الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
دنیا کے سرکردہ صنعت کاروں نے ذاتی ذہانت سے لے کر صنعتی سطح کے اثرات تک اے آئی کے اگلے مرحلے کا خاکہ پیش کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 FEB 2026 9:49PM by PIB Delhi
میٹا کے الیگزینڈر وانگ نے ذاتی ذہانت اور ہندوستان کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا
فلپس کے سی ای او رائے جیکوبس نے کہا کہ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت( اے آئی) معالجین کو بااختیار بنائے گی اور زندگیوں میں تبدیلی لائے گی
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے ایک حصے کے طور پر الیگزینڈر وانگ ، چیف اے آئی آفیسر ، میٹا ، رائے جیکوبس ، سی ای او ، فلپس ؛ ،ارٹن شرویٹر ، چیئرمین اور سی ای او ، کنڈریل اور اولیور بلم ، گلوبل سی ای او ، شنائیڈر الیکٹرک کے کلیدی خطابات میں دریافت کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کس طرح معاشرے ، صحت کی دیکھ بھال ، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے نظام میں انقلابی اختراع سے حقیقی دنیا میں تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہے ۔

الیگزینڈر وانگ ، چیف اے آئی آفیسر ، میٹانے روزمرہ زندگی میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے انضمام اور اس کی سمت کے تعین میں بھارت کے مرکزی کردار کو اجاگر کیا۔ کمپنی کے “ذاٹی سپر اِنٹیلی جنس” کے وژن پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمارا وژن پرسنل سپر اِنٹیلی جنس ہے۔ایسی اے آئی جو آپ کو، آپ کے اہداف اور آپ کی دلچسپیوں کو سمجھے اور جس کام پر آپ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، اس میں آپ کی مدد کرے۔ یہ آپ کی خدمت کرے، چاہے آپ کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں۔ذمہ دارانہ نفاذ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ آپ کی ذاتی اے آئی آپ کو بہت گہرائی سے جانے گی، اگر ہم اسے ذمہ داری سے انجام نہیں دیں گے تو لوگ ہمیں یہ کام سونپنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ اعتماد، شفافیت اور حکمرانی کو خود ماڈلز کی رفتار کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

فلپس کے سی ای او رائے جیکوبس نے صحت کے شعبے کو وہ میدان قرار دیا جہاں اے آئی سب سے زیادہ انسانی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ اے آئی پہلے ہی دباؤ کا شکار نظاموں پر بوجھ کم کرنے میں مدد دے رہی ہے، اور کہاکہ اے آئی کا مقصد معالجین کی جگہ لینا نہیں بلکہ انہیں سوچنے کا وقت، مریضوں سے جڑنے کا وقت، اور دیکھ بھال کا وقت واپس دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم ایک دہائی بعد پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو صحت کے شعبے میں اے آئی کو اس بات کے لیے یاد نہیں رکھا جائے گا کہ اسکرین پر کیا بہتر بنایا گیا، بلکہ ان اربوں زندگیوں کے لیے یاد رکھا جائے گا جنہیں اس نے بہتر بنانے میں مدد دی۔

کینڈریل کے چیئرمین اور سی ای او مارٹن شروئیٹر نے بڑے پیمانے پر ذمہ داری کے ساتھ اے آئی کو صنعتی شکل دینے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ تجرباتی مرحلے اور ادارہ جاتی اپنانے کے درمیان موجود خلا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اختراع حقیقی ہے۔ چیلنج تیاری کا ہے۔ آج اے آئی ابھی مکمل طور پر صنعتی شکل اختیار نہیں کر سکی؛ انفراسٹرکچر، ڈیٹا، آپریشن اور افراد کو اس کی بڑے پیمانے پر حمایت کے لیے تیار ہونا ہوگا۔اعتماد اور حکمرانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہاکہ اے آئی کا مستقبل تحقیقی لیبارٹریوں یا بورڈ رومز میں طے نہیں ہوگا، بلکہ اس بات سے متعین ہوگا کہ اسے روزمرہ کے اُن نظاموں میں کتنی قابلِ اعتماد اور ذمہ دارانہ انداز میں شامل کیا جاتا ہے جن پر معاشرہ انحصار کرتا ہے۔

شنائیڈر الیکٹرک کے عالمی سی ای او اولیور بلم نے اے آئی اور عالمی توانائی کی منتقلی کے درمیان گہرے باہمی روابط کو اجاگر کیا۔ کمپیوٹ پر مبنی اور زیادہ وسائل استعمال کرنے والے اے آئی نظاموں کے باعث بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب سے خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اے آئی کا مطلب زیادہ کمپیوٹ ہے، اور زیادہ کمپیوٹ کا مطلب زیادہ توانائی ہے۔ ہم اس دباؤ کو کم نہیں سمجھ سکتے جو یہ عالمی توانائی کے نظاموں پر ڈالے گا۔اسی کے ساتھ انہوں نے کارکردگی میں بہتری کے لیے اے آئی کی انقلابی صلاحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہاپنی تاریخ میں پہلی بار ہم واقعی طبعی اور ڈیجیٹل دنیا کو جوڑ سکتے ہیں، توانائی کے نظاموں کو ذہین بنا سکتے ہیں اور مختلف اطلاقی شعبوں میں 10 سے 30 فیصد تک کارکردگی میں اضافہ ممکن بنا سکتے ہیں۔
چاروں رہنماؤں نے ایک مشترکہ تقاضے پر زور دیا کہ اے آئی کا اگلا باب صرف ماڈل میں پیش رفت سے متعین نہیں ہوگا، بلکہ اس کے صحت کے نظاموں، اہم انفراسٹرکچر، توانائی کے نیٹ ورکس اور روزمرہ زندگی میں مؤثر انضمام سے پہچانا جائے گا۔ ذاتی سپر اِنٹیلی جنس اور پیش گوئی پر مبنی صحت کی سہولیات سے لے کر مضبوط ڈیجیٹل بنیادوں اور ذہین توانائی نظاموں تک، کلیدی خطابات نے اس بات کو تقویت دی کہ اے آئی کی اصل پیمائش اس کی اس صلاحیت میں ہوگی کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ بڑے پیمانے پر وسعت اختیار کرے، اداروں کو مضبوط بنائے، اور عوام، معیشتوں اور کرۂ ارض کے لیے ٹھوس نتائج فراہم کرے۔
*********
UR-2765
(ش ح۔ ش آ۔م ش)
(ریلیز آئی ڈی: 2230613)
وزیٹر کاؤنٹر : 5