الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026
’’اعتماد کو تشکیل دینا ضروری ہے، اسے خودبخود فرض نہیں کیا جا سکتا:‘‘ عالمی رہنماؤں کا انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں انسان مرکز مصنوعی ذہانت پر زور
اختراع سے جواب دہی تک: اجلاس میں مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں اخلاقیات کو بنیادی حیثیت دینے پر زور
اعتماد کے بغیر مصنوعی ذہانت کو جمہوری انداز میں اختیار کرنا ناممکن ہے: برانڈو بینیفئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 FEB 2026 8:18PM by PIB Delhi
ایسے وقت میں جب مصنوعی ذہانت تجرباتی مرحلے سے نکل کر معیشت، طرزِ حکمرانی اور روزمرہ زندگی کو تشکیل دینے والے نظاموں کا حصہ بن رہی ہے، انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے سیشن ’’انسانی شمولیت — مصنوعی ذہانت کے دور میں اختراع اور اخلاقیات میں توازن‘‘ میں ایک واضح مؤقف پیش کیا گیا: اعتماد اختراع کا بعد میں حاصل ہونے والا نتیجہ نہیں بلکہ ایک شعوری اور بنیادی ڈیزائن کا فیصلہ ہے۔ کثیر فریقی اداروں، قانون ساز اداروں، صنعت اور عوامی پالیسی سے وابستہ قائدین کو یکجا کرتے ہوئے اس گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اگر مصنوعی ذہانت کو جمہوری انداز میں وسعت دینا ہے اور اسے حقیقی سماجی فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بنانا ہے تو اخلاقی غور و فکر، انسانی نگرانی اور خطرے کی بنیاد پر ضابطہ سازی کو ابتدا ہی سے اس کی ساخت اور ڈھانچے کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
اخلاقیات اور اختراع کو ایک دوسرے کے مقابل ترجیحات کے طور پر پیش کرنے کے بجائے مقررین نے انہیں باہمی طور پر تقویت دینے والے عناصر قرار دیا، جو قبولیت، اثر پذیری اور طویل مدتی مسابقت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ گفتگو محض نظری اصولوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی سوالات تک پہنچی: مصنوعات میں شفافیت کو کیسے شامل کیا جائے، ایسے ضابطہ جاتی نظام کیسے ترتیب دیے جائیں جو نقصان ناقابلِ واپسی ہونے سے پہلے مؤثر ہوں اور یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ حساس اور اہم شعبوں میں حتمی فیصلہ انسان ہی کرے۔ مختلف خطوں اور شعبوں کے نمائندوں کا مشترکہ پیغام واضح تھا کہ مصنوعی ذہانت پر اسی وقت اعتماد کیا جائے گا جب وہ نمایاں طور پر جواب دہ، قابلِ فہم اور انسانی نتائج سے ہم آہنگ ہو۔
یورپی پارلیمنٹ کے رکن برانڈو بینیفئی نے سابقہ ٹیکنالوجی ادوار میں ضابطہ سازی میں تاخیر کی قیمت کا ذکر کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے لیے متوازن اور خطرے کی بنیاد پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ صحت، افرادی قوت کی تعیناتی اور انتظامی فیصلہ سازی جیسے اعلیٰ اثر رکھنے والے شعبوں میں زیادہ مضبوط نگرانی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شفافیت، معیاری اعداد و شمار، سائبر تحفظ اور واضح حکمرانی ناگزیر ہیں کیونکہ ’’اعتماد کے بغیر مصنوعی ذہانت کو جمہوری انداز میں اپنانا ناممکن ہے۔‘‘
یونیسکو کے مواصلات و اطلاعات کے معاون ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر توفیق جیلاسی نے اس امر پر زور دیا کہ اخلاقی غور و فکر کو بعد ازاں نقصان کے بعد نافذ کرنے کے بجائے ڈیزائن کے مرحلے ہی میں شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو نظام ابتدا ہی سے اخلاقی بنیادوں پر تیار کیے جائیں وہ زیادہ قابلِ اعتماد اور وسیع پیمانے پر قابلِ استعمال ہوتے ہیں، اور یوں زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان مرکز اختراع کو مقامی حالات کے مطابق ہونا چاہیے اور اسے جامع رہنما اصولوں کی روشنی میں آگے بڑھایا جانا چاہیے، نہ کہ ایک ہی طرز کے عمومی حل کے ذریعے۔
نیتی آیوگ کی ممتاز رکن دیبجانی گھوش نے اس بحث کو تہذیبی انتخاب سے جوڑا کہ ٹیکنالوجی کو کس انداز میں استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج اختراع اور اخلاقیات میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں بلکہ اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ نگرانی کا نظام ’’ڈیزائن سے لے کر تجارتی مرحلے تک‘‘ شامل ہو تاکہ اخلاقیات بعد میں شامل کی جانے والی چیز نہ رہیں بلکہ بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہوں، اور جواب دہی انسانی اداروں اور ترقی کاروں پر واضح طور پر عائد ہو۔
سیلز فورس کی ایگزیکٹو نائب صدر اور اخلاقی و انسانی استعمال کی سربراہ پاؤلا گولڈمین نے ادارہ جاتی نفاذ کے تناظر میں کہا کہ تنظیمیں اسی وقت مصنوعی ذہانت کو وسعت دیتی ہیں جب لوگ دیکھ سکیں، سوال اٹھا سکیں اور نظام کے عمل کو کنٹرول کر سکیں۔ انہوں نے اندرونی نگرانی کے نظام، انسانی مداخلت کے واضح راستوں اور صارف کے انتخاب کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ادارے اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں جب وہ ’’انسان کو مرکز میں رکھتے ہیں اور انہیں اس بات پر آواز دیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کہاں اور کیسے مدد فراہم کرے۔‘‘
آخرکار اس نشست نے اخلاقیات کو محض ضابطہ کی ایک تہہ نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے دور کا بنیادی نظام قرار دیا۔ عالمی حکمرانی کے فریم ورک سے لے کر مصنوعات کی سطح پر ڈیزائن کے فیصلوں تک، مقررین اس اصول پر متفق تھے کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ اہم مواقع پر لوگ اس پر کس حد تک اعتماد کر سکتے ہیں۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-2828
(ریلیز آئی ڈی: 2231028)
وزیٹر کاؤنٹر : 6