الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

عالمی رہنماؤں نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں اے آئی کے پھیلاؤ ، بنیادی ڈھانچے اور جامع حکمرانی پر غور کیا


امریکہ ، متحدہ عرب امارات اور کوسٹا ریکا نے  اختراع ، شراکت داری اور ذمہ دارانہ ضابطے پر مرکوز قومی اے آئی حکمت عملی کامسودہ پیش کیا

پینل نے سیاق و سباق کے لحاظ سے حساس اے آئی  حکمرانی اور تمام خطوں میں مضبوط کثیرجہتی تعاون پر زور دیا

بنیادی ڈھانچہ ، اختراع ، ذمہ دارانہ ضابطے اور عالمی تعاون کو بڑے پیمانے پر اے آئی کے فوائد کو یقینی بنانے کی کلید کے طور پر شناخت کیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 FEB 2026 8:15PM by PIB Delhi

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے ایک اعلیٰ سطحی پینل میں اے آئی  کے پھیلاؤ  کے مفہوم، بنیادی ڈھانچے اور جدت طرازی سے متعلق قومی حکمت عملیوں اور عالمی تعاون و ضابطہ سازی کے بدلتے ہوئے ڈھانچے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اس اجلاس میں کوسٹا ریکا کی وزیر برائے سائنس، جدت، ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونی کیشنز، عزت مآب پاؤلا بوگانتے زامورا؛ متحدہ عرب امارات کے وزیرِ مملکت برائے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور ریموٹ ورک ایپلی کیشنز، عزت مآب عمر السلطان العلماء؛ وائٹ ہاؤس کے سینئر پالیسی مشیر برائے اے آئی، سری رام کرشنن؛ اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر سمیر سرن نے شرکت کی۔

جناب سری رام کرشنن نے امریکہ کی اے آئی ترجیحات کا خاکہ پیش کیا، جو تین بنیادی ستونوں عالمی معیار کا اے آئی بنیادی ڈھانچہ  قائم کرنا، جدت طرازی کو فروغ دینا اور اتحادی ممالک کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط بنانےپر مبنی  ہے۔ انہوں نے ڈیٹا سینٹرز اور کمپیوٹنگ بنیادی ڈھانچہ کی استعداد بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت اجاگر کی کہ یہ سہولیات کم لاگت اور توانائی کے لحاظ سے پائیدار ہوں۔ کاروباری افراد اور ٹیکنالوجی تخلیق کرنے والوں کے رول کو نمایاں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدت طرازی کو غیر ضروری سرکاری پیچیدگیوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح اور پیش گوئی کے قابل ضوابط کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اختراع کار اعتماد کے ساتھ کام کر سکیں، ساتھ  بچوں کے تحفظ، دانشورانہ املاک کے حقوق اور قومی سلامتی جیسے اہم شعبوں کا بھی تحفظ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے عالمی سطح پر مشترکہ اے آئی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے بین الاقوامی شراکت داریوں، تکنیکی تعاون اور محفوظ سپلائی چینز کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

عزت مآب عمر العلماء نے متحدہ عرب امارات کے اس وژن کو بیان کیا جس کے تحت اے آئی کو معیارِ زندگی بہتر بنانے اور معاشرے کو وسیع پیمانے پر فوائد پہنچانے کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کا پھیلاؤ معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچنا چاہیے، جس کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچے ، اے آئی سے متعلق بیداری اور ذمہ دارانہ استعمال ضروری ہے۔ دنیا کے پہلے وزیرِ برائے مصنوعی ذہانت کی حیثیت سے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مسلسل مکالمے، عالمی تعاون کے پلیٹ فارمز اور جامع طرزِ حکمرانی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات کے لیے خبردار کیا کہ اچانک اور انتہائی نوعیت کے ضوابط نقصان دہ ہو سکتے ہیں، اس کے بجائے بتدریج، پیشگی اور لچکدار فریم ورک اپنانا چاہیے جو ٹیکنالوجی کے ساتھ ارتقا پذیر ہو۔ ماضی کے تکنیکی انقلاب کی  مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضابطہ سازی کا عمل مسلسل اور مشاورتی ہونا چاہیے تاکہ جدت اور حفاظتی اقدامات کے درمیان توازن برقرار رہے اور کوئی بھی ملک عالمی اے آئی مکالمے سے باہر نہ رہ جائے۔

عزت مآب پاؤلا بوگانتے زامورا نے چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک کا نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی، ممالک کو اپنی ڈیجیٹل تیاری کا دیانت دارانہ جائزہ لینے پر مجبور کرتی ہے۔ انہوں نے بنیادی عوامل جیسے کنیکٹیویٹی، بشمول فائیو جی کی تنصیب، قومی اے آئی حکمت عملیوں، ڈیٹا گورننس کے فریم ورک اور تحقیق و جدت میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ مختلف خطوں میں جدت پر اخراجات اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی تفریق کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضابطہ سازی ہر ملک کی ترقی کے مرحلے کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے علاقائی تعاون اور ہم خیال ممالک کے گروپوں کی اہمیت پر زور دیا تاکہ اجتماعی آواز مضبوط ہو اور مذاکراتی صلاحیت میں اضافہ ہو۔ ڈیٹا کو ایک اہم اثاثہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے ڈیٹا کی قدر، اے آئی ٹولز تک منصفانہ رسائی، اور ایسے معاونتی نظاموں پر گہرے عالمی گفت وشنید کی ضرورت پر زور دیا جو ممالک کو جدید اے آئی حل اپنانے سے پہلے بنیادی صلاحیتیں مضبوط بنانے میں مدد فراہم کریں۔

ڈاکٹر سمیر سرن نے بطور ناظم اپنے ابتدائی کلمات میں گفتگو کو اثرات، پھیلاؤ اور کثیرجہتی تعاون کے موضوعات کے گرد منظم کیا۔ انہوں نے جدت اور احتیاط کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جو سلامتی، حفاظتی حدود اور انسان پرمرکوز ڈیزائن جیسے وسیع تر سوالات سے جڑا ہوا ہے۔ بات چیت کے دوران اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ علاقائی، موضوعاتی یا مشترکہ اقدار پر مبنی شراکت داریاں کس طرح اس امر کو یقینی بنا سکتی ہیں کہ اے آئی کی حکمرانی تیزی سے بدلتے ہوئے تکنیکی منظرنامے میں جامع اور مؤثر رہے۔

پینل کا اختتام اس مشترکہ عہدپر ہوا کہ مصنوعی ذہانت معاشی ترقی، سماجی پیش رفت اور معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے ایک انقلابی موقع فراہم کرتی ہے۔ مقررین نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، جدت کی حوصلہ افزائی، ذمہ دارانہ ضابطہ سازی اور عالمی تعاون کے فروغ کو یقینی بنانا اس بات کے لیے کلیدی ہوگا کہ اے آئی کے فوائد وسیع پیمانے پر انسانیت تک پہنچ سکیں۔

اس اجلاس  نے اس امر کی بھی توثیق کی کہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 محفوظ، جامع اور مستقبل بین مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کی تشکیل کے لیے ایک نمایاں عالمی پلیٹ فارم کے طور پر اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

************

ش ح۔ش م ۔ ج ا

 (U: 2759)


(ریلیز آئی ڈی: 2230600) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada