سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پارلیمانی سوال: سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق اسکیمیں اور روزگار / خود روزگار کے منصوبے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 FEB 2026 1:35PM by PIB Delhi
سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی)، اختراع، صنعت کاری، ٹیکنالوجی کے فروغ اور ہمہ گیر سماجی و اقتصادی ترقی کو تقویت دینے کے مقصد سے ملک بھر میں مرکزی شعبے کی مختلف اسکیمیں نافذ کر رہی ہے۔
ان اسکیموں پر عمل درآمد ایک مسابقتی، تجویز پر مبنی طریقۂ کار کے تحت کیا جاتا ہے، اور ان میں ریاست یا ضلع کی بنیاد پر بجٹ مختص نہیں کیا جاتا۔ دادرا اور نگر حویلی سمیت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ادارے، محققین، اسٹارٹ اپس اور اختراع کار، اسکیموں کے مقررہ رہنما خطوط کے مطابق درخواست دینے کے اہل ہیں۔ نافذ کی جانے والی اہم اسکیمیں درج ذیل ہیں:
تحقیق، ترقی اور اختراع (آر ڈی آئی) اسکیم، محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے تحت نافذ کی جا رہی ہے، جس کا مقصد تحقیق و ترقی میں نجی شعبے کی شراکت کو فروغ دینا ہے۔ یہ اسکیم ہائی رسک، ہائی امپیکٹ آر اینڈ ڈی منصوبوں اور اسٹارٹ اپس کے لیے کم شرحِ سود اور طویل مدتی مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت توانائی کے تحفظ اور آب و ہوا سے متعلق اقدامات جیسے ابھرتے ہوئے شعبے؛ کوانٹم، روبوٹکس اور خلا جیسی گہری ٹیکنالوجیز؛ مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز؛ بایوٹیکنالوجی اور بایو مینوفیکچرنگ؛ دواسازی اور طبی آلات؛ ڈیجیٹل معیشت، اور ملک کی اسٹریٹجک اور اقتصادی سلامتی کے لیے اہم دیگر ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) نے نیشنل کوانٹم مشن (این کیو ایم) کے تحت کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم کمیونیکیشن، کوانٹم سینسنگ اور کوانٹم میٹریلز کے شعبوں میں مقامی صلاحیتوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ کوانٹم ٹیکنالوجیز میں مضبوط آر اینڈ ڈی اور ہنرمند افرادی قوت پر مشتمل ایک مستحکم ماحولیاتی نظام کے قیام میں معاونت فراہم کی ہے۔
ڈی ایس ٹی نے تعلیمی اور آر اینڈ ڈی اداروں میں جدید تحقیقی سہولیات کو مستحکم کرنے کے لیے تحقیقی بنیادی ڈھانچے سے متعلق مختلف اسکیموں کی حمایت کی ہے، جن میں فنڈ فار امپروومنٹ آف ایس اینڈ ٹی انفراسٹرکچر (ایف آئی ایس ٹی)، یونیورسٹی ریسرچ اینڈ سائنٹفک ایکسی لینس (پی یو آر ایس ای) کا فروغ، نفیس تجزیاتی آلات کی سہولیات (ایس اے آئی ایف)، اور جدید تجزیاتی و تکنیکی امدادی ادارے (ایس اے ٹی ایچ آئی) شامل ہیں۔
ڈی ایس ٹی کے نیشنل انیشی ایٹو فار ڈیولپمنٹ اینڈ ہارنیسنگ انوویشنز (این آئی ڈی ایچ آئی) پروگرام کے تحت پروٹو ٹائپنگ، انکیوبیشن، سیڈ فنڈنگ اور انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ سرگرمیوں کے ذریعے اختراع پر مبنی اور ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹارٹ اپس کی معاونت کی گئی ہے۔ ندھی پریاس پروگرام کے تحت، خواتین کاروباریوں سمیت اختراع کاروں اور کاروباری افراد کو تصور (کانسیپٹ) اور پروٹو ٹائپ کی تیاری کے ثبوت کے لیے رہنمائی اور مالی مدد فراہم کی جاتی ہے، جس سے انہیں اپنے کاروبار کے قیام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ این آئی ڈی ایچ آئی ای آئی آر (انٹرپرینیور اِن ریزیڈنس) پروگرام کے تحت بھی کاروباری رہنمائی اور مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
طلبہ کو انٹرپرینیورشپ کے فروغ، کاروبار کے قیام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
انوویشن اِن سائنس پرسوئٹ فار انسپائر (اِنسپائر) پروگرام کے تحت انسپائر ملین مائنڈز اگمینٹنگ نیشنل ایسپیریشن اینڈ نالج (ایم اے این اے کے)، انسپائر اسکالرشپ فار ہائر ایجوکیشن (ایس ایچ ای) اور وگیان جیوتی جیسی پہلیں کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر بنیادی اور قدرتی علوم میں تعلیم کے حصول، نیز انجینئرنگ، میڈیسن، زراعت، ویٹرنری سائنسز اور دیگر بنیادی و اطلاقی سائنسی شعبوں میں تحقیقی کیریئر کی تشکیل کے لیے باصلاحیت نوجوانوں کو اسکالرشپس اور فیلوشپس کے ذریعے مدد فراہم کر رہی ہیں۔
آب و ہوا، توانائی اور پائیدار ٹیکنالوجی (سی ای ایس ٹی) پروگرام کے تحت قابلِ تجدید توانائی، ہائیڈروجن اور فیول سیلز، جدید توانائی ذخیرہ کاری، کاربن کیپچر اور استعمال، میتھین کے اخراج میں کمی، اور ان شعبوں کے لیے ٹیکنالوجیز پر تحقیق و ترقی کی حمایت کی گئی ہے جن میں اخراج کم کرنا مشکل ہے۔
نیشنل مشن آن اِنٹر ڈسپلنری سائبر فزیکل سسٹمز (این ایم–آئی سی پی ایس) کے تحت مصنوعی ذہانت (اے آئی)، مشین لرننگ (ایم ایل)، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی)، روبوٹکس، سائبر سکیورٹی اور متعلقہ شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ممتاز اداروں میں ٹیکنالوجی اِنویشن ہبز (ٹی آئی ایچ) قائم کیے گئے ہیں۔
محکمۂ بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) ملک بھر میں بایوٹیکنالوجی ریسرچ، اِنویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ (بایو رائیڈ) اسکیم کے ذریعے تحقیق و ترقی کی معاونت کرتا ہے، جس میں بایوٹیکنالوجی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (آر اینڈ ڈی)، صنعتی اور انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ (آئی اینڈ ای ڈی)، نیز بایو مینوفیکچرنگ اور بایو فاؤنڈری شامل ہیں۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران مخصوص اسکیموں کے تحت براہِ راست فائدہ اٹھانے والے افراد کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ–۱ میں فراہم کی گئی ہیں۔
حکومت نے بالخصوص دیہی، امنگوں والے اور پسماندہ علاقوں میں مؤثر نفاذ، بہتر رسائی اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے متعدد مثبت اقدامات کیے ہیں۔ ذیل میں دی گئی سرگرمیوں کی معاونت کی گئی ہے:
- درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کی مجموعی ترقی کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع (ایس ٹی آئی) مراکز کا قیام، جس کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور معیارِ زندگی میں بہتری لانا ہے۔
- تحقیق و ترقی کی اسکیموں تک رسائی بڑھانے کے لیے نچلی سطح پر ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی، عملی مظاہرے اور اپنانے کے پروگرام۔
- صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومت کے باہمی اشتراک سے ترجمہیاتی تحقیق اور مقامی اختراعات کے فروغ کے لیے یونیورسٹیوں میں ٹیکنالوجی اِن ایبلنگ سینٹرز (ٹی ای سی) کا قیام۔
- متنوع سماجی و اقتصادی پس منظر رکھنے والے افراد کی شمولیت کو ممکن بنانے کے لیے صلاحیت سازی، ہنر مندی کے فروغ اور کاروباری تربیت۔
- این آئی ڈی ایچ آئی جامع ٹیکنالوجی بزنس اِنکیوبیٹرز (این آئی ڈی ایچ آئی–آئی ٹی بی آئی) پروگرام، جس کا مقصد ٹائر–۲ اور ٹائر–۳ شہروں میں صنعت کاری کو فروغ دینا ہے، اور جس میں جغرافیہ، جنس اور خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
ضمیمہ–۱
ریاست کے لحاظ سے براہِ راست مستفیدین کی تعداد
|
شمارنمبر
|
ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نام
|
مخصوص پروگرام (DST) کے براہ راست مستفید ہونے والوں کی تعداد
|
|
انٹرپرینیور- اندرون خانہ (NIDHI-EiR)
پروگرام
|
ندھی- پرایاس
پروگرام
|
حوصلہ افزائی کریں۔
پروگرام (اسکالرشپ، فیلوشپ اور فیکلٹی
رفاقتیں)
|
|
1۔
|
آندھرا پردیش
|
1
|
21
|
288
|
|
2.
|
اروناچل
پردیش
|
--
|
--
|
15
|
|
3۔
|
آسام
|
--
|
10
|
691
|
|
4.
|
بہار
|
--
|
13
|
1270
|
|
5۔
|
چھتیس گڑھ
|
--
|
2
|
2360
|
|
6۔
|
گوا
|
3
|
1
|
95
|
|
7۔
|
گجرات
|
11
|
52
|
745
|
|
8۔
|
ہریانہ
|
--
|
21
|
734
|
|
9.
|
ہماچل
پردیش
|
2
|
2
|
888
|
|
10۔
|
جھارکھنڈ
|
--
|
2
|
194
|
|
11۔
|
کرناٹک
|
5
|
81
|
964
|
|
12.
|
کیرالہ
|
3
|
41
|
3093
|
|
13.
|
مدھیہ
پردیش
|
--
|
9
|
3401
|
|
14.
|
مہاراشٹر
|
11
|
71
|
1797
|
|
15۔
|
منی پور
|
2
|
--
|
636
|
|
16۔
|
میگھالیہ
|
--
|
--
|
143
|
|
17۔
|
میزورم
|
--
|
--
|
51
|
|
18۔
|
ناگالینڈ
|
--
|
--
|
73
|
|
19.
|
اوڈیشہ
|
3
|
32
|
920
|
|
20۔
|
پنجاب
|
--
|
5
|
535
|
|
21۔
|
راجستھان
|
3
|
23
|
13052
|
|
22.
|
سکم
|
--
|
--
|
10
|
|
23.
|
تمل ناڈو
|
23
|
99
|
762
|
|
شمار نمبر
|
ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نام
|
مخصوص پروگرام (DST) کے براہ راست مستفید ہونے والوں کی تعداد
|
|
انٹرپرینیور- اندرون خانہ (NIDHI-EiR)
پروگرام
|
ندھی- پرایاس
پروگرام
|
حوصلہ افزائی کریں۔
پروگرام (اسکالرشپ، فیلوشپ اور فیکلٹی فیلوشپ)
|
|
24.
|
تلنگانہ
|
5
|
44
|
490
|
|
25۔
|
تریپورہ
|
--
|
--
|
42
|
|
26.
|
اتراکھنڈ
|
--
|
4
|
2089
|
|
27۔
|
اتر پردیش
|
12
|
29
|
29246
|
|
28.
|
مغربی بنگال
|
3
|
11
|
3875
|
|
29.
|
انڈمان اور
نکوبار جزائر
|
--
|
--
|
4
|
|
30۔
|
چندی گڑھ
|
--
|
1
|
136
|
|
31.
|
دادرہ اور
نگر حویلی اور دامن اور
دیو
|
--
|
--
|
2
|
|
32.
|
جموں اور
کشمیر
|
--
|
4
|
284
|
|
33.
|
دہلی
|
2
|
14
|
775
|
|
34.
|
پانڈیچری
|
--
|
--
|
20
|
یہ معلومات سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیرِ اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلا کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بدھ کے روز لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔
***
UR-2169
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2226726)
وزیٹر کاؤنٹر : 5