الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت-ای یو ایف ٹی اے سرحد پار تجارت کو آسان بنانے کے لیے پیپر لیس ٹریڈ، ای-انوائسنگ، ای-معاہدے، ای تصدیق کو فروغ دیتا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 FEB 2026 5:11PM by PIB Delhi

بھارت-یورپی یونین فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے ڈیجیٹل تجارت سے متعلق باب میں ایک سہولت کار فریم ورک قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد الیکٹرانک لین دین کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل ماحول کو یقینی بنانا ہے، تاکہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان اشیا اور خدمات کی تجارت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ اس کے تحت پیپر لیس ٹریڈ، ای اِن وائسنگ، ای کنٹریکٹس، ای آتھنٹیکیشن وغیرہ کو فروغ دیا گیا ہے تاکہ سرحد پار تجارت میں آسانی پیدا ہو۔ اس باب میں صارفین کے اعتماد اور کاروباری بھروسا مندی کو بڑھانے سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں۔

یہ باب ضابطہ جاتی اور تکنیکی تعاون کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتا ہے، تاکہ بھارتی اسٹارٹ اپس، بالخصوص ایم ایس ایم ایز، کو ڈیجیٹل تجارت کی ترقی میں مؤثر طور پر شامل کیا جا سکے۔ آن لائن صارف تحفظ، سائبر سکیورٹی، غیر مطلوبہ الیکٹرانک پیغامات، اور سورس کوڈ سے متعلق دفعات الیکٹرانک لین دین میں صارفین اور کاروباروں کے درمیان اعتماد کو مضبوط بناتی ہیں۔

اس کے علاوہ، 27 جنوری 2026 کو منعقدہ 16ویں انڈیا-ای یو سمٹ کے دوران بھارت اور یورپی کمیشن کے درمیان ایڈوانسڈ الیکٹرانک دستخطوں اور مہروں سے متعلق ایک انتظامی معاہدے پر دستخط اور تبادلہ کیا گیا۔ یہ معاہدہ الیکٹرانک دستخطوں، الیکٹرانک مہروں اور پبلک کی انفراسٹرکچر (پی کے آئی) نظاموں کی باہمی مطابقت کے حوالے سے تعاون کا ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو بھارت اور یورپی یونین کے قوانین سے ہم آہنگ ہے۔ اس کا مقصد سرحد پار ڈیجیٹل لین دین اور تجارت میں محفوظ اور قابلِ اعتماد الیکٹرانک دستخطوں اور مہروں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ذریعے سروس فراہم کنندگان کو بھارت-یورپی یونین فری ٹریڈ ایگرمنٹ کے تحت پیدا ہونے والے مارکیٹ رسائی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں بھی مدد ملے گی۔

حکومت نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، تعمیلی پلیٹ فارم اور سائبر سکیورٹی معیارات کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  • منفرد شناخت اتھارٹی آف انڈیا کے تحت آدھار دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل شناختی پروگرام ہے، جو بایومیٹرک اور ڈیموگرافک بنیادوں پر منفرد ڈیجیٹل شناخت فراہم کرتا ہے۔ اب تک 143 کروڑ سے زائد آدھار آئی ڈیز جاری کی جا چکی ہیں۔
  • یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی): یو پی آئی 6.5 کروڑ تاجروں کو خدمات فراہم کرتا ہے اور 685 بینکوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جوڑتا ہے، جس کے باعث یہ دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ادائیگی نظام بن چکا ہے۔ یو پی آئی بھارت کی 81 فیصد ڈیجیٹل ادائیگیوں اور عالمی سطح پر تقریباً 49 فیصد ریئل ٹائم ڈیجیٹل ادائیگیوں کو تقویت دیتا ہے۔ اس طرح یو پی آئی دنیا کا سب سے بڑا ادائیگی پلیٹ فارم ہے۔
  • ڈیجی لاکر عام شہریوں کو اصل اجرا کنندگان کی جانب سے جاری کردہ مستند ڈیجیٹل دستاویزات تک کسی بھی وقت رسائی فراہم کرتا ہے۔ 65.01 کروڑ سے زائد صارفین ڈیجی لاکر پر رجسٹرڈ ہیں، جبکہ اس پلیٹ فارم پر شامل 2,412 اجرا کنندگان کی جانب سے 950 کروڑ سے زیادہ دستاویزات جاری کی جا چکی ہیں۔
  • امنگ (یونائیفائیڈ موبائل ایپلیکیشن فار نیو ایج گورننس) ایک واحد موبائل ایپ ہے جو سرکاری خدمات فراہم کرتی ہے اور افراد کے لیے 2,390 سے زائد خدمات پیش کرتی ہے۔
  • سی ی آر ٹی-اِن قومی نوڈل ایجنسی کے طور پر سائبر واقعات کے ردِعمل اور ہم آہنگی کی قیادت کرتی ہے۔
  • این سی سی سی سائبر اسپیس میں خطرات کی نگرانی کرتا ہے اور شراکت داروں کے ساتھ ریئل ٹائم انٹیلی جنس شیئر کرتا ہے، جبکہ سائبر سوچھتا کیندر شہریوں کے لیے بوٹ نیٹ صفائی، میلویئر کے خاتمے اور سائبر حفظانِ صحت سے متعلق آگاہی کی خدمات فراہم کرتا ہے۔
  • وزارت داخلہ نے سائبر جرائم کے خلاف مربوط کارروائی کے لیے انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سنٹر قائم کیا ہے، جبکہ این سی آئی آئی پی سی اہم معلوماتی انفراسٹرکچر کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے اور خطرات سے متعلق انٹیلی جنس و ہدایات فراہم کرتا ہے۔
  • تیاری اور لچک (ریزیلینس) کو مضبوط بنانے کے لیے سی ی آر ٹی-اِن ایک خودکار سائبر خطرہ انٹیلی جنس تبادلہ پلیٹ فارم چلاتا ہے، باقاعدہ سائبر سکیورٹی موک ڈرلز منعقد کرتا ہے، اور تمام وزارتوں، ریاستی حکومتوں اور اہم شعبوں کے لیے سائبر کرائسس مینجمنٹ پلان مرتب کر چکا ہے۔

 

نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کرنے اور جدید ترین ٹیکنالوجیز میں اسکلنگ/اپ اسکلنگ کے لیے حکومت متعدد پروگرام چلا رہی ہے۔ اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  • انڈیا اے آئی مستقبل کی مہارتیں: یہ ستون انڈیا اے آئی مشن کے تحت بھارت میں اے آئی مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد تیار کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد اے آئی شعبے میں گریجویٹس، پوسٹ گریجویٹس اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ حکومت کی جانب سے درج ذیل معاونت فراہم کی جا رہی ہے:
  • 500 پی ایچ ڈی فیلو
  • 5,000 پوسٹ گریجویٹ
  • 8,000 انڈرگریجویٹ
  • اب تک 290 فیلوشپس تفویض کی جا چکی ہیں۔

 

یہ معلومات الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت جناب جتن پرساد نے 13.02.2026 کو راجیہ سبھا میں پیش کی۔

********

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 2415


(ریلیز آئی ڈی: 2227878) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी