قابلِ اعتماد اے آئی ڈیزائن کرنے میں منفرد برتری فراہم کرتا ہے۔

پینل مباحثے میں اس بات پر غور کیا گیا کہ اے آئی کس طرح مہارت کے ایکوسسٹم، ادارہ جاتی تیاری اور افرادی قوت کے راستوں کو ازسرِ نو تشکیل دے رہا ہے۔ ارون کمار پلئی نے کہا کہ اے آئی محض ایک تدریسی موضوع نہیں بلکہ تربیت، جانچ اور کیریئر رہنمائی کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر بھی کام کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اے آئی بیداری پروگراموں، ایس او اے آر اقدام اور اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ) میں اے آئی سے تقویت یافتہ سہولیات کے ذریعے سیکھنے والوں کو ذاتی نوعیت کے تعلیمی راستے، حقیقی وقت کے لیبر مارکیٹ تجزیات اور نتائج پر مبنی جانچ کی سہولت حاصل ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر نینا پہوجا نے “اے آئی فار آل، اے آئی فار مینی اور اے آئی فار فیو” پر مبنی تین سطحی فریم ورک پیش کیا، جس کے ذریعے بنیادی خواندگی سے لے کر اعلیٰ تخصص تک صلاحیت سازی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایس او اے آر میں رجسٹریشن کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور نینو کریڈنشلز، اسٹیک ایبل پاتھ ویز اور نیشنل کریڈٹ فریم ورک سے ہم آہنگ ماڈیولر کوالیفکیشن متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ٹی آئیز میں قلیل مدتی اے آئی ماڈیولز شامل کیے جا رہے ہیں تاکہ روایتی ہنروں میں بھی پیداواری صلاحیت بڑھے۔

راکیش کول نے اس بات پر زور دیا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ اے آئی کام کے انداز کو بدلے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ادارے ذمہ دارانہ جدت اور خطرات کے پیشگی انتظام کے ذریعے اس تبدیلی کو کس طرح سنبھالتے ہیں۔ یولینڈ لوبو نے مقامی کمپیوٹ صلاحیت میں اضافہ، شراکت داریوں کے فروغ اور زرعی شعبے سے لے کر تخلیقی صنعتوں تک ویلیو چین میں اے آئی حل کو جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔

سیشن کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ حکومت، اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان اشتراک کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ ہندوستان کا اے آئی سفر انسانی مرکزیت، شمولیت اور عالمی مسابقت کے اصولوں پر قائم رہے۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 2866   )


(ریلیز آئی ڈی: 2231398) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English