وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
بڑے پیمانے پر مشینی ماہی گیری کی سرگرمیوں کے باعث حد سے زیادہ مچھلیوں کے شکار کے اثرات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 FEB 2026 3:10PM by PIB Delhi
ملک میں اس وقت مجموعی طور پر 64,414 مشینی ماہی گیری کے جہاز موجود ہیں۔ ریاست وار مشینی ماہی گیری کے جہازوں کی تعداد درج ذیل ہے: انڈمان و نکوبار جزائر (200)، آندھرا پردیش (1,521)، دمن و دیپ (1,856)، گوا (2,822)، گجرات (18,559)، کرناٹک (4,845)، کیرالہ (3,748)، لکشدیپ (17)، مہاراشٹر (20,062)، اوڈیشہ (1,730)، پڈوچیری (750)، تمل ناڈو (5,029)، اور مغربی بنگال (3,275)۔
(b): گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سمندری پانیوں سے حاصل ہونے والی سالانہ مجموعی مچھلیوں کی پیداوار کی سال وار اور ریاست وار تفصیلات ضمیمہ میں فراہم کی گئی ہیں، جس میں زیادہ تر حصہ مشینی ماہی گیری کے جہازوں کی جانب سے حاصل کیا گیا ہے۔
(c): آئی سی اے آر–سنٹرل میرین فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایم ایف آر آئی) نے حال ہی میں بھارتی سمندری پانیوں میں اہم تجارتی مچھلیوں کے ذخائر کی حالت کا جائزہ لیا ہے۔ آئی سی اے آر–سی ایم ایف آر آئی کی جانب سے کیے گئے مطالعات کے مطابق مچھلیوں کے ذخائر اچھی حالت میں ہیں، اور سال 2022 کے دوران مختلف علاقوں میں جانچے گئے 135 مچھلیوں کے ذخائر میں سے 91.1 فیصد کو پائیدار قرار دیا گیا۔
(d): محکمہ ماہی گیری، حکومت ہند وقتاً فوقتاً نمایاں تحقیقی و ترقیاتی اداروں جیسے آئی سی اے آر–سنٹرل میرین فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور فشری سروے آف انڈیا کے ذریعے قومی سمندری ماہی گیری مردم شماری کراتا رہا ہے۔ اس کا مقصد سمندری ماہی گیری کے شعبے کے سماجی و معاشی پہلوؤں سے متعلق جامع، درست اور بروقت اعداد و شمار حاصل کرنا ہے، جو اس شعبے کی پائیدار ترقی اور مؤثر حکمرانی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ یہ شعبہ ملک میں دس لاکھ سے زائد خاندانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔ پانچویں قومی سمندری ماہی گیری مردم شماری 2025 محکمہ ماہی گیری، حکومت ہند اور آئی سی اے آر–سی ایم ایف آر آئی کے اشتراک سے انجام دی جا رہی ہے۔ اس مردم شماری کا باضابطہ آغاز 21 نومبر 2024 کو عالمی یومِ ماہی پروری کے موقع پر کیا گیا۔
(e): پائیدار ماہی گیری کے طریقوں کے فروغ، مچھلیوں کے ذخائر میں اضافہ اور سمندری تحفظ کے پیش نظر، ملک کے خصوصی اقتصادی زون میں علاقائی پانیوں سے باہر دونوں ساحلوں پر ہر سال 61 دن کے لیے ماہی گیری پر یکساں پابندی عائد کی جاتی ہے (یعنی مشرقی ساحل پر 15 اپریل سے 14 جون تک اور مغربی ساحل پر 1 جون سے 31 جولائی تک)۔ اسی طرح ساحلی ریاستیں/ مرکز زیر انتظام علاقے بھی اپنے علاقائی پانیوں میں محکمہ ماہی گیری، حکومت ہند کی جانب سے ای ای زیڈ میں نافذ یکساں پابندی کے مطابق ماہی گیری پر پابندی نافذ کرتے ہیں۔ ماہی گیری پر پابندی/کم سیزن کے دوران سماجی و معاشی طور پر پسماندہ فعال روایتی ماہی گیروں کے لیے روزگار اور غذائی معاونت، نیز فعال ماہی گیروں کے لیے گروپ حادثاتی بیمہ اسکیم، پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت فراہم کی جاتی ہے۔
پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) میں ایک جزو ”100 ساحلی ماہی گیر دیہات کی موسمیاتی لحاظ سے لچکدار ساحلی ماہی گیر دیہات کے طور پر ترقی“ بھی شامل ہے، جس کے تحت مختلف ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں میں ان دیہات کو معاشی طور پر متحرک ماہی گیر بستیوں میں تبدیل کرنے کے لیے متعدد سرگرمیوں پر مشتمل معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچے اور معاشی سرگرمیوں کی ایسی سہولتیں شامل ہیں جو ان دیہات کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
11-02-2026
U: 2180
(ریلیز آئی ڈی: 2226679)
وزیٹر کاؤنٹر : 4