شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
قومی کھاتوں کی 2022-23 سیریز میں طریقہ کار میں بہتری سے متعلق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ جاری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 FEB 2026 6:00PM by PIB Delhi
شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) قومی کھاتوں کے بنیادی سال پر نظرِ ثانی کے عمل میں مصروف ہے۔ قومی کھاتوں کے اعداد و شمار سے متعلق ایک مشاورتی کمیٹی (اے سی این اے ایس)، پروفیسر بی۔این۔ گولڈر کی صدارت میں تشکیل دی گئی تھی، جس کا مقصد دیگر امور کے ساتھ ساتھ اعداد و شمار کے نئے ذرائع کو شامل کرنے اور معاشی تجزیے اور پالیسی سازی کے لیے قومی کھاتوں کے اعداد و شمار کی تالیف اور پیش کش کے طریقۂ کار میں بہتری سے متعلق ایم او ایس پی آئی کو مشورہ دینا تھا۔
اے سی این اے ایس کے تحت، مخصوص موضوعات پر بیک وقت غور و خوض کے لیے درج ذیل پانچ ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں:
- ڈیٹا کے نئے ذرائع، شرحوں اور تناسب کو شامل کرنے سے متعلق ذیلی کمیٹی
- طریقۂ کار میں بہتری سے متعلق ذیلی کمیٹی
- مستقل قیمتوں کے تخمینوں سے متعلق ذیلی کمیٹی
- علاقائی کھاتوں سے متعلق ذیلی کمیٹی
- ایس این اے 2025 اپ ڈیٹ سے متعلق ذیلی کمیٹی
نئی سیریز کے تخمینے 27 فروری 2026 کو جاری کیے جانے ہیں۔ نئی سیریز میں متعارف کرائی جانے والی تبدیلیوں سے قومی کھاتوں کے اعداد و شمار کے صارفین کو آگاہ کرنے کے مقصد سے، وزارت نے طریقۂ کار میں بہتری سے متعلق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں جی ڈی پی سمیت قومی کھاتوں کے مختلف تخمینوں کی تالیف میں کی گئی طریقہ جاتی تبدیلیوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں ذیلی کمیٹی کے زیرِ غور اہم امور اور اجلاسوں کے دوران ہونے والی تفصیلی بحث و تمحیص سے اخذ کردہ سفارشات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔
نئی سیریز میں شامل چند نمایاں تبدیلیاں درج ذیل ہیں:
غیر مالیاتی نجی کارپوریٹ شعبہ:
(الف) کثیر سرگرمی اداروں کے معاملے میں سرگرمیوں کی علیحدگی:
2011-12 کی سیریز میں، کثیر سرگرمی اداروں کے معاملے میں، مجموعی ویلیو ایڈڈ (جی وی اے) کو غالب حصے کے معیار کی بنیاد پر کسی ایک صنعت سے منسوب کر دیا جاتا تھا۔ نئی سیریز میں، ایم جی ٹی ڈیٹا میں دستیاب ادارہ جاتی سطح پر سرگرمی کے لحاظ سے آمدنی کے حصے کو معاشی سرگرمیوں کی علیحدگی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ادارے کی ہر کاروباری سرگرمی کے ذریعے پیدا ہونے والی قدر کا علیحدہ تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
(ب) الگ الگ سطحوں پر ضرب کا استعمال:
2011-12 کی سیریز میں غیر رپورٹنگ کمپنیوں کے تخمینے مجموعی سطح پر پیڈ اپ کیپٹل (پی یو سی) پر مبنی ضرب کے ذریعے حاصل کیے جاتے تھے۔ نئی سیریز میں صنعتوں اور مختلف سائز کی درجہ بندیوں میں سرمایہ جاتی شدت (جو جی وی اے اور پی یو سی کے تناسب سے ماپی جاتی ہے) کے فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے الگ الگ سطحوں پر ضرب کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
عمومی حکومتی شعبہ:
(الف) حکومت کی جانب سے فراہم کردہ رہائشی خدمات کی امپوٹیشن:
نئی سیریز میں حکومت کی جانب سے اپنے ملازمین کو فراہم کی جانے والی رہائشی خدمات کی قدر کا امپوٹیشن کیا گیا ہے، تاکہ عمومی حکومت کے آؤٹ پٹ کے تخمینوں میں ان خدمات کی مناسب تشخیص کو یقینی بنایا جا سکے۔
