سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نئی دہلی میں نیوزی لینڈ کے وزیر سائنس ڈاکٹر شین ریتی کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کی


اے آئی  سربراہی اجلاس نے ہندوستان-نیوزی لینڈ کی تحقیق، اختراع اور آب و ہوا کے تعاون کو نئی تحریک فراہم کی

ہندوستان اور نیوزی لینڈ نے سائنسی تعلقات کو آگے بڑھایا۔ وزراء بائیو اکانومی(حیاتیاتی معیشت)، کوانٹم اور صاف توانائی میں ترجیحی تعاون پر اتفاق کیا

ہندوستان-نیوزی لینڈ کی شراکت داری خالص صفر کو فروغ دیتی ہے اور کوانٹم اور سائبر فزیکل مشنوں کو آگے بڑھاتی ہے

نیوزی لینڈ نے ہندوستان کے $بائیو-ای 3 مشن اور 10,000 اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے ساتھ شراکت کی ، جس سے 25 کوانٹم اور اے آئی انوویشن ہبس (اختراعی مراکز)تک رسائی حاصل ہوئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 FEB 2026 5:13PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 18 فروری: مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارتھ سائنسز، نیز وزیرِ مملکت برائے وزیرِ اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلا ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کرتویہ بھون-3، نئی دہلی میں نیوزی لینڈ کے وزیرِ سائنس، اختراع، ٹیکنالوجی اور تعلیم ڈاکٹر شین ریتی کے ساتھ ایک جامع دوطرفہ ملاقات کی۔

دورہ کرنے والے وزیر موجودہ اے آئی سمٹ میں شرکت کے لیے بھارت میں موجود ہیں، اور اس ملاقات نے وسیع تر تکنیکی مکالمے کو گہرے دوطرفہ سائنسی تعاون کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کیا۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم عزت مآب کرسٹوفر لکسن کے درمیان گرمجوش اور مستقبل پر مبنی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت نے سائنس اور اختراع کے شعبے میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے دور میں سائنسی سفارت کاری دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے اور مشترکہ اقتصادی و سماجی قدر پیدا کرنے میں ایک اسٹریٹجک کردار ادا کر رہی ہے۔

دونوں وزراء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اگرچہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان ممکنہ تعاون کا دائرہ وسیع ہے، تاہم شراکت داری ایک مرکوز اور نتائج پر مبنی نقطۂ نظر سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی۔ بیک وقت متعدد شعبوں میں کوششیں کرنے کے بجائے، دونوں فریقوں نے ایک یا دو ترجیحی شعبوں کی نشاندہی پر اتفاق کیا، جن کے لیے واضح سنگ میل اور قابلِ پیمائش نتائج طے کیے جائیں، تاکہ بعد ازاں انہیں تعاون کے ایک طویل مدتی اور منظم فریم ورک میں وسعت دی جا سکے۔ دونوں ممالک کے عہدیدار اب طریقۂ کار وضع کریں گے اور مزید غور و خوض کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کریں گے۔

بات چیت کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بائیوٹیکنالوجی اور بائیو اکنامی کے شعبے میں بھارت کی تیز رفتار پیش رفت کو اجاگر کیا، جس میں ٹرانسفارمیٹو بائیو۔ای3 (معیشت، ماحولیات اور روزگار کے لیے بائیوٹیکنالوجی) مشن اور تقریباً 10 ہزار اسٹارٹ اپس کی معاونت کرنے والے بائیو انکیوبیٹرز کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک شامل ہیں۔ بائیو اکنامی اور زراعت پر مبنی اختراع میں نیوزی لینڈ کی عالمی مہارت کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں فریقوں نے آب و ہوا سے ہم آہنگ فصلوں، مویشیوں اور ڈیری جینومکس، مٹی کے مائیکرو بایوم پر تحقیق، فنکشنل فوڈز، متبادل پروٹین اور نیوٹریسوٹیکلز کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔ وزراء نے کاربن کیپچر ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں کیپچرڈ کاربن کے حیاتیاتی استعمال پر بھی گفتگو کی، جو پائیدار ترقی اور نیٹ زیرو منتقلی کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

آب و ہوا سے متعلق اقدامات اور صاف ستھری توانائی بات چیت کے مرکزی ستون کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے گرین ہائیڈروجن، برقی نقل و حرکت، صاف توانائی کے تنوع اور سمندر پر مبنی توانائی کی تلاش کے ذریعے نیٹ زیرو کے حصول کے لیے بھارت کے مشن پر مبنی نقطۂ نظر کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے سمندری علوم اور ڈی سیلینیشن ٹیکنالوجیز میں بھارت کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا، جن میں لکشدیپ جیسے جزیراتی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ نیوزی لینڈ کے وفد نے جیوتھرمل توانائی اور قابلِ تجدید نظاموں میں اپنی مہارت کا اشتراک کیا، اور دونوں وزراء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سمندری توانائی، جیوتھرمل تحقیق اور آب و ہوا سے ہم آہنگ بنیادی ڈھانچے میں مشترکہ قوتیں یکجا کرنے سے باہمی طور پر فائدہ مند نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم سینسنگ، محفوظ مواصلات اور کوانٹم فوٹوونکس جیسی فرنٹیئر ٹیکنالوجیز پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ بھارت نے روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور جدید مواد میں پیش رفت کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈیجیٹل اور فزیکل پلیٹ فارمز کو یکجا کرنے والے بین الضابطہ سائبر فزیکل سسٹمز کے فروغ کے لیے 25 ٹیکنالوجی انوویشن ہبس قائم کیے ہیں۔ دونوں فریقوں نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون کی اہمیت کو تسلیم کیا، بالخصوص تحقیق کو قابلِ توسیع، محفوظ اور سماجی طور پر مفید عملی اطلاقات میں تبدیل کرنے کے حوالے سے۔

صحت کے شعبے میں، وزراء نے ڈیجیٹل اور روبوٹک طبی اختراعات پر تبادلۂ خیال کیا۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 12 ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے پر ٹیلی روبوٹک الٹراساؤنڈ کے حالیہ کامیاب مظاہرے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے دور دراز علاقوں میں معیاری صحت کی سہولیات تک رسائی بڑھانے میں ایک نمایاں پیش رفت قرار دیا۔ گفتگو میں ذیابیطس کے انتظام سے متعلق ٹیکنالوجیز، بشمول گلوکوز کی مسلسل نگرانی کے نظام، اور ابھرتی ہوئی وزن میں کمی کی ادویات کے ذمہ دارانہ اور منظم استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا، جس کے ساتھ مربوط طبی نگرانی اور طرزِ زندگی میں بہتری کی مداخلتوں کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

خلائی سائنس اور قطبی تحقیق کو مستقبل میں بہتر تعاون کے لیے امید افزا شعبوں کے طور پر شناخت کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے انٹارکٹیکا میں تحقیق کی عالمی اہمیت اور ایشیا پیسیفک خطے کو متاثر کرنے والے آب و ہوا کے نظاموں پر اس کے اثرات کو تسلیم کیا۔ سیٹلائٹ مشاہدات، اونچائی پر تجربات اور گلیشیالوجی میں تعاون کے امکانات پر گفتگو کی گئی، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ان شعبوں میں مشترکہ سائنسی کاوشیں عالمی آب و ہوا کی بہتر تفہیم میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان منظم سائنسی مکالمے کو ازسرِنو فعال بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، بالخصوص حالیہ برسوں میں اعلیٰ سطحی روابط میں آنے والے وقفے کے تناظر میں۔ دونوں وزراء نے باقاعدہ ادارہ جاتی بات چیت، مشترکہ تحقیقی اعلانات اور محققین کی نقل و حرکت کے فریم ورک کے ذریعے رفتار بحال کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے اپنی بین الاقوامی تحقیقی مصروفیات سے حاصل شدہ بصیرت کا اشتراک بھی کیا گیا، جن میں بڑے عالمی تحقیقی پلیٹ فارمز کے ساتھ شراکت داری شامل ہے، جو تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کے راستوں کو مضبوط بنانے کی آمادگی کی غمازی کرتا ہے۔

تصویر: نیوزی لینڈ کے سائنس، اختراع، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے وزیرعزت مآب  ڈاکٹر شین ریتی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بدھ کو نئی دہلی کے کرتویہ بھون میں مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی۔

***

UR-2670

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2229845) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी