ارضیاتی سائنس کی وزارت
فزکس (طبیعیات) اور مصنوعی ذہانت کا امتزاج مستقبل ہے: موسم کی پیش گوئی کے لیے ڈاکٹر ایم روی چندرن کا ) لائحۂ عمل (روڈ میپ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 FEB 2026 6:52PM by PIB Delhi
ارضیاتی سائنس کی وزارت (ایم او ای ایس) کے سکریٹری ڈاکٹر ایم روی چندرن نے آج موسمیاتی سائنس میں ایک انقلابی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آب و ہوا کی شدت اختیار کرتی اور غیر متوقع صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے روایتی طبیعیات پر مبنی ماڈلز کے ساتھ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا اسٹریٹجک انضمام ناگزیر ہے۔
انڈی اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے آخری روز بھارت منڈپم میں منعقدہ اعلیٰ سطحی پینل مباحثے بعنوان “آب و ہوا کی شدت کا نظم اور پائیدار نظاموں کی تشکیل کے لیے اے آئی کا استعمال” سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر روی چندرن نے کہا کہ اگرچہ روایتی عددی ماڈلز وسیع جغرافیائی پیمانے پر پیش گوئی میں مہارت رکھتے ہیں، تاہم مقامی سطح کی باریکیوں اور پیچیدہ ٹائم سیریز پیٹرنز کو سمجھنے میں مصنوعی ذہانت ناگزیر ثابت ہو رہی ہے۔
"ہاتھی اور چیونٹی" کی تمثیل
اپنے مدلل خطاب میں انہوں نے موجودہ سائنسی چیلنج کو ایک بلیغ استعارے سے واضح کیا:
“ماضی میں ہمیں صرف ‘ہاتھی’ یعنی بڑے پیمانے کے موسمی نظام کا سراغ لگانا ہوتا تھا، لیکن اب موسمیاتی تبدیلی کے سبب ہمیں اس ہاتھی پر بیٹھی ‘چیونٹی’ کو بھی دیکھنا ہے۔ ہمیں وسیع نظام اور نہایت مقامی حرکات—دونوں کا بیک وقت تجزیہ کرنا ہوگا۔”
انہوں نے واضح کیا کہ طبیعیات پر مبنی ماڈلز عمومی اور وسیع پیمانے کی نقشہ سازی میں مؤثر ہیں، جبکہ اے آئی مقامی اور وقتی تغیرات کو بہتر طور پر سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق کلاؤڈ برسٹ جیسے شدید اور اچانک واقعات کی بروقت پیش گوئی کے لیے دونوں نظاموں کا اشتراک ناگزیر ہے۔
خطاب کے نمایاں نکات
• مفروضات میں کمی اور درستگی میں اضافہ:
انہوں نے نشاندہی کی کہ عددی ماڈلز متعدد مفروضات پر مبنی ہوتے ہیں، جو غلطی کے امکانات بڑھا دیتے ہیں۔ اے آئی ان خامیوں کو کم کر کے ابتدائی حالات کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے پیش گوئی کی درستگی میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
• ڈیڑھ صدی پر محیط ڈیٹا کا مؤثر استعمال:
(آئی ایم ڈی) کے پاس 150 برسوں پر مشتمل موسمیاتی ریکارڈ موجود ہے۔ انہوں نے اس قیمتی ڈیٹا کو نوجوان محققین اور کثیر شعبہ جاتی ماہرین کے لیے دستیاب بنانے پر زور دیا تاکہ تحقیق کے نئے در وا ہو سکیں۔
• ڈاؤن اسکیلنگ کی انقلابی صلاحیت:
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی بڑے پیمانے کے موسمی ماڈلز کو 1 کلومیٹر ریزولوشن تک “ڈاؤن اسکیل” کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو مقامی موسمی تحفظ اور آفات سے بچاؤ کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔
• توثیق اور اعتماد کی اہمیت:
اے آئی کی اخلاقیات اور عوامی اعتماد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کسی بھی پیش گوئی نظام کی بنیاد اعتماد ہے۔ اس کے لیے سخت توثیقی اور تصدیقی عمل ناگزیر ہے تاکہ عوامی تحفظ سے متعلق فیصلے مستند اور قابلِ اعتبار ہوں۔
کثیر شعبہ جاتی تعاون کی ضرورت
ڈاکٹر روی چندرن نے سائنسی برادری کو روایتی محکماتی حدود سے باہر نکلنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا:
“ہمیں یک رُخی سوچ سے آگے بڑھنا ہوگا۔ حیاتیات دانوں، ڈیٹا سائنسدانوں اور دیگر شعبوں کے ماہرین کو ایک ساتھ لا کر ڈیٹا کو مختلف زاویوں سے دیکھنا ہوگا۔ یہی ڈیٹا پر مبنی حکمتِ عملی ایک موسمیاتی طور پر لچکدار ہندوستان کی بنیاد بن سکتی ہے۔”
اس پینل مباحثے کا انعقاد انڈین آل ریسرچ آرگنائزیشن (آئی اے آئی آر او)، ایٹریا یونیورسٹی، سی-ڈی اے سی، آئی آئی ٹی ایم/ایم او ای ایس اور لوک نیتی نے مشترکہ طور پر کیا۔
ڈاکٹر ایم روی چندرن کے علاوہ پینل میں ایر۔ منیش بھاردواج (سکریٹری، این ڈی ایم اے)، ڈاکٹر شیو کمار کلیانارمن (سی ای او، انوسندھن نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن)، پروفیسر امیت شیٹھ (بانی ڈائریکٹر، آئی اے آئی آر او)، ڈاکٹر پرفل چندر (ڈین ریسرچ، ایٹریا یونیورسٹی)، ڈاکٹر کارتک کاشیناتھ (این وی آئی ڈی اے، امریکہ)، پروفیسر دیو نیوگی (یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آسٹن)، سندیپ سنگھل (آوانا کیپیٹل) اور ڈاکٹر اکشرا کاگینلکر بھی شریک تھے۔
یہ مباحثہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنسی جدت، ڈیٹا کی شفافیت اور بین الشعبہ جاتی اشتراک وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکے ہیں۔



***
UR-2806
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2230905)
وزیٹر کاؤنٹر : 9