سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیرڈاکٹر جتیندر سنگھ نے چنئی میں آر آئی ایس ای کانکلیو 2026 کا افتتاح کیا اور اسٹارٹ اپ پر مبنی ترقیاتی ماڈل کو فروغ دینے پر زور دیا
آر آئی ایس ای کانکلیو 2026 نے بنیادی سطح کے اسٹارٹ اپس کے لیے نئی تحریک کا آغاز کیا، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ تمل ناڈو کی مکمل جدت کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے نقطہ نظر کو تبدیل کرنا ضروری ہے
چنئی میں منعقدہ آرآئی ایس ای کانکلیو نے تحقیق، صنعت اور اسٹارٹ اپس کو ایک جگہ یکجا کیا ۔ اس موقع پر سی ایس آئی آر–صنعت–اکیڈیمیا مفاہمت ناموں اور ایک نئے سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام کو اہم سنگِ میل قرار دیا گیا
بھارت نے ہیمافیلیا کے لیے جین تھراپی ٹرائل اور نئے اینٹی بایوٹک کی دریافت میں پیش رفت کی عکاسی کی ۔ سی ایس آئی آر- سی ایل آر آئی اور چنئی کے دیگر ادارے برآمدات کے ذریعے جدت کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت میں 2014 سے اب تک 2 لاکھ سے زائد اسٹارٹ اپس قائم ہو چکے ہیں اور 21 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ خواتین نے کاروباری ترقی میں قیادت کرتے ہوئے مدرا قرضوں کا 69 فیصد حصہ حاصل کیا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 FEB 2026 5:13PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز، اور وزیر مملکت برائے پی ایم او، پرسنل، عوامی شکایات، پنشن، اٹامک انرجی اور اسپیس ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج یہ واضح کیا کہ حکومت میں ملازمت واحد ذریعہ نہیں ہو سکتی جس پر بھارت کے نوجوان اپنی امنگیں منحصر کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جدت پر مبنی کاروبار اور روزگار پیدا کرنے کی سوچ کو فروغ دینے کے لیے ذہنیت میں فیصلہ کن تبدیلی کی ضرورت ہے۔ بھارت کا جدید اختراعی ماحولیاتی نظام اتنا ترقی یافتہ ہو چکا ہے کہ مواقع اب ’’موبائل فون‘‘ پر بھی دستیاب اور جمہوری طور پر تقسیم شدہ ہیں۔
چنئی میں منعقدہ ریسرچ–انڈسٹری–اسٹارٹ اپ–انٹرپرینیورشپ کانکلیو 2026 کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت ایک دیر سے شامل ہونے والے ملک سے اب عالمی اختراعی مرکز کے طور پر ابھر چکا ہے، اور تمل ناڈو کو اپنی مضبوط علمی اور تحقیقی بنیادوں سے فائدہ حاصل کرتے ہوئے ملک کے دو لاکھ سے زائد رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ دو روزہ کانکلیو 14–15 فروری کو چنئی ٹریڈ سینٹر میں منعقد ہوا، جس کا مقصد تحقیقاتی ادارے، صنعت کے رہنما، اکیڈیمیا اور نوجوان کاروباری افراد کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانا اور بھارت کے اختراعی مستقبل کو تقویت دینا ہے۔ وزیر موصوف کے وژن’’مجموعی معاشرے کے لیے مجموعی حکومت‘‘کے مطابق، کانکلیو کا مقصد لیبارٹری تحقیق کو مارکیٹ کی ضروریات، صنعتی شراکت داری اور بنیادی سطح کے کاروباری اقدامات کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔
ڈاکٹر این کلاسیلووی، ڈائریکٹر جنرل، سی ایس آئی آراور سکریٹری، ڈی ایس آئی آر؛ ڈاکٹر ایم روی چندرن، سکریٹری، وزارتِ ارضیاتی سائنسز؛ ڈاکٹر کے رمیشا، ڈائریکٹر، سی ایس آئی آر- سی ای ایس آر آئی؛ ڈاکٹر این اننداوالی، ڈائریکٹر، سی ایس آئی آر- ایس ای آر سی؛ اور ڈاکٹر پی تھانیکویلاں، ڈائریکٹر، سی ایس آئی آر- سی ایل آر آئی اس موقع پر موجود تھے۔ اس موقع پرسی ایس آئی آراور تعلیمی اداروں کے انکیوبیٹرز کے درمیان جامع ایم او یوزکا تبادلہ، سی ایس آئی آر لیبارٹریز اور اسٹارٹ اپس/صنعت کے درمیان شراکت داری، اور ایل اینڈٹی کے ساتھ سینٹر آف ایکسلینس کی ورچوئل افتتاحی تقریب بھی منعقد ہوئی۔
ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے چنئی میں اپنے ابتدائی سالوں کو یاد کرتے ہوئے شہر کو سیکھنے اور اختراع کا تاریخی مرکز قرار دیا اور کہا کہ سی ایس آئی آر- سی ایل آر آئی جیسے ادارے آزادی کے بعد سے قومی فخر کی علامت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی ایل آر آئی کی مصنوعات اب مضبوط برآمداتی موجودگی رکھتی ہیں اور سی ایس آئی آرلیبارٹریز نے قومی ترقیاتی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگی میں اپنی خدمات بڑھائی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمل ناڈو کو وزیراعظم اُجوالا یوجنا، پی سواندھی، پی ایم آواس یوجنا، اور وندے بھارت ٹرین خدمات کی توسیع جیسے اہم اسکیموں کے تحت بھرپور تعاون حاصل ہوا ہے، جو ریاست کی شراکت اور صلاحیت کی شناخت کی عکاسی کرتے ہیں۔
اسٹارٹ اپس کے حوالے سے وزیر موصوف نے بتایا کہ 2014 میں بھارت میں صرف 350 رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس تھے، جبکہ اب یہ تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے 21 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ مدرا اسکیم کا تقریباً 69 فیصد فائدہ خواتین کو پہنچا ہے اور لاکھوں اسٹارٹ اپس خواتین کی قیادت میں ہیں۔ بھارت کی گلوبل انوویشن انڈیکس میں درجہ بندی 81 سے 38 تک بڑھ گئی ہے، اور ملک عالمی سطح پر پیٹنٹ فائلنگ میں چھٹے نمبر پر ہے، جن میں زیادہ تر پیٹنٹس مقامی طور پر بھارتی باشندوں نے داخل کیے ہیں۔
وزیر موصوف نے واضح کیا کہ اختراع صرف آئی ٹی یا مصنوعی ذہانت تک محدود نہیں، بلکہ روایتی شعبے جیسے چمڑا، زراعت اور مینوفیکچرنگ بھی اسٹارٹ اپ کے لیے قابل عمل ہیں۔ انہوں نے پی ایم وشوکرما یوجنا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روایتی پیشوں میں کام کرنے والے ہنر مند مالی معاونت، تربیت، وظیفہ اور آلات کی سہولت حاصل کر کے ٹیکنالوجی کے ذریعے قدر میں اضافہ کر سکتے ہیں، جبکہ ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سی ایس آئی آر- سی ایل آر آئی کی تکنیکی مدد سے چمڑے کے ہنر مندوں اور بہتر مارکیٹ لنکس کے حوالے سے مثال بھی پیش کی۔
ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے موجودہ حکومت کے تحت بڑھتے ہوئے ماحولیاتی نظام کا بھی ذکر کیا، جس میں ٹیکنالوجی انوویشن ہبز، نیشنل کوانٹم مشن، ندھی پروگرامز اور ملک بھر میں ٹیکنالوجی بزنس انکیوبیٹرز کا نیٹ ورک شامل ہیں۔ انہوں نے حالیہ سائنسی کامیابیاں جیسے چندر یان، ویکسین کی تیاری، نیا اینٹی بایوٹک اور ویلور کے کرسچن میڈیکل کالج کے ساتھ اشتراکمیں بایو ٹیکنالوجی کے محکمے کے ذریعے ہیمافیلیا کے لیے بھارت کے پہلے کامیاب جین تھراپی ٹرائل کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے تمل ناڈو کی مکمل اسٹارٹ اپ صلاحیت کوبروئے کار لانے کے لیے مرکز اور ریاست کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا، اور کہا کہ اگرچہ ریاست کی علمی وراثت اور چنئی و کوئمبٹور جیسے متحرک شہر موجود ہیں، اس کا قومی اسٹارٹ اپ ڈیٹا میں حصہ مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ وزیر موصوف نے والدین اور سرپرستوں کو بھی اسٹارٹ اپ کی آگاہی میں شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ نوجوان اختراع کاروں کو مسلسل حوصلہ افزائی ملے۔
ایک سو دس(110) سے زائد اسٹالز اور بڑے قومی اختراعی پروگرامز کے مساوی شرکت کے ساتھ، آر آئی ایس ای کانکلیو 2026 نے تحقیق، صنعت اور کاروباری اقدامات کو ہم آہنگ کرنے کی تجدید شدہ کوشش کی نشاندہی کی اور چنئی کو بھارت کے اگلے مرحلے کے اختراع پر مبنی ترقی کے لیے کلیدی مرکز کے طور پر پیش کیا۔




*****
ش ح-ا ع خ ۔ر ا
U-No- 2476
(ریلیز آئی ڈی: 2228174)
وزیٹر کاؤنٹر : 9