ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: موسمی پیشن گوئی کی صلاحیتوں میں بہتری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 FEB 2026 12:52PM by PIB Delhi
بھارت میں موسمی پیشن گوئی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے ایک مکمل ادارہ جاتی نظام قائم کیا ہے تاکہ مشاہداتی نیٹ ورک کو مضبوط بنایا جا سکے اور نئی تکنیکوں اور ٹیکنالوجی کو اپنانے کے ذریعے تمام قسم کے ڈیٹا کو مربوط اور تحلیل کیا جا سکے، تاکہ مختلف شدید موسمی حالات کے لیے زیادہ تفصیلی سطح پر پیش گوئیاں اور ہدایات تیار کی جا سکیں۔ موسمیاتی شعبے کی اس کوشش میں ہندوستان کا محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی)، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت دیگر مراکز کے ساتھ تعاون کر رہا ہے، جن میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹیرولوجی (آئی آئی ٹی ایم)، پونے اور نیشنل سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ ( این سی ایم آر ڈبلیو ایف)، نوئیڈا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے ’مشن موسم‘ شروع کیا ہے جس کا مقصد بھارت کو ایک ’’ویذر-ریڈی اور کلائمیٹ اسمارٹ” ملک بنانا اور موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید موسمی حالات کے اثرات کو کم کرنا ہے۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد بھارت کی موسمیاتی اور ماحولیاتی مشاہداتی و نگرانی کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے، جس کے تحت مزید ریڈارز اور جدید نگرانی کے نظام وقت کے پابند طریقے سے تعینات کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت بھارت فورکاسٹنگ سسٹم ( بھارت ایف ایس) شروع کیا گیا، ساتھ ہی اینسمبل فورکاسٹنگ سسٹمز اور اثرات پر مبنی پیشن گوئی ( آئی بی ایف) کے طریقے اپنائے گئے تاکہ بھاری بارش، ہیٹ ویوز وغیرہ جیسے واقعات کے لیے پیش گوئی کی درستگی اور اطلاع کا وقت بہتر بنایا جا سکے۔
این سی ایم آر ڈبلیو ایف متھنا – ایف ایس، کا نیا عالمی سطح کا مربوط فورکاسٹنگ سسٹم ہے جو بھارت میں درمیانے دورانیے کی موسمی پیش گوئی کو زیادہ دقیق بناتا ہے۔ یہ نظام فضا، سمندر، زمینی سطح اور سمندری برف کو جدید فزکس اور اپگریڈ شدہ ڈیٹا اسمِلیشن کے ساتھ یکجا کرتا ہے اور 12 کلومیٹر کی عالمی ریزولوشن پر چلتا ہے۔ اس نظام میں 4 کلومیٹر کا علاقائی ماڈل شامل ہے جو مانسون اور طوفان کے لیے ہے اور 330 میٹر کا ہائپر-لوکل شہری ماڈل ہے جو دہلی میں دھند اور ہوا کے معیار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ متھنا – ایف ایس بارش، درجہ حرارت، دھند کی نظر آنے کی حد میں کمی کو بتاتا ہے اور ایم ایل / آئی پوسٹ پروسیسنگ کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تاکہ ضلع سطح پر شدید واقعات (ہیٹ ویوز، آندھی/گرج چمک) کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ مشن موسم کے تحت تیار یہ نظام گزشتہ دہائی میں شدید موسمی پیش گوئی کی درستگی کو 30-40 فیصد تک بہتر بنا چکا ہے۔
ہندوستان کے محکمہ موسیمات نے ملکی، ٹیکنالوجی پر مبنی اور شہری مرکوز موسمی پیشن گوئی کے نظام تیار کیے ہیں جو بھارت بھر میں آفات سے متعلق تیاری کو مضبوط کرتے ہیں اور عوامی تحفظ کو بہتر بناتے ہیں۔ بھارت کا محکمہ موسیمات کا ملک میں ہی تیار کردہ فیصلہ سازی معاون نظام(ڈی ایس ایس ) ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کے تحت خود انحصاری کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ ہندوستان کے محکمہ موسیمات نے ’’موسم گرام‘‘ (ہر ہر موسم، ہر گھر موسم) بھی تیار کیا، جو ایک منفرد شہری مرکوز پلیٹ فارم ہے اور گاؤں کی سطح تک مخصوص مقامی موسمی پیش گوئیاں فراہم کرتا ہے۔ ’’موسم گرام‘‘اگلے 36 گھنٹوں کے لیے گھنٹہ وار، اگلے پانچ دن کے لیے تین گھنٹے وار، اور اگلے دس دن کے لیے چھ گھنٹے وار پیش گوئیاں فراہم کرتا ہے۔ صارفین آسانی سے پن کوڈ یا مقام کے نام سے، یا ریاست، ضلع، بلاک اور گاؤں کے انتخاب کے ذریعے موسمی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ صارف دوست نظام شہریوں کو اپنے مخصوص مقام کے لیے درست اور بروقت موسمی معلومات حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
ہندوستان کے محکمہ موسیمات نے، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی(ایم او ایس ایس) کے مختلف اداروں کے مراکز کے تعاون سے، درج ذیل ترقیات کی ہیں:
- ایم / ایل اے آئی پر مبنی ایڈوانسڈ ڈووراک تکنیک(آئی آئی ڈی ٹی ) کا استعمال کر کے سائیکلون کی شدت کا اندازہ لگانا۔
- ایک جدید ڈیپ لرننگ ماڈل (میٹو جی اے این )تیار کیا گیا ہے جو دہلی-این سی آر کے علاقے کے لیے ہے اور اسے بارش کے اسکیل ڈاؤن کے لیے کامیابی سے جانچا گیا، جس میں گراؤنڈ بیسڈ ڈیٹا اور کلائمٹ ہیذرز گروپ انفرا ریڈ پریسیپیٹیشن اسٹیشن ڈیٹا (سی ایچ آئی آر پی ایس ) کا استعمال کرتے ہوئے 300 میٹر کی اسپیشل ریزولوشن پر بارش کا تجزیہ کیا گیا۔
- مشین لرننگ ماڈل، جو فیصلہ ساز درخت پر مبنی ہے، تیار کیا گیا تاکہ مانسون کے موسم میں دہلی میں روزانہ کی بارش کی پیشن گوئی کی جا سکے۔
این سی ایم آر ڈبلیو ایف نے درمیانے دورانیے کی زیادہ بہتر پیش گوئی، فوری موسمی جائزہ ، اور ضلع سطح پر شدید موسمی واقعات (بارش، ہیٹ ویوز، دھند وغیرہ) کے امکانات کے لیے کثیر اسکیل متھنا – ایف ایس ماڈل سوئٹ تیار کیا ہے۔ یہ نظام گلوبل ایم ایل/ اے آئی ماڈلز جیس پنگو ویدر ،گراف کاسٹ اور فار کاسٹ نیٹ کوارونیکا سپر کمپیوٹر پر مربوط کرتا ہے تاکہ جی اے این اور سی این این کے ذریعے شہری سطح پر تیز رفتار ڈاؤن اسکیلنگ کی جا سکے۔
حکومت نے دیہی کسانوں تک بر وقت موسمیاتی معلومات پہنچانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں تاکہ فصلوں کے انتظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ موسم کی بنیاد پر فصلوں کی مشاورتی سروس ایک قدم ہے جو کسانوں کو موسم کی تازہ ترین معلومات، فصلوں کی صحت، اور مناسب اقدامات کے بارے میں فوری معلومات فراہم کرتی ہے، تاکہ وہ فصلوں کے مختلف انتظامات کے حوالے سے باخبر فیصلے کر سکیں اور یوں پیداوار اور آمدنی میں اضافہ ہو۔
کسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہندوستان کے محکمہ موسیمات ایک اسکیم چلاتا ہے، جسے گرامین کرشی موسم سیوا (جی کے ایم ایس ) کہا جاتا ہے، تاکہ موسمی پیشن گوئی پر مبنی ایگرو میٹیرولوجیکل مشاورتی خدمات(اے اے ایس ) فراہم کی جا سکیں، جس میں انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر)، اسٹیٹ ایگریکلچر یونیورسٹیز(ایس اے یو) ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(آئی آئی ٹی ) وغیرہ کے ساتھ تعاون شامل ہے۔
جی کے ایم ایس کے تحت، ملک بھر میں 130 ایگرو میٹ فیلڈ یونٹس (اے ایم ایف یو) فعال ہیں جو 127 ایگرو کلائمٹک خطوں کا احاطہ کرتے ہیں اور مختلف اے اے یو، آئی آئی ٹی، آئی سی اے آراداروں وغیرہ میں واقع ہیں۔ہندوستان کے محکمہ موسیمات ضلع اور بلاک سطح پر اگلے پانچ دن کے لیے بارش، درجہ حرارت، نمی، بادل کی کثافت، ہوا کی رفتار اور سمت کے درمیانے دورانیے کے موسمی پیش گوئی فراہم کرتا ہے، ساتھ ہی موسمی ذیلی شعبے کی سطح پر اگلے ہفتے کے لیے بارش اور درجہ حرارت کا جائزہ بھی شامل ہے۔
مشاہدہ شدہ اور پیش گوئی شدہ موسم کی بنیاد پر، اے ایم ایف یوہفتے میں دو بار (ہر منگل اور جمعہ) ایگرو میٹ مشاورتی معلومات تیار کرتے ہیں، جو ان کے متعلقہ اضلاع کے لیے انگریزی اور علاقائی زبانوں میں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ معلومات کسانوں کو روزمرہ زرعی سرگرمیوں جیسے فصلوں کی اقسام اور انواع کے انتخاب، بوائی اور کٹائی کا مناسب وقت، کھاد کے استعمال، مختلف قسم کی دیگر سرگرمیوں جیسے جوتائی، گندگی صاف کرنا، آبپاشی کے مناسب وقت اور طریقے (پانی کی بچت کے طریقے شامل) وغیرہ کے لیے فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہیں، اور یہ مخصوص زرعی موسمیاتی علاقوں کی ضروریات کے مطابق ہوتی ہیں۔ جے کے ایم ایس اسکیم کے تحت ملک بھر کے تمام اہم زرعی اضلاع میں موسمیاتی معلومات، ابتدائی ہدایات اور ابتدائی وارننگ براہِ راست کسانوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔
اے اے ایس بلیٹن کے ساتھ، ہندوستان کے محکمہ موسیمات کے ریجنل میٹیرولوجیکل سینٹرز(آر ایم سی ) اور میٹیرولوجیکل سینٹرز بھی روزانہ کی موسمی پیش گوئی اور فوری جائزہ معلومات جاری کرتے ہیں۔ ایگرو میٹ فیلڈ یونٹس(اے ایم ایف یو) اثرات پر مبنی پیش گوئی (آئی بی ایف ) اور زرعی مشورے بھی تیار کرتے ہیں، جو نیشنل ویدر فورکاسٹنگ سینٹر (این ڈبلیو ایف سی ) ، نئی دہلی اور ہندوستان کے محکمہ موسیمات کےآر ایم سی اور ایم سی کی جانب سے ملک کے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اضلاع کے لیے جاری شدہ شدید موسمی وارننگز پر مبنی ہوتے ہیں۔
کسانوں، بشمول موسمیاتی لحاظ سے کمزور اضلاع کے کسانوں، کو بر وقت موسمی معلومات اور ابتدائی وارننگ براہِ راست موبائل فون پر فراہم کرنے کے لیے موسمی پیش گوئی اور ایگرو میٹ مشاورتی معلومات حقیقی وقت کے نظام یا کثیر چینل ترسیلی نظام کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں، جن میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، دوردرشن، انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس شامل ہیں اور یہ تمام اقدامات پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی ) کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
پی پی پی موڈ کے تحت تقریباً 5.56 ملین کسان موسمی پیش گوئی، وارننگز اور ایگرو میٹ مشاورتی خدمات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ شدید موسمی حالات جیسے سائیکلون، گہری ڈپریشن وغیرہ کے دوران ایس ایم ایس پر مبنی الرٹس اور وارننگ بھیجی جاتی ہیں، جن میں مناسب تدابیر بھی شامل ہوتی ہیں اور یہ کسان پورٹل کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔ٹیکنالوجیکل ترقیات نے دستیابی میں مزید بہتری لائی ہے، جس سے کسان مخصوص مقام کے لیے پیش گوئی اور مشورے موبائل ایپس جیسے ’میگھ دوت‘ اور ’موسم‘ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک ، وہاٹس ایپ وغیرہ کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہندوستان کے محکمہ موسیمات نے اپنی خدمات کو 21 ریاستی حکومتوں کے آئی ٹی پلیٹ فارمز کے ساتھ مربوط کیا ہے، اور تقریباً 15.6 ملین کسان ان ریاستی آئی ٹی پلیٹ فارمز کے ذریعے انگریزی اور علاقائی زبانوں میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔
ہندوستان کے محکمہ موسیمات نے وزارت پنچایتی راج(ایم او پی آر) کے تعاون سے حال ہی میں پنچایت سطح کی موسمی پیش گوئیاں شروع کی ہیں، جو بھارت کے تقریباً تمام گرام پنچایتوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہ پیش گوئیاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے دستیاب ہیں، جن میں e-Gramswaraj (https://egramswaraj.gov.in)، Meri Panchayat ایپ، ایم او پی آڑ کا e-Manchitra، اور آئی ایم ڈی ، ایم و ای ایس کا Mausamgram (https://mausamgram.imd.gov.in) شامل ہیں۔
یہ معلومات وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جیتندرا سنگھ نے 12 فروری 2026 کو راجیہ سبھا میں فراہم کیں۔
*****
(ش ح ۔ ع و۔ش ب ن)
U. No. 2255
(ریلیز آئی ڈی: 2227035)
وزیٹر کاؤنٹر : 7