سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پارلیمنٹ کا سوال: ڈیپ ٹیک فنڈ آف فنڈ کو عملی شکل دینا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 FEB 2026 5:00PM by PIB Delhi
مرکزی کابینہ نے 01 جولائی 2025 کو تحقیق، ترقی اور اختراع اسکیم کی منظوری دی، جس کا مقصد تحقیق و ترقی میں نجی شعبے کی شمولیت کو بڑھانا اور بلند خطرے مگر اعلیٰ اثرات کی حامل اختراعات، بشمول ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپ کے لیے مالی معاونت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت چھ برس کی مدت کے لیے 1 لاکھ کروڑ روپے کے فنڈ کا تصور کیا گیا ہے، جس میں ڈیپ ٹیک فنڈ آف فنڈز کی معاونت کی شقیں بھی شامل ہیں۔
یہ آر ڈی آئی اسکیم 03 نومبر 2025 کو معزز وزیر اعظم نے باضابطہ طور پر شروع کی تھی۔ اس کے بعد اسکیم کے نفاذ کے فریم ورک کو عملی شکل دیتے ہوئے عمل درآمد کی رہنما ہدایات، خصوصی مالی قواعد، اور درخواستوں کی دعوت کے نوٹس جاری کیے گئے۔
اس اسکیم کے تحت، کابینہ کی منظوری کے مطابق ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈ اور بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل کو نامزدگی کی بنیاد پر سیکنڈ لیول فنڈ مینیجر کے طور پر منظور کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اضافی ایس ایل ایف ایم کے انتخاب کے لیے درخواستوں کی دعوت جاری کی گئی تھی، جو 31 جنوری 2026 کو بند ہو گئی، اور اس وقت انتخابی عمل جاری ہے۔ ٹی ڈی بی نے آر ڈی آئی اسکیم کے تحت منصوبہ جاتی تجاویز کے لیے اپنی پہلی دعوت بھی 04 فروری 2026 کو جاری کر دی ہے۔
آر ڈی آئی اسکیم، بشمول مجوزہ ڈیپ ٹیک فنڈ آف فنڈز، کسی شہر یا ریاست تک محدود نہیں ہے، بلکہ منصوبوں کی معاونت ملک بھر میں طلب پر مبنی اور نتائج پر مرکوز طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہے۔ تجاویز کا جائزہ تکنیکی معیار، تزویراتی اہمیت اور ممکنہ معاشی اثرات کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔
آر ڈی آئی اسکیم کا مجموعی فنڈ چھ برس کے لیے 1 لاکھ کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے، جس کے نفاذ کے لیے مالی سال 2025–26 کے مرکزی بجٹ میں 20,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ڈیپ ٹیک فنڈ آف فنڈز کے لیے مخصوص طور پر مختص رقم پہلے سے طے شدہ نہیں ہے، بلکہ اس کا تعین طلب، تجاویز کے معیار اور نفاذ کے دوران حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ فنڈز کا استعمال چھ برس کی مدت میں اسکیم کے مرحلہ وار نفاذ کے مطابق کیا جائے گا۔
آر ڈی آئی اسکیم کے تحت جن ابھرتے ہوئے شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں توانائی کا تحفظ اور توانائی کی منتقلی بشمول موسمیاتی اقدام؛ ڈیپ ٹیکنالوجیز جیسے کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس اور خلائی ٹیکنالوجیز؛ مصنوعی ذہانت اور اس کے زرعی، صحت اور تعلیمی شعبوں میں اطلاقات؛ بایوٹیکنالوجی، بایومینوفیکچرنگ، سنتھیٹک بایولوجی، دواسازی اور طبی آلات اور ڈیجیٹل معیشت بشمول ڈیجیٹل زراعت شامل ہیں۔ یہ اسکیم تزویراتی ضروریات، معاشی تحفظ اور آتم نربھرتا کے لیے اہم ٹیکنالوجی، نیز عوامی مفاد میں ضروری سمجھے جانے والے دیگر شعبوں یا ٹیکنالوجیز کی بھی معاونت کرے گی۔
اسی تناظر میں، کابینہ نوٹ میں شامل منظوریوں کے مطابق ایک این آئی اے جاری کیا گیا ہے، جس کے ذریعے اہل اداروں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ اس این آئی اے میں معیار و لاگت پر مبنی انتخاب کے طریقۂ کار کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، نیز اہلیت کی تفصیلی شرائط، جانچ کے پیمانے، وزن (ویٹیج) اور انتخاب کے معیارات بھی درج کیے گئے ہیں، تاکہ انتخابی عمل میں شفافیت اور معروضیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
این آئی اے کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں کا جائزہ مقررہ کیو سی بی ایس فریم ورک کے مطابق لیا جا رہا ہے۔ جانچ کے بعد ایگزیکٹو کونسل موزوں ایس ایل ایف ایم کی سفارش بااختیار سیکرٹریز کے گروپ کو حتمی منظوری کے لیے پیش کرے گی۔ یہ منظم انتخابی طریقۂ کار ڈیپ ٹیک اور اعلیٰ اثرات کی حامل تحقیق و ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے سرمائے کو متحرک اور مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے مقصد سے انصاف، شفافیت اور آر ڈی آئی اسکیم کے اہداف سے ہم آہنگی کو یقینی بناتا ہے۔
*****
ش ح۔ ف ش ع
U: 2182
(ریلیز آئی ڈی: 2226743)
وزیٹر کاؤنٹر : 3