کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

کھیت کی مٹی کو بچانے کے لیے نوجوان آگے آئیں، کھاد کے سکریٹری نے زرعی پیشہ ور افراد سے بات چیت کی


کسان ہمارے وی آئی پی ہیں: حکومت نے کھادوں کے متوازن استعمال کے لیے نوجوانوں سے تجاویز طلب کیں

مٹی کی صحت بہتر بنانے کے لیے زرعی گریجویٹس کا سہارا لیا جائے گا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 FEB 2026 6:31PM by PIB Delhi

مٹی کی صحت کو برقرار رکھنے اور کسانوں کو متوازن کھادوں کے استعمال کی ترغیب دینے کے لیے اب محکمۂ کھاد نے نوجوانوں سے براہِ راست پہل کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس سلسلے میں کھاد کے سکریٹری جناب رجت کمار مشرا نے بدھ کے روز ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہندوستان فرٹیلائزرز اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ (ایچ یو آر ایل) اور راشٹریہ کیمیکلز اینڈ فرٹیلائزرز لمیٹڈ (آر سی ایف) میں خدمات انجام دینے والے تقریباً 100 زرعی گریجویٹس کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔

اس میٹنگ کا بنیادی مقصد مٹی پر یوریا کے غیر متوازن استعمال کے اثرات پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔ سکریٹری نے گاؤں کی سطح پر کام کرنے والے زرعی گریجویٹس سے براہِ راست گفتگو کی اور دریافت کیا کہ آیا یوریا کا غیر متوازن استعمال مٹی میں غذائی اجزاء کے توازن کو متاثر کر رہا ہے۔ اس دوران مٹی میں کاربن کی سطح اور کھیتوں کی مٹی کی سختی جیسے اہم پہلوؤں پر بھی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ متوازن کھادوں کا استعمال اور نچلی سطح پر مربوط غذائی نظم و نسق کو فروغ دینا ہی زراعت کو طویل مدت میں پائیدار بنانے اور مٹی کی زرخیزی کو بحال کرنے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کسان ہمارے وی آئی پی ہیں کا حوالہ دیتے ہوئے سکریٹری نے کہا کہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ اور انہیں باخبر رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی شعبے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے نوجوانوں کی شمولیت نہایت اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مسلسل فیڈ بیک حاصل کر رہی ہے اور نوجوان پیشہ ور افراد حکومت، کمپنیوں اور کسانوں کے درمیان رابطے کی سب سے مضبوط کڑی ہیں۔

اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ محکمۂ کھاد نے مٹی کے تحفظ کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے اب تک آٹھ پدم شری ایوارڈ یافتگان کے ساتھ مفید اور نتیجہ خیز بات چیت کی ہے۔ سکریٹری نے زرعی گریجویٹس کو ہدایت دی کہ وہ نامیاتی کاشتکاری اختیار کرنے والے کسانوں کی کامیاب کہانیوں کو دستاویزی شکل دیں، اور کسانوں کو بڑے پیمانے پر نامیاتی کھاد اور سبز کھاد کے استعمال سے آگاہ کریں۔

 

نامیاتی کاشتکاری اور لکھ پتی دیدی سے وابستہ مہم

کھاد کے سکریٹری کے ساتھ گفتگو کے دوران زرعی گریجویٹس نے تجویز دی کہ ورمی کمپوسٹ جیسی سرکاری اسکیموں سے متعلق معلومات لکھپتی دیدی، سیلف ہیلپ گروپس اور کمیونٹی تنظیموں کے ذریعے گھر گھر پہنچائی جا سکتی ہیں۔ میٹنگ میں گاؤں اور بلاک کی سطح پر کسانوں کے ساتھ براہِ راست کام کرنے والے نوجوانوں کے زمینی تجربات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مثال کے طور پر گورکھپور سے تعلق رکھنے والے اودھیش سنگھ نے فیلڈ تجربات کا حوالہ دیا، جن سے ظاہر ہوا کہ متوازن کھادوں کے استعمال سے نہ صرف فصل کی پیداوار میں اضافہ ہوا بلکہ مٹی کی ساخت میں بھی نمایاں بہتری آئی۔

 

میٹنگ میں ایڈیشنل سکریٹری، جوائنٹ سکریٹری (محکمۂ کھاد) کے علاوہ ایچ یو آر ایل اور آر سی ایف کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹرز اور منیجنگ ڈائریکٹرز بھی موجود تھے۔ اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ محکمہ اپنی پالیسی سازی میں نچلی سطح پر کام کرنے والے افراد کی آراء کو شامل کرے گا، تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے مٹی کی زرخیزی کو محفوظ رکھا جا سکے اور ہندوستانی کسان ترقی کی راہ پر گامزن رہیں۔

 

***

 

UR-2679

(ش ح۔اس ک  )

 


(ریلیز آئی ڈی: 2229963) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी