جل شکتی وزارت
آئی سی ڈی ایس2026 کے مکمل اجلاس میں ڈیم سیفٹی(ڈیم کی حفاظت) اور آبی حکمرانی (واٹر گورننس) سے متعلق عالمی تناظر کو اجاگر کیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 FEB 2026 10:29AM by PIB Delhi
ڈیم سیفٹی پر بین الاقوامی کانفرنس (آئی سی ڈی ایس) 2026 کا آغاز ایک کامیاب اور بلند سطحی افتتاح کے ساتھ ہوا، جس کا افتتاح وزیرِ اعلیٰ کرناٹک جناب سدارامیا نے کیا۔ افتتاحی تقریب کی صدارت نائب وزیرِ اعلیٰ کرناٹک، جناب ڈی کے شیوکمار نے کی۔ مرکزی وزیرِ جل شکتی جناب سی آر پاٹل نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اجتماع سے خطاب کیا۔افتتاحی اجلاس میں مہمانانِ خصوصی میں جناب راج بھوشن چودھری، مرکزی وزیرِ مملکت، وزارت جل شکتی؛ جناب ٹی بی جے چندر، ایم ایل اے، کرناٹک اور حکومتِ کرناٹک کے خصوصی نمائندہ برائے نئی دہلی؛ جناب جوہانس زٹ، علاقائی نائب صدر (جنوبی ایشیا)، عالمی بینک؛ جناب ڈی کے شرما، صدر، انٹرنیشنل کمیشن آن لارج ڈیمز (آئی سی او ایل ڈی)؛ پروفیسر توشیو کوئیکے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، آئی سی ایچ آر اے ایم، جاپان؛ جناب انوپم پرساد، چیئرمین، مرکزی آبی کمیشن؛ پروفیسر ستیم سواس، ڈین، مکینیکل سائنسز، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلورو؛ اور جناب سبودھ یادو، آئی اے ایس، ایڈیشنل سیکریٹری، محکمہ آبی وسائل، وزارت جل شکتی، حکومتِ ہند شامل تھے۔

اجلاس میں سینئر پالیسی سازوں، تکنیکی ماہرین اور بین الاقوامی نمائندوں کو یکجا کیا گیا، جس کے ذریعے ڈیم سیفٹی فریم ورک کو مضبوط بنانے، ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے، اور آب و ہوا کی تغیر پذیری و بنیادی ڈھانچے کی لچک جیسے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی عزم کی واضح عکاسی ہوئی۔
افتتاحی اجلاس کے بعد ایک مکمل اجلاس منعقد ہوا، جس میں سینئر پالیسی سازوں، ریگولیٹرز اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے ابھرتے ہوئے چیلنجوں، ترجیحات اور ملک میں ڈیم سیفٹی کے طریقۂ کار کو مزید مستحکم بنانے کے لیے آئندہ کی حکمتِ عملی پر غور و فکر کیا۔ اس اجلاس کی صدارت انٹرنیشنل کمیشن آن لارج ڈیمز (آئی سی او ایل ڈی) کے صدر جناب ڈی کے شرما نے کی، جبکہ شریک صدارت ڈاکٹر دینا عمالی ، علاقائی پریکٹس ڈائریکٹر (پلانیٹ)، جنوبی ایشیا، عالمی بینک نے انجام دی۔
اجلاس میں پیش کنندگان میں جناب ایڈ جیجر ، وزیر (کمرشل)، ہائی کمیشن آف کینیڈا؛ جناب انوپم پرساد، چیئرمین، مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی)؛ پروفیسر توشیو کوئیکے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، انٹرنیشنل سینٹر فار واٹر ہیزرڈ اینڈ رسک مینجمنٹ (آئی سی ایچ آر ایم)، جاپان؛ محترمہ ایلن برک، عالمی سربراہ آبی وسائل، عالمی بینک؛ جناب دیپک کپور، آئی اے ایس، ایڈیشنل چیف سیکریٹری، محکمہ آبی وسائل، حکومتِ مہاراشٹر؛ اور ڈاکٹر پی سوما شیکھر راؤ، ڈائریکٹر (ٹیکنیکل)، ایڈوانسڈ سینٹر فار انٹیگریٹڈ واٹر ریسورسز مینجمنٹ (اے سی آئی ڈبلیو آر ایم)، حکومتِ کرناٹک شامل تھے۔
اجلاس کے دوران ایک جامع، بامعنی اور فکر انگیز بحث ہوئی، جس میں ڈیم سیفٹی سے متعلق قومی اور بین الاقوامی نقطۂ نظر کو یکجا کیا گیا۔ گفتگو میں ڈیم ری ہیبلیٹیشن اینڈ امپروومنٹ پروجیکٹ (ڈی آر آئی پی) کے تجربات پر بھی روشنی ڈالی گئی، جسے ملک بھر میں ڈیم سیفٹی کو مضبوط بنانے کے لیے حکومتِ ہند کی ایک کلیدی پہل قرار دیا گیا۔ مقررین نے نشاندہی کی کہ ڈی آر آئی پی نے ڈیموں کی ساختی اور عملیاتی حفاظت بہتر بنانے، ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے، اور خطرے سے باخبر فیصلہ سازی—بشمول آب و ہوا کی لچک—کو مرکزی دھارے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پروجیکٹ کے نتائج اور اسباق کو نہ صرف ہندوستانی ریاستوں بلکہ اُن دیگر ممالک کے لیے بھی قیمتی قرار دیا گیا جو منظم بحالی اور صلاحیت سازی کے ذریعے اپنے ڈیم سیفٹی طریقوں کو جدید بنانا چاہتے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر دینا عمالی نے اہم نکات کے ساتھ بحث کا جامع خلاصہ پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی ریاستوں میں ڈی آر آئی پی کے تحت حاصل ہونے والے تجربات نے عالمی ڈیم سیفٹی برادری کے لیے قیمتی اسباق فراہم کیے ہیں۔ ڈیم بحالی میں اختراعات، ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کے ذریعے ریگولیٹری فریم ورک کی مضبوطی، اور مستقل بین الاقوامی تعاون اس پیش رفت کے مرکزی ستون رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیم سیفٹی میں ادارہ جاتی صلاحیت سازی پر حکومتِ ہند کی توجہ نہ صرف ہندوستانی ریاستوں بلکہ شراکت دار ممالک کے لیے بھی سودمند ثابت ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں بھارت ڈیم سیفٹی کے طریقۂ کار میں ایک عالمی لائٹ ہاؤس کے طور پر ابھر رہا ہے۔
بڑھتی ہوئی آب و ہوا کی تغیر پذیری اور شدید ہائیڈرولوجیکل واقعات نے ڈیم سیفٹی کی ناگزیر اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم آبی ذخائر کا مربوط آپریشن مؤثر سیلابی انتظام اور بدلتی ہوئی آب و ہوا میں خطرات کو کم کرنے کے لیے ایک بنیادی ضرورت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
بحث کا حتمی نتیجہ یہ اخذ کیا گیا کہ پائیداری کے ساتھ ساتھ ڈیموں کے منظم آپریشن اور دیکھ بھال پر زیادہ توجہ دینا ناگزیر ہے۔ ناقص دیکھ بھال والے ڈیم بڑھتے ہوئے خطرات اور ناکامی کے امکانات کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ تاخیر سے کی گئی دیکھ بھال لائف سائیکل لاگت اور حفاظتی خدشات میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ آمدنی کے اضافی ذرائع—جیسے فلوٹنگ سولر انرجی، سیاحت اور ماہی پروری—ڈیموں کی پائیدار دیکھ بھال اور طویل مدتی مالی استحکام میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
مکمل اجلاس میں محفوظ، لچکدار اور مستقبل کے لیے تیار آبی بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے لیے اجتماعی سوچ اور بین ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر خصوصی زور دیا گیا۔
مکمل اجلاس کے بعد ڈیم سیفٹی کے لیے قومی و بین الاقوامی ریگولیٹری فریم ورک اور ڈیموں و بحالی کے مواد کی ساختی صحت کی تشخیص میں اختراعات کے موضوعات پر تکنیکی اور صنعتی اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں ممتاز قومی و بین الاقوامی ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرنس کے پہلے دن کا اختتام ودھان سودھا، بنگلورو میں منعقدہ ایک شاندار ثقافتی شام کے ساتھ ہوا، جس نے مندوبین کو کرناٹک کے بھرپور فنکارانہ ورثے کا ایک بھرپور اور دل کش تجربہ فراہم کیا۔ دلکش موسیقی، خوبصورت رقص کی پیشکشوں اور روایتی اظہار کے ذریعے اس شام نے نہ صرف بھارت کے ثقافتی تنوع کا جشن منایا بلکہ شرکاء کے درمیان غیر رسمی بات چیت کے لیے ایک خوشگوار اور دلکش ماحول بھی فراہم کیا۔
***
UR-2448
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2228011)
وزیٹر کاؤنٹر : 49