صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ملاوٹ کے خلاف کئے گئے اقدامات


مالی سال 25-2024 ء  کے دوران دودھ اور دودھ سے تیار کردہ مصنوعات کے 33,405 نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، جن میں سے 12,780 نمونے معیار کے مطابق نہیں پائے گئے

اسی مدت میں  ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے غذائی  مصنوعات سے متعلق کاروبار کے 12,057 آپریٹرز کے خلاف مقدمات درج کیے گئے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 FEB 2026 1:34PM by PIB Delhi

صحت و خاندانی بہبود  کے   وزیرِ مملکت  جناب  پرتاپ راؤ جادھو  نے آج  لوک سبھا میں ایک تحریری جواب  میں بتایا کہ   بھارت کی خوراک کے تحفظ اور  معیارات سے متعلق اتھارٹی   (ایف ایس ایس اے آئی) کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ غذائی اشیاء کے لیے سائنسی بنیادوں پر معیارات طے کرے اور ان کی تیاری، ذخیرہ ، تقسیم، فروخت اور درآمد کو منظم کرے تاکہ انسانی استعمال کے لیے محفوظ اور صحت بخش غذا کی دستیابی  کو یقینی بنایا جا سکے۔

خوراک کے تحفظ اور  معیارات   کے ایکٹ ، 2006  کے نفاذ اور عمل درآمد کی ذمہ داری  ، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے مابین مشترکہ ہے۔ جہاں  ایک طرف ایف ایس ایس اے آئی سائنسی بنیادوں پر معیارات مقرر کرنے اور مجموعی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہے، وہیں  دوسری طرف خوراک کے تحفظ کی ریاستی اتھارٹی  فیلڈ  کی سطح پر نفاذ کی بنیادی ذمہ داری ادا کرتی ہیں۔

قانون اور اس کے تحت بنائے گئے ضوابط کے مطابق طے شدہ معیارات، حدود اور دیگر قانونی تقاضوں پر عمل در آمد کو یقینی بنانے کے لیے، ایف ایس ایس اے آئی اپنے چار علاقائی دفاتر اور ریاست/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی  خوراک کے تحفظ  کی اتھارٹیوں کے ذریعے سال بھر مختلف غذائی مصنوعات—بشمول دودھ اور دودھ سے تیار کردہ مصنوعات کے لیے  مقامی طور پر باقاعدہ / ہدف پر مبنی   نفاذ  اور نگرانی کی خصوصی مہمات، معائنے  اور نمونے حاصل کرنے کی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں ۔ اگر معیارات  کی خلاف ورزی یا  خوراک کے تحفظ  اور معیارات کے ضابطوں  ( ایف ایس ایس آر)   کی خلاف ورزیاں پائی جاتی ہیں  تو متعلقہ خلاف ورزی کرنے والے  خوراک سے متعلق کاروباری  ( ایف بی اوز )   کے خلاف قانون کے مطابق ضابطہ جاتی کارروائیاں   کی جاتی ہیں ،  جس میں تعزیری  کارروائیاں بھی شامل ہیں۔

ایف ایس ایس اے آئی ابھرتے ہوئے مسائل، پالیسی اصلاحات اور  خوراک کے تحفظ کے نفاذ کے  نظام کو مضبوط  کرنے پر مرکوز غور و فکر کے لیے باقاعدگی سے  مرکزی مشاورتی کمیٹی  (سی اے سی) کے اجلاس منعقد کرتا ہے۔ ان اجلاسوں کے ذریعے خوراک کے تحفظ  کے  ریاستی  کمشنرز کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جاتا ہے تاکہ نفاذ سے متعلق   مشینری کی صورت ِ حال کا جائزہ لیا جا سکے اور  خوراک کے تحفظ  کے اقدامات کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

مالی سال 25-2024 ء   کے دوران دودھ اور دودھ سے تیار کردہ مصنوعات  سے متعلق ضابطوں  کی خلاف ورزی کرنے پر   خوراک سے متعلق کاروباریوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:-

مالی سال

تجزیہ کئے گئے نمونوں کی تعداد

غیر تصدیق شدہ نمونوں کی تعداد

تصدیق کے لیے حاصل معاملات کی تعداد

2024-25 ء

33405

12780

12,057

 

***

) ش ح –   ش ب  -  ع ا )

U.No. 2347


(ریلیز آئی ڈی: 2227498) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali