سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
سائنسی ابلاغ اور پالیسی تحقیق کے فروغ کے لیے آئی این ایس اے اور این آئی ایس سی پی آر کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 FEB 2026 6:14PM by PIB Delhi
انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی (آئی این ایس اے) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کمیونیکیشن اینڈ پالیسی ریسرچ (سی ایس آئی آر- این آئی ایس سی پی آر) کے درمیان 10 فروری 2026 کو آئی این ایس اے، نئی دہلی میں ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کا مقصد سائنسی ابلاغ اور شواہد پر مبنی سائنس پالیسی تحقیق کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینا اور بھارت میں شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی کو مستحکم بنانا ہے۔
تقریب کا آغاز ڈاکٹر برجیش پانڈے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، آئی این ایس اے کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے سابق سینئر مشیر ڈاکٹر اکھیلیش گپتا نے مفاہمت نامے کے پس منظر اور اس کی ضرورت پر روشنی ڈالی اور سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع (ایس ٹی آئی) سے متعلق پالیسی تحقیق کو آگے بڑھانے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
ڈاکٹر گیتھا وانی رایا سم، ڈائریکٹر، سی ایس آئی آر- این آئی ایس سی پی آر نے دونوں اداروں کے مابین تال میل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری سائنسی ابلاغ، پالیسی تحقیق اور علمی سرگرمیوں میں موجود صلاحیتوں کو یکجا کرکے ایس ٹی آئی پالیسی تحقیق کے میدان میں مؤثر نتائج پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
آئی این ایس اے کے نائب صدر (پالیسی) پروفیسر انوراگ اگروال نے اس امر پر زور دیا کہ بھارت کو ایک پائیدار اور مستقبل سے ہم آہنگ سائنس اور اختراعی نظام کی جانب گامزن کرنے کے لیے مؤثر اور دور اندیش پالیسیوں کی تشکیل نہایت ضروری ہے۔
پروفیسر شیکھر سی۔ مانڈے، صدر آئی این ایس اے، نے دونوں اداروں کی مشترکہ علمی و ادارہ جاتی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تیز رفتار سائنسی اور تکنیکی تبدیلیوں کے اس دور میں یہ اشتراک غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع (ایس ٹی آئی) کی ترقی کو سماجی فلاح اور انسانی بقا کے وسیع تناظر میں درست سمت دینے کے لیے مضبوط پالیسی بنیادیں ناگزیر ہیں۔
ڈاکٹر وی۔ کے۔ سرسوت، رکن، نیتی آیوگ، نے اس شراکت داری پر دونوں اداروں کو مبارکباد پیش کی اور اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ ایسی پالیسی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جو انقلابی اور جدید ٹیکنالوجیز کو ذمہ دارانہ اور انسان دوست انداز میں اپنانے میں معاون ہوں۔ انہوں نے پالیسیوں کی مؤثریت جانچنے اور عمل درآمد کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے آزمائشی مطالعات، ڈیجیٹل ٹوئنز اور اسی نوعیت کے دیگر جدید آلات و طریقوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
اس مفاہمت نامے کا مقصد مشترکہ پالیسی تحقیقی مطالعات، مشترکہ اشاعتوں، آزمائشی منصوبوں، صلاحیت سازی کے اقدامات، عوامی رابطہ پروگراموں اور متعلقہ فریقین سے مشاورت کو فروغ دینا ہے۔ یہ معاہدہ حکومتی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں، تھنک ٹینکس، محققین اور نوجوان اسکالرز کے ساتھ روابط کو بھی تقویت دے گا تاکہ بھارت کے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع (ایس ٹی آئی) کے پالیسی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اس شراکت داری کے ذریعے آئی این ایس اے اورسی ایس آئی آر- این آئی ایس سی پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ باہمی تحقیق، علم کے تبادلے اور قومی و عالمی سطح پر مکالمے کے ذریعے مضبوط، جامع اور مستقبل بین سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع (ایس ٹی آئی) پالیسیوں کو فروغ دیتے رہیں گے۔
******
ش ح۔ م ع۔ م ر
U-NO. 2194
(ریلیز آئی ڈی: 2226638)
وزیٹر کاؤنٹر : 7