دیہی ترقیات کی وزارت
وی بی-جی رام-جی کا پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان کے ساتھ انضمام
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 FEB 2026 4:15PM by PIB Delhi
وی وی-جی رام جی ایکٹ 2025 کا مقصد دیہی ترقی کے فریم ورک کو وکست بھارت @2047 کے قومی وژن کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔ اس کے تحت ہر مالی سال میں ایسے دیہی خاندانوں کو 125؍دن کی بڑھائی گئی قانونی اجرت والی روزگار کی ضمانت فراہم کرنا ہے ،جن کے بالغ افراد رضا کارانہ طو رپر غیر ہنر مندی کے کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس سے وہ بڑھتے ہوئے روزگار کے تحفظ کے فریم ورک میں مؤثر طریقے سے حصہ لے سکیں گے۔
ایکٹ کے شیڈول I کے مطابق، وکست گرام پنچایت منصوبوں کے ذریعے مختلف پروگراموں اور اسکیموں کی ہم آہنگی کو ادارہ جاتی شکل دینا، مکمل احاطے پر مبنی منصوبہ بندی کو فروغ دینا اور تمام حکومتی خدمات کو مربوط کرنا مقصود ہے۔ ان منصوبوں کو پی ایم گتی شکتی اسکیم کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے تاکہ گرام پنچایتوں کی متنوع ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔ یہ منصوبے جیو مقامی نظام، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ، ضلع اور ریاستی منصوبہ بندی کے نظام کے ذریعے تقویت پاتے ہیں اور بلاک، ضلع، ریاست اور قومی سطح پر یکجا کیے جاتے ہیں۔
وی بی-جی رام- جی کے نفاذ میں پنچایت کے کردار کے حوالے سے ایکٹ کے سیکشن 16 میں پنچایت راج اداروں کے وی بی-جی رام -جی اسکیموں کی منصوبہ بندی اور نفاذ میں کردار کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، جو درج ذیل ہیں:
- ضلع، درمیانی اور گاؤں کی سطح پر پنچایتیں اس ایکٹ کے تحت بنائی گئی اسکیم کی منصوبہ بندی، نفاذ اور نگرانی کے لیے بنیادی اختیار رکھیں گی۔
- ضلع سطح کی پنچایت ضلع میں اسکیم کے نفاذ کی نگرانی اور ہم آہنگی کو یقینی بنائیں گی، جس میں مجموعی ضلع سطح کے منصوبے کی منظوری اور حتمی شکل دینا، کاموں کی نگرانی اور مانیٹرنگ، ادارہ جاتی کو یقینی بنانا اور ریاستی حکومت کی طرف سے سونپی گئی دیگر ذمہ داریاں شامل ہوں گی۔
- درمیانی سطح کی پنچایت مجموعی بلاک سطح کے منصوبے کی تیاری اور منظوری فراہم کرے گی، گاؤں کی پنچایتوں کی منصوبہ بندی اور نفاذ میں معاونت فراہم کرے گی، گاؤں کی پنچایت اور بلاک سطح پر کاموں کی نگرانی کرے گی اور متعلقہ محکموں کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دے گی۔
- گاؤں کی پنچایت خاندانوں کو رجسٹر کرے گی، کام کے لیے درخواستیں وصول اور پراسیس کرے گی، وکست گرام پنچایت منصوبے تیار کرے گی، اسے سونپے گئے کام کوانجام دے گی، ریاستی حکومت کی طرف سے متعین ریکارڈ رکھے گی اور اسکیم کے تحت سونپی گئی دیگر ذمہ داریاں ادا کرے گی۔
اس کے علاوہ اسکیم کے تحت منصوبہ بندی، نفاذ اور کاموں کو شروع کرنے کے لیے گرام پنچایت بنیادی اتھارٹی ہے۔ یہ دیہی گھروں کو رجسٹر کرنے اور گرامین روزگار گارنٹی کارڈ جاری کرنے، کام کے لیے درخواستیں وصول اور پراسیس کرنے اور تمام متعلقہ ریکارڈ برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہے۔
یہ پروگرام آفیسر کی طرف سے الاٹ کیے گئے کام انجام دیتی ہے اور اپنی حدود میں منظور شدہ وکست گرام پنچایت منصوبے سے کوئی بھی منظور شدہ کام منتخب کرسکتی ہے، جس میں کم از کم پچاس فیصد کل کام (مالیاتی لحاظ سے) گاؤں کی پنچایتوں کے ذریعے نافذ کیے جائیں گے۔
گاؤں کی پنچایت کےلیے ضروری ہے کہ وہ عملے کا ریکارڈ اور دیگر مقررہ ریکارڈز کو برقرار رکھے، کاموں کے ضروری تکنیکی معیار اور پیمائش کو یقینی بنائے اور ڈیجیٹل اور شفافیت کے تقاضوں پر عمل کرے۔ اسے عملے کے ریکارڈ(حاضری)، بلز، واؤچرز، پیمائش کی کتابیں، منظوری کے احکامات اور جیو ٹیگ شدہ اور ڈیجیٹل ریکارڈز سمیت تمام متعلقہ دستاویزات گرام سبھا کے سامنے پیش کرنے ہوں گے تاکہ باقاعدہ سماجی آڈٹ اور عوامی نگرانی ممکن ہو سکے اور اس طرح نفاذ میں شفافیت، جوابدہی اور شکایات کے ازالے کو فروغ ملے۔
اس کے علاوہ شیڈول I کے پیرا 5 کے سب پیرا 2 میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ وکست گرام پنچایت منصوبہ گاؤں کی پنچایت تیار کرے گی اور منظوری کے لیے گرام سبھا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
مجموعی طور پر یہ ایکٹ گاؤں کی پنچایت کو بنیادی سطح کا ادارہ قرار دیتا ہے ،جو اسکیم کے فریم ورک کے تحت طلب کی رجسٹریشن، سبھی کی شمولیت والی منصوبہ بندی، غیر مرکزیت یافتہ نفاذ، کارکنوں کی شمولیت اور عوامی جوابدہی کی ذمہ دار ہوگی۔ نئے ایکٹ کی تشکیل کے دوران مہاتما گاندھی این آر ای جی ایس کے نفاذ سے حاصل شدہ تجربات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
دیہی ترقی کے وزیر مملکت جناب کملیش پاسوان نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریرجواب میں یہ معلومات فراہم کیں۔
****
(ش ح۔م ع ن ۔)
U- 2368
(ریلیز آئی ڈی: 2227648)
وزیٹر کاؤنٹر : 17