سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
آئی آئی ٹی مدراس کے پیش کردہ کنسورشیم پر مبنی جدت طرازی ماڈل سے ٹیکنالوجی کی فوری اور موزوں تجارتی تشکیل ممکن: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
دیگر تعلیمی ادارے اور جامعات بھی اس ماڈل کو تیزی سے اختیار کر رہی ہیں، وزیر کا بیان
آئی ٹی ای ایل میں مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ شہری سفری نظام اور بلند پٹریوں پر برقی پوڈز کا عملی مظاہرہ
اگنی کل کے قابلِ استعمال مجدد راکٹ سمیت خلائی شعبے میں نجی شمولیت نئی رفتار کا اشارہ: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
وزیر موصوف کے آئی آئی ٹی مدراس دورے میں اپنی نوعیت کی پہلی دماغی خلیاتی نقشہ سازی اور میڈ اِن انڈیا طبی آلات نمایاں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 FEB 2026 4:19PM by PIB Delhi
سائنس اور ٹیکنالوجی ، ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر ، عملہ ، عوامی شکایات ، پنشن ، نیوکلیائی توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج امیرسیو ٹیکنالوجی و کاروباری لیبارٹریز (آئی ٹی ای ایل) فاؤنڈیشن کا دورہ کیا، جو آئی آئی ٹی مدراس ریسرچ پارک میں قائم ہے۔ اس موقع پر انہوں نے آئی آئی ٹی مدراس کی مختلف جدید تحقیقی سہولیات کا بھی معائنہ کیا اور شہری نقل و حرکت، خلائی ٹیکنالوجی، طبی آلات اور دماغی تحقیق سمیت جاری منصوبوں کا جائزہ لیا۔
وزیر موصوف نے آئی آئی ٹی ریسرچ پارک کے تحت متعارف کرائے گئے کنسورشیم پر مبنی جدت طرازی ماڈل کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ طریقۂ کار ٹیکنالوجی کی فوری اور موزوں تجارتی تشکیل کو یقینی بناتا ہے۔ ان کے بقول دیگر تعلیمی ادارے اور جامعات بھی اس ماڈل کو تیزی سے اختیار کر رہے ہیں۔
امیرسیو ٹیکنالوجی و کاروباری لیبارٹریز (آئی ٹی ای ایل) فاؤنڈیشن، جو محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی سے منظور شدہ سیکشن 8 کی غیر منافع بخش تنظیم ہے اور جولائی 2024 میں قائم کی گئی، ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کی سرپرستی اور صنعت و جامعہ پر مشتمل کنسورشیم کی تشکیل کے ذریعے بھارت کو عالمی ٹیکنالوجی قیادت کے مقام تک پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس ماڈل کے تحت تعلیمی اداروں، صنعتی قائدین اور سرمایہ کاروں کو یکجا کر کے ٹیکنالوجی کی مشترکہ تیاری اور براہِ راست تجارتی شعبے کو منتقلی ممکن بنائی جاتی ہے۔
محققین اور اسٹارٹ اپ بانیوں سے گفتگو کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کنسورشیم اپروچ—جس میں صنعت کی شمولیت ترقی کے مرحلے ہی سے شروع ہو جاتی ہے—اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ جدتیں عملی ضروریات سے ہم آہنگ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا مربوط نظام تحقیق کے نتائج کو تیزی سے قابلِ نفاذ اور قابلِ عمل حل میں تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
اہم مظاہروں میں ہاشٹک موبلٹی اقدام شامل تھا، جس کا مقصد بھارتی شہروں میں ٹریفک کے شدید ازدحام کا مؤثر حل پیش کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ، مختصر حجم کے برقی سفری نظام کے ذریعے موجودہ سڑکوں کے اوپر بلند پٹریوں پر 15 کلومیٹر کا شہری سفر تقریباً 20 منٹ میں ممکن بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ تصور گنجان شہری علاقوں میں دروازے سے دروازے تک رابطہ فراہم کر کے سفری وقت کم کرنے اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ گھٹانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ ٹیم نے وزیر کو آگاہ کیا کہ یہ نظام بھارتی شہری حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کم لاگت، توسیع پذیری اور پائیداری پر خصوصی توجہ کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اسی ایکو سسٹم میں فروغ پانے والے نجی خلائی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ اگنی کل کاسموس کے کام کا بھی جائزہ لیا۔ کمپنی ایسی لانچ گاڑیاں تیار کر رہی ہے جو لچکدار اور ضرورت کے مطابق سیٹلائٹ لانچ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ 30 مئی 2024 کو کمپنی نے انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر (اِن-اسپیس) اور انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے تعاون سے اپنا پہلا مشن کامیابی سے مکمل کیا اور اپنی بنیادی ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔ ادارہ رواں برس اپنے قابلِ استعمال مجدد راکٹ کے تجارتی مشن کی تیاری کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق ایسے اسٹارٹ اپس بھارت کے تیزی سے وسعت پاتے خلائی شعبے میں نجی شراکت داری کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزیرموصوف نے آئی آئی ٹی مدراس کے انکیوبیشن سیل کا بھی دورہ کیا، جہاں موسمیاتی ٹیکنالوجی، صحت، ڈیپ ٹیک اور مصنوعی ذہانت پر مبنی حل سمیت مختلف شعبوں میں 500 سے زائد اسٹارٹ اپس کی پرورش کی جا چکی ہے۔ یہ انکیوبیشن یعنی تعاون اور امداد سیل رہنمائی، لیبارٹریوں تک رسائی، مالی معاونت اور صنعتی نیٹ ورک فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے نئے کاروباری ادارے اپنے ابتدائی نمونے (پروٹوٹائپ) کو مارکیٹ کے لیے تیار مصنوعات میں تبدیل کر پاتے ہیں۔
صحت کی دیکھ بھال کی ٹیکنالوجی اختراعی مراکز (ایچ ٹی آئی سی) میں وزیر کو تقریباً 40 طبی اداروں، صنعتی شراکت داروں اور سرکاری ایجنسیوں کے اشتراک سے کم لاگت مقامی طبی آلات کی تیاری پر بریفنگ دی گئی۔ 2011 میں محکمۂ بایوٹیکنالوجی کی ابتدائی معاونت سے قائم اس مرکز کی کاوشوں سے اب تک 12 تجارتی طور پر کامیاب "میڈ اِن انڈیا" مصنوعات متعارف ہو چکی ہیں، جن سے ملک و بیرونِ ملک دو کروڑ سے زائد مریض مستفید ہوئے ہیں۔ مرکز کا بنیادی ہدف طبی شعبے کی غیر پوری ضروریات کو پورا کرنا اور درآمدی طبی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنا ہے۔
دورے کے دوران سدھا گوپال کرشنن برین سینٹر کا بھی معائنہ کیا گیا، جہاں محققین پورے انسانی دماغ کی خلیاتی سطح تک بڑی پیمانے پر ڈیجیٹل تھری ڈی تصاویر تیار کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس معیار اور وسعت کا انسانی دماغی تصویری ڈیٹا پہلی بار بھارت میں تیار کیا گیا ہے۔ مرکز کا دوسرے سہ ماہی انسانی جنینی دماغ کے اٹلس پر مبنی منصوبہ ’’دھارانی‘‘ دماغی نقشہ سازی کی تحقیق میں نمایاں پیش رفت کا باعث بنا ہے اور ممتاز بین الاقوامی اداروں کی شراکت حاصل کر چکا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ اقدامات اس امر کی مثال ہیں کہ جامعہ، صنعت اور حکومت کے مربوط تعاون سے شہری نقل و حرکت، صحت، خلائی تحقیق اور نیورو سائنس جیسے شعبوں میں ٹیکنالوجی کی ترقی کو تیز کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تحقیقاتی اداروں کو ابتدا ہی سے صنعتی ضروریات سے جوڑنا بھارت کے جدت طرازی کے نظام کو مضبوط بناتا اور قومی ترجیحات سے ہم آہنگ مقامی ٹیکنالوجی کی تیاری کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔
سیشن کا اختتام اساتذہ، محققین اور صنعت کاروں سے ملاقاتوں پر ہوا، جہاں کامیاب ماڈلز کو وسعت دینے اور اسی نوعیت کے اشتراکی فریم ورک کو ملک کے دیگر اداروں میں بھی نافذ کرنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔



************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :2497 )
(ریلیز آئی ڈی: 2228440)
وزیٹر کاؤنٹر : 12