PIB Headquarters
گنیز ورلڈ ریکارڈ نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں ہندوستان کے پختہ عزم کو نمایاں کیا
250, 000 سے زیادہ شہریوں نے ذمہ دار اے آئی کا عہد لیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 FEB 2026 8:01PM by PIB Delhi


انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے تیسرے دن نئی دہلی کےبھارت منڈپم میں کامیابی کا پرسکون احساس ہوا ۔ اعلان سادہ ،لیکن اہم ہے ۔ ہندوستان نے 24 گھنٹوں میں اے آئی ذمہ دارانہ مہم کے لیے موصول ہونے والے سب سے زیادہ عہد کے لیے گنیز ورلڈ ریکارڈ کا خطاب حاصل کیا ہے ۔ 16 اور 17 فروری کے درمیان کل 250,946 درست عہد درج کیے گئے ہیں ۔اس اعداد و شمار نےبہ آسانی 5,000 کے ابتدائی ہدف کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ محض ایک ریکارڈ نہیں ہے ۔ یہ ایک نوجوان قوم کی طرف سے عزم کا اظہار ہے،جو سوچ سمجھ کر مصنوعی ذہانت کی تشکیل کا انتخاب کر رہی ہے ۔
16 سے 20 فروری تک جاری رہنے والی اس چوٹی کانفرنس میں ملک وبیرون ملک کے طلباء ، اساتذہ ، اختراع کاروں اور پالیسی ساز حصہ لے رہے ہیں ۔ انٹیل انڈیا کے تعاون سے انڈیا اے آئی مشن کے تحت شروع کی گئی ’اے آئی ذمہ دارانہ عہد‘ مہم شہریوں کو اے آئی کے اخلاقی ، جامع اور جوابدہ استعمال کے لیے مدعو کرتی ہے ۔ عہد کو مکمل کرنے والے شرکاء کو ڈیجیٹل بیج اور کیوریٹڈ اے آئی سیکھنے کے وسائل تک رسائی حاصل ہوتی ہے ۔ اشارہ علامتی ہے ، لیکن عملی ہے ۔ یہ ارادے کو تعلیم سے جوڑتا ہے ۔

میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے اسے ملک کے لیے فخر کا لمحہ قرار دیا ۔ انہوں نے اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال میں ہندوستان کے نوجوانوں کو شامل کرنے کے وزیر اعظم مودی کے وژن کو اجاگر کیا ۔ ملک بھر کے کالجوں کو متحرک کیا جا رہا ہے ، فیکلٹی ممبران کو باخبر مباحثوں کی قیادت کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور طلباء پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اے آئی کو شارٹ کٹ کے طور پر نہیں ، بلکہ سماجی بھلائی کے آلے کے طور پر دیکھیں ۔ انہوں نے عہد لینے والے 250,000 سے زیادہ شرکاء کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا نقطہ نظر واضح ہے: اے آئی کو بنیادی طور پر ذمہ داری کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے ۔

مقام کی توانائی اس وضاحت کی عکاسی کرتی ہے ۔ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی نوجوانوں کی آبادی والا ملک ہے ، جس کی 65 فیصد سے زیادہ آبادی 35 سال سے کم عمر کی ہے ۔ یہ سمٹ اس آبادیاتی قوت کو شعوری اور بامقصد انداز میں بروئے کار لا رہی ہے۔ یہاں گفتگو صرف الگورتھمز اور بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں، بلکہ خواندگی، اخلاقیات اور طویل مدتی صلاحیت سازی کے گرد گھومتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب کوئی دور کی ٹیکنالوجی نہیں رہی، بلکہ ایک ابھرتی ہوئی زندگی کی مہارت بن چکی ہے۔
یہی جذبہ یووائی گلوبل یوتھ چیلنج کے فاتحین کے اعلان میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ انڈیا اے آئی مشن کے تحت تصور کیے گئے اس چیلنج میں 38 ممالک سے 2,500 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔ 13 سے 21 سال کی عمر کے نوجوان اختراع کاروں نے ’’عوام، سیارہ اور ترقی‘‘ کے موضوعات کے تحت مصنوعی ذہانت پر مبنی حل تیار کیے۔ ان کے تصورات صحتِ عامہ، زراعت، موسمیاتی لچک، رسائی، اسمارٹ نقل و حمل اور ڈیجیٹل اعتماد جیسے شعبوں پر محیط ہیں۔
اب سرفہرست 70 ٹیمیں سمٹ میں اپنے عملی نمونے پیش کر رہی ہیں۔ وہ پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں سے براہ راست گفتگو کر رہی ہیں۔ وہ محض شرکاء نہیں، بلکہ مسائل کا حل پیش کرنے والے نوجوان رہنما ہیں۔
