ایٹمی توانائی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمنٹ کا سوال: دیسی پی ایچ ڈبلیو آر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 FEB 2026 5:16PM by PIB Delhi

 فلیٹ موڈ کے تحت منظور شدہ دس مقامی 700 میگاواٹ پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹرز (پی ایچ ڈبلیو آرز) مختلف پری پروجیکٹ سرگرمیوں کے مراحل میں ہیں۔ اس کے علاوہ، تین مقامی 700 میگاواٹ پی ایچ ڈبلیو آر کام کر رہے ہیں، ایک کمیشننگ کے مراحل میں اور دو زیر تعمیر ہیں۔

مقامی 700 میگاواٹ پی ایچ ڈبلیو آر کے ری ایکٹر کے بڑے اجزا اور فیول اسمبلیز کی تیاری میں مکمل مقامی کاری حاصل کی گئی ہے۔

معیاری کاری نے طویل مینوفیکچرنگ سائیکل آلات اور اجزا کی بڑی مقدار میں خریداری کو ممکن بنایا ہے، جس میں مرحلہ وار ترسیل کا شیڈول شامل ہے، جس سے وقت اور لاگت میں کمی آئی ہے۔

دسمبر 2022 سے این پی سی آئی ایل کی اہم کام یابیاں درج ذیل ہیں:

    1. کے اے پی ایس 3اور 4 (2 ایکس 700 میگاواٹ) اور آر اے پی ایس 7 (700 میگاواٹ) کی تکمیل سے 2100 میگاواٹ جوہری پاور کی صلاحیت کا اضافہ کیا گیا۔
    2. این پی سی آئی ایل نے مالی سال 2024-25 کے دوران اب تک کی سب سے زیادہ پیداوار 56,681 ملین یونٹس (ایم یو) حاصل کی ہے۔ اس نے ماحول میں تقریباً 49 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اخراج سے بچایا۔
    3. آر اے پی ایس-3 نے 24 جولائی 2024 کو تجدید اور جدید کاری (R&M) کی سرگرمیوں (انماس کولنٹ چینل ریپلیسمنٹ، اینماس فیڈر ریپلیسمنٹ اور دیگر حفاظتی اپ گریڈز) کی کام یاب تکمیل کے بعد دوبارہ کام شروع کیا۔ یہ R&M سرگرمیاں بھارتی ری ایکٹرز میں سب سے کم وقت میں مکمل ہوئیں۔
    4. ٹی اے پی ایس -1، دنیا کا سب سے پرانا فعال جوہری ری ایکٹر، 30 دسمبر 2025 کو اہم تزئین و آرائش کی کام یاب تکمیل کے بعد کریٹیکل حالت میں پہنچ گیا۔
    5. این پی سی آئی ایل کے زیر انتظام مختلف ری ایکٹرز کے ذریعے ایک سال سے زیادہ عرصے تک مسلسل، محفوظ اور قابل اعتماد آپریشن 54 بار حاصل کیا جا چکا ہے، جن میں دسمبر 2022 سے 12 بار شامل ہے۔

یہ معلومات عملہ، عوامی شکایات و پنشنز اور وزیر اعظم کے دفتر کے وزیر مملکت ، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں تحریری جواب میں دی۔

***

(ش ح – ع ا)

U. No. 2297


(ریلیز آئی ڈی: 2227256) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी