بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بندرگاہوں میں نجی شعبے کے عملی کردار میں اضافہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 FEB 2026 5:53PM by PIB Delhi

اہم بندرگاہوں (میجر پورٹس) کے ذریعے ہینڈل کیا جانے والا مال مالی سال 15-2014 میں 581.34 ملین میٹرک ٹن( ایم ایم ٹی ) سے بڑھ کر مالی سال 2024-25 میں 854.86  ایم ایم ٹی ہو گیا ہے۔ اسی عرصے کے دوران، دیگر غیر اہم بندرگاہوں(او ٹی ایم پی) کے ذریعے ہینڈل کیا جانے والا مال 470.89 ایم ایم ٹی سے بڑھ کر 742.41 ایم ایم ٹی ہو گیا ہے۔ لہٰذا، مالی سال 25-2024 میں اہم بندرگاہیں ملک میں ہینڈل کیے جانے والے کل مال کا 53.52فیصد حصہ رکھتی ہیں اور اس طرح یہ شعبے میں ایک غالب کھلاڑی کے طور پر برقرار ہیں۔

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے شعبے میں پالیسی اصلاحات کا مقصد کھلی مسابقت اور شفاف نیلامی کے طریقہ کار کے ذریعے ایک مساوی مواقع کا ماحول پیدا کرنا رہا ہے، جو تمام مارکیٹ کے کھلاڑیوں کو مرکزی حکومت اور میجر پورٹ اتھارٹیز ایکٹ، 2021 کے تحت ٹرمینلز، برتھ، سہولیات وغیرہ کے لیے آزادانہ طور پر مقابلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ خاص طور پر، ماڈل کنسیشن ایریمنٹ، 2021، شفاف بولی کے عمل کے ذریعے تمام فریقین  کو مساوی مواقع فراہم کرتا ہے۔ اسکے علاوہ، اس شعبے میں 100فیصد غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی) نے قومی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے کھلاڑیوں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع کھول دیے ہیں۔ حکومت سمندری شعبے میں کارکردگی اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ(پی پی پی) ماڈل کو فروغ دینے کے لیے باہمی اشتراک کا نقطہ نظر اپنا رہی ہے۔

یہ معلومات  بندرگاہوں، جہا ز رانی  اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربنند سونووال نے لوک سبھا میں تحریری جواب میں فراہم کیں۔

*******

(ش ح۔ع و ۔ ن ع)

U- 2384


(ریلیز آئی ڈی: 2227748) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी