اسٹیل کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

اسٹیل کی وزارت نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں اسٹیل ویلیو چین میں اے آئی پر مبنی تبدیلی کے فروغ کے لیے ڈیجیٹل روڈمیپ پیش کیا


وزارت اسٹیل نے 2035-36 تک 400 ملین ٹن صلاحیت کے ہدف کی حمایت کے لیے اے آئی سے لیس جدیدکاری کو آگے بڑھایا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 FEB 2026 6:33PM by PIB Delhi

اسٹیل کی وزارت نے آج انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے جاری اجلاس کے دوران بھارت منڈپم میں اسٹیل کے شعبے میں ڈیجیٹل مواقع سے متعلق ایک جامع روڈمیپ پیش کیا اور بھارت کو ٹیکنالوجی سے چلنے والی عالمی اسٹیل طاقت میں تبدیل کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ روڈ میپ اس اسٹریٹجک ادراک کی عکاسی کرتا ہے کہ اسٹیل کے شعبے میں ترقی کا اگلا مرحلہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافے تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ ویلیو چین کے ہر مرحلے پر ذہین نظاموں، پیش گوئی پر مبنی تجزیات، خودکاری (آٹومیشن) اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کے انضمام سے متعین ہوگا۔

اسٹیل میں اے آئی: وژن سے عمل تک

اس اقدام کے مرکز میں ’اسٹیل پویلین میں اے آئی‘ کا قیام کیا گیا ہے، جو اپنی نوعیت کا پہلا اشتراکی پلیٹ فارم ہے۔ یہ پلیٹ فارم صنعت کو درپیش حقیقی وقت کے مسائل پیش کرتا ہے اور اے آئی حل فراہم کرنے والوں، اسٹارٹ اپ، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور تحقیقی اداروں کو عملی اور قابلِ توسیع حل مشترکہ طور پر تیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ روایتی نمائشوں کے برعکس، یہ پویلین ایک مسئلہ تا حل مارکیٹ پلیس کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں اسٹیل پیدا کرنے والی کمپنیوں اور کان کنی کے اداروں کو درپیش آپریشنل، لاجسٹک، حفاظتی، کوالٹی کنٹرول، پائیداری اور مارکیٹنگ سے متعلق مخصوص چیلنج پیش کیے جاتے ہیں۔ اے آئی ماہرین کو نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے بلکہ قابل پیمائش نتائج فراہم کرنے کے لیے شراکت داری کی بھی ترغیب دی جاتی ہے۔ یہ پویلین کان کنی، لاجسٹکس، پیداوار، معیار کی یقین دہانی، مارکیٹنگ اور کارپوریٹ گورننس سمیت مختلف شعبوں میں بتدریج ڈیجیٹلائزیشن سے آگے بڑھ کر مشن موڈ پر مبنی اے آئی انضمام کی جانب واضح پیش رفت کی علامت ہے۔ اس سے وزارت کا یہ عزم نمایاں ہوتا ہے کہ وہ محدود پیمانے کے پائلٹ منصوبوں سے نکل کر جامع اور نظامی تبدیلی کی طرف گامزن ہے۔

صنعت اور اسٹارٹ اپ کا اشتراک

ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں سرکردہ اسٹیل پروڈیوسروں، آئرن اور مائننگ کمپنیوں، سینئر پالیسی سازوں اور اے آئی ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا تاکہ شعبے کے ڈیجیٹل مستقبل پر غور و خوض کیا جا سکے۔ بڑے سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے نمائندگان نے اپنے مستقبل کے ڈیجیٹلائزیشن روڈ میپ پیش کیے اور اُن ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی جہاں اے آئی مداخلت فوری اور طویل مدتی قدر پیدا کر سکتی ہے۔ مباحثے کا مرکزی نکتہ عملی نفاذ رہا۔ اعلیٰ اثر رکھنے والے مخصوص یوز کیسز کی نشاندہی کی گئی اور صنعتی رہنماؤں نے اُن تکنیکی صلاحیتوں کی وضاحت کی جو وہ اے آئی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپ سے چاہتے ہیں، جن میں پیش گوئی پر مبنی مینٹیننس الگورتھم، کمپیوٹر وژن سسٹم، سپلائی چین آپٹیمائزیشن ماڈل اور ذہین فیصلہ سازی معاون نظام شامل ہیں۔ اس اجلاس نے دو طرفہ تبادلۂ خیال کو ممکن بنایا۔ صنعت کے نمائندگان نے آپریشنل چیلنج بیان کیے، جیسے کہ ڈاؤن ٹائم میں کمی، پیداوار کی بہتر شرح میں اضافہ، کارکنوں کی حفاظت کو بہتر بنانا، خام مال کی آمیزش کو مؤثر بنانا، اخراج میں کمی لانا اور طلب کی پیش گوئی کو بہتر بنانا۔ دوسری جانب، اے آئی کمپنیوں نے ان ضروریات کے مطابق جدید تکنیکی حل فراہم کرنے کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی۔ اس اشتراک سے ایک منظم جدت طرازی پائپ لائن کی تشکیل متوقع ہے، جس کے ذریعے امید افزا اے آئی حلوں کو اسٹیل کے پورے ماحولیاتی نظام میں تیزی سے آزمایا جا سکے گا، توثیق کی جا سکے گی اور وسیع پیمانے پر نافذ کیا جا سکے گا۔

ترقی کی رفتار اور اسٹریٹجک توسیع

اپنے خطاب میں وزارت اسٹیل کے سیکریٹری نے بھارت کے اسٹیل شعبے کی غیر معمولی ترقی اور اسٹیل و کان کنی کی ویلیو چین میں مجوزہ بڑے پیمانے کی سرمایہ کاریوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں اسٹیل کی کھپت 2014-15 میں 77 ملین ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 152 ملین ٹن تک تقریباً دوگنی ہو چکی ہے، جو بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار توسیع، شہری آبادی میں اضافے، مینوفیکچرنگ کے فروغ اور گھریلو طلب میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ ریلوے، شاہراہوں، رہائش، قابل تجدید توانائی، دفاعی پیداوار اور صنعتی کوریڈور جیسے بڑے قومی اقدامات نے ملک کی تعمیر میں اسٹیل کے مرکزی کردار کو مزید مستحکم کیا ہے۔

مستقبل میں 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کے وژن کو سامنے رکھتے ہوئے، وزارت اسٹیل نے جرات مندانہ اور وقت بند اہداف مقرر کیے ہیں۔ خام اسٹیل کی پیداواری صلاحیت کو موجودہ تقریباً 200 ملین ٹن سے بڑھا کر 2030-31 تک 300 ملین ٹن اور 2035-36 تک 400 ملین ٹن تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس توسیع کے ساتھ کان کنی کی پیداوار، لاجسٹکس نیٹ ورکس، بینیفیشی ایشن صلاحیت اور ڈاؤن اسٹریم ویلیو ایڈیشن میں بھی متوازی اضافہ کیا جائے گا۔ اتنی تیز رفتار توسیع کے لیے ذہین صلاحیت کے استعمال، حقیقی وقت کی نگرانی، مؤثر توانائی مینجمنٹ، ڈی کاربنائزیشن حکمت عملیوں اور سرمائے کے بہترین استعمال کی ضرورت ہوگی۔ اسی لیے اے آئی کو محض ایک ضمنی ٹول کے بجائے ایک اسٹریٹجک محرک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سیکریٹری نے زور دیا کہ جیسے جیسے صلاحیت میں اضافہ ہوگا، اسی تناسب سے پیداواریت، معیار، حفاظت اور پائیداری میں بھی بہتری آنی چاہیے۔ ذہین آٹومیشن، ڈیجیٹل ٹوئنز، جدید تجزیاتی نظام اور اے آئی سے چلنے والے پراسیس کنٹرول سسٹمز اس امر کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے کہ بھارت کا اسٹیل شعبہ عالمی سطح پر مسابقتی اور ماحولیاتی طور پر ذمہ دار رہے۔

صنعتی رہنماؤں نے اے آئی اسٹارٹ اپس سے درکار تعاون کی بھی وضاحت کی، جن میں شعبہ مخصوص تخصیص (ڈومین اسپیسفک کسٹمائزیشن)، قابلِ توسیع سسٹم آرکیٹیکچرز، سائبر سیکیورٹی میں مضبوطی، افرادی قوت کی قبولیت کو آسان بنانے کے لیے کثیر لسانی انٹرفیس، اور بھارتی عملی حالات کے مطابق تیار کردہ حل شامل ہیں۔ اس وضاحت سے جدت طرازی کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی، جس سے اسٹارٹ اپس درست اور مؤثر حل تیار کر سکیں گے اور صنعت انہیں اعتماد کے ساتھ نافذ کر سکے گی۔

تقریب کا اختتام بھارت کے اسٹارٹ اپ اور جدت طرازی کے ماحولیاتی نظام پر پُراعتماد پیغام کے ساتھ ہوا۔ وزارت اسٹیل نے اے آئی ڈیولپر، ڈیپ ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ، جامعات اور تحقیقی تجربہ گاہوں کو دعوت دی کہ وہ بھارت کے اسٹیل ریسرچ اور ٹیکنالوجی مشن کو ایک عملی لائیو سینڈ باکس ماحول کے طور پر استعمال کریں۔ موجدین کے لیے پیغام واضح تھا: اسٹیل کا شعبہ ملک میں صنعتی اے آئی کے مواقع کا ایک وسیع ترین منظرنامہ پیش کرتا ہے، جس میں کان کنی، بھاری صنعت، لاجسٹکس، پائیداری اور عالمی تجارت شامل ہیں۔ پیمانے، رفتار اور اسٹریٹجک وضاحت کے ساتھ وزارت اسٹیل نے بتایا ہے کہ بھارتی اسٹیل کا اگلا دور صرف دھات کاری ہی نہیں بلکہ ڈیٹا سے بھی تشکیل پائے گا۔ جیسے جیسے بھارت اپنی گھریلو ضروریات اور عالمی طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے، ویسے ویسے ڈیجیٹل ذہانت کارکردگی، لچک اور مسابقت کا تعین کرے گی۔ مستقبل کا بھارتی اسٹیل صرف بھٹیوں میں ہی نہیں ڈھلے گا، بلکہ الگورتھم سے تقویت پائے گا، جدت سے چلایا جائے گا اور صنعت و بھارت کے متحرک اے آئی ماحولیاتی نظام کے باہمی اشتراک سے مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

*********

ش ح۔ ف ش ع

                U: 2677

 


(ریلیز آئی ڈی: 2229925) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी