عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
مصنوعی ذہانت ہر چیز کا متبادل بن سکتی ہے، مگر دیانت داری کا نہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
بھارت کی اے آئی پیش رفت کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے؛ ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں جامع اور اخلاقی ٹیکنالوجی اپنانے کی اپیل
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اے آئی کے استعمال میں انسان مرکز نقطۂ نظر پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کے گزشتہ روز کے خطاب میں بیان کردہ ’’مانو‘‘ منتر کا حوالہ دیا
سی پی جی آر اے ایم ایس سے ٹیلی میڈیسن تک: ہائبرڈ اے آئی ماڈلز بہتر نتائج دے رہے ہیں؛ صلاحیت سازی کمیشن بھارت کی ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی اصلاحات کی بنیاد
ایک دہائی میں تقریباً 2,000 فرسودہ قواعد ختم؛ ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی کی جانب پیش رفت، مستقبل سے ہم آہنگ اے آئی پر مبنی ملک کے لیے صلاحیت سازی کلیدی عنصر: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 FEB 2026 5:29PM by PIB Delhi
مصنوعی ذہانت (اے آئی) اس دنیا میں ہر چیز کا متبادل بن سکتی ہے، لیکن دیانت داری کا متبادل نہیں بن سکتی۔ مصنوعی ذہانت نظاموں کو بدل سکتی ہے، کارکردگی بہتر بنا سکتی ہے اور رسائی کو وسعت دے سکتی ہے، مگر انسانی دیانت داری کی جگہ نہیں لے سکتی۔
اس پُراثر بیان کے ساتھ مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی علوم، نیز وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلاء، جتیندر سنگھ نے یہاں بھارت منڈپم میں منعقدہ “اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 انڈیا” میں کلیدی خطاب کیا۔ “وکست بھارت کیلئے اے آئی: صلاحیت سازی کی ناگزیر ضرورت” کے عنوان سے منعقدہ اس اجلاس میں پالیسی سازوں، منتظمین اور ماہرین نے حکمرانی، صلاحیت سازی اور مصنوعی ذہانت کے باہمی امتزاج پر غور و خوض کیا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے وزیراعظم نریندر مودی کے گزشتہ روز کے خطاب میں بیان کردہ ’’مانو‘‘ منتر کا حوالہ دیتے ہوئے اے آئی کے استعمال میں انسان مرکوز نقطۂ نظر پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی اور صلاحیت سازی متحرک اور مسلسل جاری رہنے والے عمل ہیں، جنہیں آج کی تیز رفتار دنیا میں تبدیلی کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا۔ جب تکنیکی تبدیلیاں برق رفتاری سے رونما ہو رہی ہوں تو اداروں کو مستقبل کے لیے تیار رہنے کی خاطر مسلسل خود کو جدید بنانا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب مختلف شعبوں میں ایک ناگزیر حقیقت بن چکی ہے اور اسے بامعنی انداز میں عوامی نظاموں میں ضم کرنا ضروری ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت کے تبدیلی کے سفر کا سب سے حوصلہ افزا پہلو ایک ایسی سیاسی قیادت کی موجودگی ہے جو مستقبل نواز اور مستقبل کے لیے تیار نظریات کو اپنانے کے لیے آمادہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ڈیڑھ دہائی قبل سرکاری سطح پر اے آئی پر مبنی حکمرانی جیسے موضوعات ناقابل تصور تھے، اور اس کا سہرا وزیراعظم کی اصلاح پسندانہ قیادت کو جاتا ہے جس نے جدت اور گورننس اصلاحات کو یکجا کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔
انہوں نے گزشتہ ایک دہائی میں تقریباً دو ہزار غیر مؤثر اور فرسودہ قواعد کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کئی ضابطے ایک مختلف دور کے لیے بنائے گئے تھے اور موجودہ تکنیکی ترقی کا اندازہ نہیں لگا سکتے تھے۔ غیر ضروری تصدیقات اور غیر مؤثر طریقہ کار کا خاتمہ اعتماد پر مبنی حکمرانی کی جانب ایک نمایاں پیش رفت ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ صلاحیت سازی کمیشن کا قیام اس تصور کے تحت کیا گیا کہ سیکھنے کا عمل ادارہ جاتی عادت بن جائے۔ تیزی سے بدلتے ماحول میں سرکاری ملازمین کو نہ صرف نئی مہارتیں سیکھنی ہوں گی بلکہ مسلسل سیکھتے رہنے کی صلاحیت بھی پیدا کرنی ہوگی۔ سرکاری اور نجی شعبے کی بہترین روایات کو یکجا کرنے سے گورننس اصلاحات کو تقویت ملی ہے اور زیادہ لچکدار نظام تشکیل پائے ہیں۔
ڈیجیٹل پبلک گڈز (ڈی پی جی) کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصطلاح نئی ہو سکتی ہے، مگر اس کی روح عوامی فلاح اور شہری مرکز حکمرانی کے اصول میں پیوست ہے۔ حکومت نے ابتدا سے ہی “زیادہ سے زیادہ حکمرانی، کم سے کم حکومت” کے وژن کو اپنایا ہے، جس میں شفافیت، جوابدہی اور آسان زندگی کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی ایک ذریعہ ہے، مقصد نہیں۔
انہوں نے سی پی جی آر اے ایم ایس شکایتی ازالہ نظام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ڈیجیٹل طریقہ کار کے ذریعے نمٹانے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا، مگر شہری اطمینان ہمیشہ ان اعداد و شمار سے ہم آہنگ نہیں تھا۔ اس کے بعد اے آئی پر مبنی نظام کے ساتھ انسانی رابطے کو شامل کیا گیا، جس سے واضح ہوا کہ سب سے مؤثر ماڈل وہ ہے جو مصنوعی ذہانت اور انسانی ذہانت کا امتزاج ہو۔
صحت کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اے آئی سے معاونت یافتہ ٹیلی میڈیسن خدمات کے ساتھ انسانی ڈاکٹر کی موجودگی مریضوں میں اعتماد پیدا کرتی ہے۔ بھارت جیسے متنوع سماجی اور لسانی ماحول میں ایسے ہائبرڈ ماڈل زیادہ موزوں ہیں، جہاں ٹیکنالوجی کو مقامی حقائق سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔
بھارت کی اے آئی کے میدان میں بڑھتی ہوئی عالمی شناخت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی معیارات اہم ہیں، مگر حل بھارتی حالات کے مطابق ترتیب دینا ضروری ہے۔ جامع توسیع اور وسیع پیمانے پر اپنانا ڈیجیٹل صلاحیت سازی کی کامیابی کے بنیادی ستون ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم کے پیش کردہ گورننس ماڈل فریم ورک کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اخلاقی و اصولی نظام، جوابدہ حکمرانی، قومی استحکام، قابل رسائی و جامع نظام اور قانونی جواز و معتبریت شامل ہیں۔ حقیقی صلاحیت سازی مخففات یاد کرنے میں نہیں بلکہ ان کے مفہوم کو سمجھ کر عملی جامہ پہنانے میں ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی اصل کسوٹی اس کا اخلاقی استعمال ہے۔ مصنوعی ذہانت نظاموں کو بدل سکتی ہے، کارکردگی بڑھا سکتی ہے اور رسائی کو وسعت دے سکتی ہے، لیکن انسانی دیانت داری کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ ٹیکنالوجی کے دانشمندانہ استعمال کی ذمہ داری بالآخر افراد اور اداروں پر عائد ہوتی ہے۔




******
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 2802 )
(ریلیز آئی ڈی: 2230913)
وزیٹر کاؤنٹر : 10