(ب) عمومی حکومت کے شعبے میں خود مختار اداروں اور مقامی اداروں کی کوریج میں بھی توسیع کی گئی ہے۔
گھریلو شعبہ:
نئی سیریز میں گھریلو شعبے کے تخمینوں کو بہتر بنانے کے لیے 2011-12 کی سیریز میں اختیار کیے گئے اشاریاتی بنیاد پر ایکسٹریپولیشن کے طریقۂ کار کے بجائے غیر مربوط شعبے کے اداروں کے سالانہ سروے اور پیریاڈک لیبر فورس سروے کے سالانہ اعداد و شمار کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ معیشت میں نمایاں حصہ رکھنے والے گھریلو شعبے کا ہر سال براہِ راست تخمینہ لگایا جائے۔
تازہ ترین شرحیں اور تناسب:
نئی سیریز میں مختلف مطالعات کی بنیاد پر تازہ ترین شرحوں اور تناسب کو اپنایا گیا ہے۔ زراعت کے شعبے میں انڈین گراس لینڈ اینڈ فوڈر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے گھاس اور چارہ سے متعلق مطالعات، سنٹرل میرین فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور سنٹرل ان لینڈ فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے ماہی گیری سے متعلق مطالعات، جبکہ نجی حتمی کھپت اخراجات کے حوالے سے نیشنل ڈیری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے دودھ اور دودھ کی مصنوعات، اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی جانب سے نقل و حمل کی خدمات سے متعلق مطالعات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
ڈیٹا کے نئے ذرائع کا استعمال:
نئی سیریز میں شامل کیے گئے نئے ڈیٹا ذرائع میں سہ ماہی قومی کھاتوں کے لیے جی ایس ٹی ڈیٹا، علاقائی الاٹمنٹ اور سالانہ تخمینوں کی توثیق، سرکاری شعبے کے بروقت اور تازہ تخمینوں کے لیے پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم کے ڈیٹا کا استعمال، اور زمینی نقل و حمل کی خدمات کی پیداوار اور کھپت کے تخمینے کے لیے ای۔واہان ڈیٹا کا استعمال شامل ہے۔
نجی حتمی کھپت اخراجات (پی ایف سی ای):
نئی سیریز میں پی ایف سی ای کا تخمینہ زیادہ باریک بینی کے ساتھ ایک مخلوط طریقۂ کار کے ذریعے لگایا جا رہا ہے، جس میں (الف) گھریلو صارفین کے اخراجات کے سروے کا بہتر استعمال، (ب) پیداوار اور دیگر ڈیٹا ذرائع پر مبنی براہِ راست تخمینے، اور (ج) اجناس کے بہاؤ کا طریقۂ کار شامل ہے۔ اس کے علاوہ، پی ایف سی ای کی تالیف کے لیے تازہ ترین بین الاقوامی معیار یعنی سی او آئی سی او پی 2018 کو بھی اپنایا گیا ہے۔
سہ ماہی قومی کھاتوں (کیو این اے) کے ضمن میں 2011-12 کی سیریز میں سہ ماہی تخمینوں کو سالانہ قومی کھاتوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بینچ مارکنگ کے مقصد سے پرو۔ریٹا طریقۂ کار اختیار کیا گیا تھا۔ تاہم نئی سیریز میں، سہ ماہی قومی کھاتوں کی سیریز میں موجود مصنوعی تعطل کو ختم کرنے اور اشاریوں کی قدرتی نقل و حرکت کو برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تجویز کردہ ڈینٹن متناسب بینچ مارکنگ طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس طریقۂ کار کے ذریعے سہ ماہی قومی کھاتوں کے تخمینوں کو سالانہ قومی کھاتوں کے تخمینوں کے ساتھ مزید مؤثر انداز میں ہم آہنگ کیا جاتا ہے۔
دیگر ذیلی کمیٹیوں کی رپورٹیں بھی جلد ہی جاری کی جائیں گی۔
یہ رپورٹ شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) کی ویب سائٹ www.mospi.gov.in پر دستیاب ہے۔
***
UR-2672
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2229934)
وزیٹر کاؤنٹر : 6