یہ عالمی شرکت کسی بڑے پیغام کی غمازی کرتی ہے۔ہندوستان نہ صرف مقامی صلاحیتوں کو فروغ دے رہا ہے بلکہ ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے میدان میں خود کو ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرنے والی قوت کے طور پر بھی پیش کر رہا ہے۔نیشنل ای گورننس ڈویژن کی جانب سے وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی(ایم ای آئی ٹی وائی) کے تحت نومبر 2022 میں شروع کیا گیا وائی یو وی اے آئی(YUVAi) پروگرام 8ویں سے 12؍ویں جماعت تک کے طلبہ کو مصنوعی ذہانت اور سماجی مہارتوں سے آراستہ کرتا ہے۔ یہ پروگرام انہیں روزمرہ زندگی سے جڑے آٹھ اہم موضوعاتی شعبوں میں اے آئی کے اطلاق کی ترغیب دیتا ہے۔ زراعت، صحت، تعلیم، ماحولیات اور انصاف یہاں محض نظریاتی موضوعات نہیں بلکہ عملی حقائق ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے نوجوان ذہن کوڈنگ اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا سیکھ رہے ہیں۔
اسی کے ساتھ ’’وائی یو وی اے اے آئی فار آل‘‘پروگرام بھی جاری ہے، جو گیارہ ہندوستانی زبانوں میں پیش کیا جانے والا ایک مفت قومی اے آئی خواندگی کورس ہے۔ یہ کورس ڈی آئی کے ایس ایچ اے(DIKSHA) ، آئی جی او ٹی(iGOT) کرمایوگی اور فیوچر اسکلز پرائم پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے اور اس کا مقصد ایک کروڑ شہریوں میں مصنوعی ذہانت کی بنیادی مہارت پیدا کرنا ہے۔ اس کا عزم جرأت مندانہ ہے۔ یہ علم کو عام کرنے اور شہری و دیہی خلیج کو پر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح مصنوعی ذہانت کی خواندگی کو اسی طرح بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے ،جیسے کبھی ڈیجیٹل خواندگی کو دی گئی تھی۔ ایسے میں گنیز ریکارڈ اس وسیع عوامی تحریک کا فطری تسلسل محسوس ہوتا ہے۔
سمٹ کے ایک اور گوشے میں نیتی آیوگ کے تحت اٹل انوویشن مشن یہ پیش کر رہا ہے کہ کس طرح نچلی سطح کی اختراعات قومی ترجیحات سے ہم آہنگ ہو رہی ہیں۔ ’’اے آئی ٹنکرپرینیور شوکیس‘‘ ملک بھر کی اٹل ٹنکرنگ لیبز سے تعلق رکھنے والی 50 طلبہ ٹیموں کو یکجا کرتا ہے۔ ان کے منصوبے صحت کی سہولیات میں کمی، فصلوں کے انتظام، موسمیاتی موافقت اور قابلِ رسائی تعلیم جیسے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔ رواں برس کے ایڈیشن میں 12,000 سے زائد ٹیموں نے حصہ لیا اور سخت جانچ کے بعد سرفہرست 50 ٹیمیں آج یہاں موجود ہیں۔ یہ اس ثقافت کی عکاسی کرتی ہیں جہاں تجربہ اور جستجو کا رجحان بتدریج ایک مضبوط اختراعی روایت میں تبدیل ہو رہا ہے۔
نمائش ہال سے آگے ایک وسیع تر ماحولیاتی نظام تشکیل پا رہا ہے۔ حکومت متعدد سطحوں پر اے آئی تعلیم اور مہارت سازی کی حمایت کے لیے بتدریج فریم ورک تیار کر رہی ہے۔ مرکزی بجٹ27-2026 میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے مختص رقوم اس سمت کو مزید تقویت فراہم کرتی ہیں۔ ممبئی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کریئیٹو ٹیکنالوجیز کی معاونت سے 15,000 اسکولوں اور 500 کالجوں میں اے آئی سے ہم آہنگ کانٹینٹ کریئیٹر لیبز قائم کی جائیں گی۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے اورنج اکانومی سے وابستہ شعبوں — جن میں اینیمیشن، گیمنگ اور ڈیجیٹل مواد شامل ہیں — میں تقریباً 20 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
سمٹ میں کمپیوٹنگ صلاحیت میں اضافے کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔ آئندہ ہفتوں میں ہندوستان اپنی موجودہ 38,000 گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یوز) کی بنیاد میں مزید 20,000 یونٹس کا اضافہ کرے گا۔ بنیادی ڈھانچہ اور اخلاقی اصول کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ پیغام واضح ہے: وسعت اور ذمہ داری کو ایک دوسرے کے ساتھ چلنا ہوگا۔ اس توازن کے لیے ہنر مند افرادی قوت کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔
اسکولوں کی کلاسوں سے لے کر اعلیٰ تحقیقی تجربہ گاہوں تک نئے راستے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ صحت، زراعت اور پائیدار شہروں کے شعبوں میں سینٹرز آف ایکسیلنس پہلے ہی فعال ہیں، جبکہ تعلیم کے لیے چوتھے سینٹر آف ایکسیلنس کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ مہارت سازی کے لیے پانچ قومی سینٹرز آف ایکسیلنس نوجوانوں کو صنعت سے ہم آہنگ اے آئی مہارتوں سے آراستہ کر رہے ہیں۔ جولائی 2025 میں شروع کی گئی ’’اسکلنگ فار اے آئی ریڈینس‘‘(ایس او اے آر) پہل طلبہ اور اساتذہ کے لیے منظم تعلیمی ماڈیول فراہم کرتی ہے۔ پیشہ ورانہ سطح پر کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم کے تحت 31 نئے دور کے کورسز متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں مصنوعی ذہانت اور صنعتی روبوٹکس شامل ہیں اور یہ کورسز ملک بھر کے صنعتی تربیتی اداروں اور قومی مہارت تربیتی اداروں کے ذریعے پیش کیے جا رہے ہیں۔
حکومتی نظام کے اندر بھی استعداد سازی کا عمل جاری ہے، جس کے لیے سرکاری افسران کے لیے ’’اے آئی کمپٹینسی فریم ورک‘‘ نافذ کیا گیا ہے۔ یہ فریم ورک سرکاری اہلکاروں کو ضروری اے آئی مہارتیں سکھانے اور انہیں پالیسی سازی اور حکمرانی میں بروئے کار لانے کے لیے منظم تربیت فراہم کرتا ہے۔ اس طرح مصنوعی ذہانت کی سمجھ بوجھ صرف تعلیمی اداروں یا نجی شعبے تک محدود نہیں رہتی ،بلکہ عوامی نظام تک بھی پھیلتی ہے۔
اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کو بھی انڈیا اے آئی مشن کے تحت براہِ راست معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ 500 پی ایچ ڈی اسکالرز، 5,000 پوسٹ گریجویٹ طلبہ اور 8,000 انڈرگریجویٹ طلبہ کے لیے فیلوشپس اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات میں توسیع کی جا رہی ہے۔ جولائی 2025 تک 200 سے زائد فیلوشپس دی جا چکی ہیں اور 73 اداروں نے ڈاکٹریٹ امیدواروں کا اندراج مکمل کر لیا ہے۔ ٹیئر -ٹو اور ٹیئر تھری شہروں میں ڈیٹا اور اے آئی لیبارٹریاں قائم کی جا رہی ہیں۔ این آئی ای ایل آئی ٹی اور صنعتی شراکت داروں کے تعاون سے اب تک 31 لیبارٹریاں شروع کی جا چکی ہیں، جبکہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے مزید لیبارٹریوں کے لیے 174 صنعتی تربیتی اداروں اور پولی ٹیکنکس کو نامزد کیا ہے۔ اس طرح جدید آلات تک رسائی اب صرف چند بڑے شہری مراکز تک محدود نہیں رہی۔
جیسے جیسے سمٹ آگے بڑھ رہی ہے، ماحول سنجیدہ مگر پراعتماد نظرآرہا ہے۔ گفتگو مستقبل پر مرکوز ہے، مگر اس کی بنیاد عملی نفاذ پر قائم ہے۔ جب نوعمر طلبہ اپنے عملی نمونے پیش کرتے ہیں تب پالیسی سازاانہیں توجہ سے سنتےہیں ۔ صنعتی رہنما ایسے خیالات کی تلاش میں ہیں، جو وسعت پذیر ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاقی بنیادوں پر بھی مضبوط ہوں۔ یہ تبادلہ رسمی کم اور بامعنی زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
گنیز کا اعتراف ایک اہم لمحہ ضرور ہے، مگر اس کے پسِ پردہ عزم اس سے کہیں گہرا ہے۔ ہندوستان بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، تحقیق کو فروغ دے رہا ہے، مہارت سازی کے نظام کو مضبوط بنا رہا ہے اور اپنی نوجوان نسل کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی اخلاقیات متعین کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ ریکارڈ شاید 24 گھنٹوں میں قائم ہوا ہو، لیکن اس کا عزم نسلی اور طویل مدتی ہے۔
حوالہ جات:
پی ڈی ایف کے لئے یہاں کلک کریں
****
ش ح۔م ع ن۔ ع د
U. No. 2701
(ریلیز آئی ڈی: 2230110)
وزیٹر کاؤنٹر : 5